Wednesday, 24 August 2016

اشتہارات اور دوستیاں۔۔۔ایک انکشافاتی تحریر


اشتہارات اور دوستیاں۔۔۔ایک انکشافاتی تحریر


یہ جولائی 2007ء کی بات ہے۔ لاہور کا ایک خوبرو نوجوان شہزاد ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اخبار کے ورق الٹتے ہوئے اچانک اس کی نظر کلاسیفائیڈ اشتہارات پر پڑی۔ پھر ان میں سے ایک اشتہار پر اس کی نگاہیں گڑ کر رہ گئیں:"دوستیاں کیجئے۔۔۔۔کامیاب بنیے" اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ ہر نوجوان دیے گئے رابطہ نمبروں پر کال کر کے نئے دوست تلاش کر سکتا ہے۔جو لڑکے بھی ہوسکتے ہیں اور لڑکیاں بھی۔۔۔۔۔ یہ نئے تعلقات اس کی زندگی میں نئی جان ڈال دیںگے۔
شہزاد ان دنوں ویسے بھی فارغ تھا۔اس کی زندگی بے مزہ گزر رہی تھی۔ایسے اشتہارات اس نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر اب اس نے پہلی بار انہیں آزمانے کا ارادہ کیا۔اس نے اشتہار میں دیے گئے نمبروں پر رابطہ کیا۔اس رابطے کے نتیجے میں اسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کرایا گیا۔ ان کے فون نمبرز دیے گئے۔ شہزاد نے ان میں سے ایک لڑکی"روحی"کو دوستی کے لیے منتخب کیا اور اس کے نمبر پر کال کی۔دونوں میں ہیلو ہائے ہوئی۔ پھر باقاعدہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہوا۔لڑکی نے خود بتایا کہ وہ لاہور کے فلاں جوس سینٹر میں مل سکتی ہے۔
شہزاد وہاں پہنچ گیا۔ اس طرح روحی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات نے اسے ایک نئی دنیا کی سیر کرائی۔ عیش و عیاشی کی دنیا ، رنگ رلیوں کی دنیا ، جہاں شرم و حیا نامی کوئی شے نہیں ہوتی۔روحی اس دنیا میں داخلے کا دروازہ تھی۔ آگے لڑکیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ شہزاد کی دوستیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہوش تب آیا جب اسے جسم میں شدید توڑ پھوڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا تو پتا چلا کہ وہ ایڈز کا مریض بن چکا ہے۔ شہزاد کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا علاج کراتا۔ تب انہیں گروہ کے سرکردہ افراد نے علاج کی پیش کش کی مگر شرط یہ تھی کہ وہ ان کے گروہ کے لیے کام کرے۔ شہزاد کو موت سامنے نظر آرہی تھی۔ وہ ہر خطرناک سے خطرناک اور ناجائز سے ناجائز کام کے لیے تیار ہوگیا۔ ویسے بھی حلال و حرام کا فرق تو وہ کب کا بھول چکا تھا۔ گروہ کے منتظمین خود سات پردوں میں تھے۔ وہ شہزاد کو اپنی لڑکیوں کے ذریعے مختلف کام بتاتے تھے۔ یہ کام عجیب و غریب تھے۔ شہزاد ایک پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان تھا۔جلد ہی وہ گروہ کے کاموں کو خاصی حد تک سمجھ گیا۔ گروہ کے منصوبے آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہونے لگے۔ یہ منصوبے بے حد خوفناک تھے۔ یہ گروہ ملک میں ایڈز کا وائرس پھیلا رہا تھا۔ ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو فروغ دے رہا تھا۔ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن چکے تھے۔ آزاد خیال نوجوان ، ہسپتالوں کے مریض اور جیلوں کے قیدی اس کا خاص ہدف تھے۔ آزاد خیال نوجوانوں کو دوستی کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا تھا۔ یہ اشتہارات میڈیا میں مختلف عنوانات سے آرہے تھے۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کا تعلق جن لڑکیوں سے ہوتا تھا وہ ایڈز اور دوسری مہلک بیماری میں مبتلا تھیں۔ ان سراپا بیمار عورتوں کو مختلف این جی اوز سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان عورتوں کی بیماری اس درجے کی تھی کہ ان کے ساتھ اختلاط سے بھی انسان ایڈز میں مبتلا ہو سکتا تھا، مگر گروہ کے لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ان کا انتظام اتنا پختہ تھا کہ لڑکی سے پہلی ملاقات کے وقت نوجوان جو مشروب (جوس، کولڈ ڈرنک یا شراب) پیتا تھا، اس میں پہلے سے خطرناک جراثیم ملا دیے جاتے تھے۔ ایڈز کی کئی مریضائیں معقول علاج ، بہتر معاوضے اور عیش و عشرت کی چند گھڑیوں کے عوض اس گروہ کے لیے یہ کام کرتی تھیں ، جبکہ بہت سی عورتیں مجبور ہو کر یہ کام کر رہی تھیں کیونکہ ان کے بچے اس گروہ کے قبضے میں تھے۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ احکام کی تعمیل کرتی رہیں، ایڈز پھیلاتی رہیں تو ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر ان کا مستقبل شاندار بنا دیا جائے گا۔
ان بے فکرے نوجوانوں کے علاوہ ہسپتالوں ، پاگل خانوں اور جیل خانوں کے مریض ان کا دوسرا ہدف تھے۔ یہ گروہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی لاکھوں سرنجیں پھیلا رہا تھا جو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے خون سے آلودہ ہوتی تھیں۔ کئی بڑے ہسپتالوں میں اس گروہ کے ایجنٹ موجود تھے۔ وہاں آنے والی سرنجوں میں یہ ایڈز اور ہیپا ٹائٹس زدہ سرنجیں ایک مخصوص تناسب سے ملی ہوتی تھیں۔ اتنی سرنجوں کو آلودہ کرنے کے لیے گروہ نے پاگل خانوں میں سرگرم اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاگل افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ان کو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا کرنے کے بعد ان کا خون بڑی مقدار میں نکالتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
گروہ کا تیسرا ہدف جیل کے قیدی تھے۔ ان میں سے کم مدت کی سزا پانے والے حد درجے منفی اور لادینی ذہنیت رکھنے والے قیدیوں کو خاص تجزیے کے بعد منتخب کرکے علاج کے بہانے ایڈز زدہ کر دیا جاتا تھا۔ جب یہ قیدی رہا ہوئے تو بیماری کے باعث ان کا کوئی مستقبل نہ ہوتا تھا۔یہ گروہ ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنا رضاکار بنا لیتا تھا۔ یہ قیدی ویسے ہی تخریبی ذہن کے ہوتے تھے ۔ اپنی محرومیوں کا دنیا سے بدلہ لینے کےلیے وہ ایڈز پھیلانے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔انہیں کانوں کان یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ انہیں ایڈز میں مبتلا کرنے والے "مہربان" یہی ہیں۔
گروہ کا ایک خاص کام دوسرے لوگوں کی اسناد کو اپنے کارکنوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے اخبارات میں تبدیلی نام اور ولدیت کے اشتہارات شائع کردیے جاتے۔ گروہ کے کسی کارکن کو کسی ملازمت کے لیے جو مطلوبہ سند درکار ہوتی ، اس کا انتظام اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے کمپیوٹر پر اپنے کارکن کی ولدیت سے ملتے جلتے نام والی ولدیت سرچ کی جاتی۔مثلاً: ظفر ولد جمیل کو کہیں بھرتی کرانا ہوتا تو نیٹ سے جمیل نام کی ولدیت رکھنے والے افراد کی فہرست حاصل کر لی جاتی۔پھر ظفر کا تبدیلئ نام کا اشتہار شائع کرا کے تبدیل کردیا جاتا۔اس طریقے سے گروہ کے ان گنت افراد کو ڈپلی کیٹ اسناد دلوا کر پولیس ، خفیہ ایجنسیوں اور فوج میں بھرتی کیا جا رہا تھا۔جیل خانوں ، ہسپتالوں اور پاگل خانوں میں بھی ان کی خاصی تعداد پہنچا دی گئی تھی۔
گروہ کی آمدن کے کئی ذرائع تھے۔ شہزاد کو اتنا معلوم ہوسکا کہ بڑی گرانٹ اسے باہر سے ملتی ہے۔ دیگر ذرائع خفیہ تھے۔ البتہ ایک ذریعہ آمدن بہت واضع تھا۔ وہ ایڈز اور دوسرے مہلک امراض کی ادویہ کی تجارت کا۔ ایک طرف تو خود یہ گروہ ان امراض کو پھیلا رہا تھا اور دوسری طرف ان کی ادویات منہ مانگے داموں فروخت کر کے بے تحاشہ دولت کما رہا تھا۔
ایک مدت تک شہزاد بھی اپنا دین و ایمان بھول کر اس گروہ کے لیے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل ہو گیا۔ تب ایک دن گروہ کے سرکردہ افراد نے اسے طلب کیا اور حیرت انگیز حد تک پرکشش مراعات کی پیش کش کی مگر ساتھ ہی ایک غیر متوقع مطالبہ بھی کیا۔
"تم قادیانی بن جاؤ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مان لو "شہزاد ہکا بکا رہ گیا۔ آج اسے معلوم ہوا کہ یہ گروہ قادیانی ہے۔ اس نے سوچنے کی مہلت طلب کی اور اس کے بعد مزید کھوج میں لگ گیا۔ اس جستجو میں گروہ کی ایک پرانی کارکن"روبینہ"نے اس کی مدد کی۔ روبینہ نے جو انکشافات کیے وہ شہزاد کےلیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اس نے بتایا:"بلاشبہ یہ قادیانی گروہ ہے مگر اکیلا نہیں۔ یہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ کام ایک وسیع جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ اسے ہم حیاتیاتی جنگ کہہ سکتے ہیں"
قارئین ! شہزاد کی یہ سچی کہانی پڑھ کر میں لرز گیا ہوں۔ میں اس پر یقین نہ کرتا شاید آپ بھی اسے سچ ماننے میں متذبذب ہوں۔ کیونکہ یہ بات حلق سے اُترنا واقعی مشکل ہے کہ آیا کوئی گروہ بلا تفریق لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کو اس طرح خفیہ انداز میں قتل کرنا کیوں چاہے گا؟امریکا کی جنگ تو مجاہدین سے ہے۔ قادیانیوں کی لڑائی تو علماء اور ختمِ نبوت والوں سے ہے۔ انہیں عوام کے اس قتلِ عام سے کیا حاصل ہوگا؟شہزاد کی کہانی میں اس کا جواب نہیں ملتا، مگر اس کا جواب خود یورپی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں سے مل سکتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت یورپ اور امریکا میں انسانی آبادی تیزی سے نمٹنے کا خطرہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے۔ وہاں کے"فری سیکس"معاشرے میں اب کوئی عورت ماں بننا چاہتی ہے نہ کوئی مرد باپ۔ تقریباً ہر فرد کا یہ ذہن بن چکا ہے جب جنسی تسکین کے لیے آزاد راستے موجود ہیں تو شادی کا بندھن اور بچوں کا جھنجھٹ سر کیوں لیا جائے؟ اس بظاہر پُر فریب خیال کے پیچھے اجتماعی خود کشی کا طوفان چلا آرہا ہے۔ جس قوم کے اکثر لوگ بچے پیدا نہ کرنا چاہتے ہوں۔ وہاں شرح پیدائش کیوں کم نہ ہوگی؟چنانچہ وہاں اب آبادی تیزی سے نمٹنے لگی ہے۔سابق امریکی صدارتی اُمیدوار پیٹرک جے بچا چن نے واضح طور پر لکھا ہے:"2050ء تک یورپ سے دس کروڑ افراد صرف اس لیے کم ہوجائیں گے کہ متبادل نئی نسل پیدا نہیں ہوگی۔"اس نے لکھا ہے:"2050ء تک جرمنی کی آبادی8 کروڑ سے گھٹ کر 5 کروڑ 90 لاکھ رہ جائے گی۔ اٹلی کی آبادی 5کروڑ سے کم ہو کر صرف 4 کروڑ رہ جائے گی۔ اسپین کی آبادی میں 25 فیصد کمی ہو جائے گی۔"
یہ وہ صورتِ حال ہے جس سے گھبرا کر مغربی دنیا کی حکومتیں عوام کی افزائش نسل کی ترغیبات دینے پر مجبور ہو گئی ہیں مگر کتے بلیوں کی طرح آزادانہ جنسی ملاپ کے عادی گورے اب کسی بھی قیمت پر یہ آزادی کھونا نہیں چاہتے۔ کوئی بڑے سے بڑا انعام انہیں بچے پالنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بات درجہ یقین کو پہنچ گئی ہے کہ اس صورتِ حال کا تدارک نہ ہونے کے باعث 50، 60 سال بعد دنیا میں عیسائی اقلیت میں رہ جائیں گے اور کرۂ ارض پر 60 سے 65 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہوگی جو اپنی نسل مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ خود یورپی ممالک میں کئی بڑے بڑے شہروں میں مسلم آبادی 50 فیصد کے لگ بھگ آجائے گی۔ اس صورتِ حال میں مغربی طاقتوں نے اپنے ہاں افزائش نسل سے زیادہ توجہ مسلم دنیا کی نسل کشی پر دینا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو اس مقصد کے لیے پہلا ہدف اس لیے بنایا گیا ہے کہ یہ مسلم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے تین بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ پھر یہاں کی آبادی اپنی اسلام پسندی ، علماء و مدارس کی کثرت اور جہادی پس منظر کی وجہ سے پہلے ہی مغرب کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مغرب کے مددگار قادیانیوں کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔ چنانچہ یہودی لابی اس مقصد کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے قادیانی اس کے شریک کاربن گئے ہیں۔ شہزاد جیسے ہزاروں لڑکے اور روحی جیسی ہزاروں لڑکیاں ان کے چنگل میں ہیں۔ اپنے ایڈز زدہ جسموں کےساتھ وہ طوعاً و کرہاً ان کے لیےکام کر رہے ہیں۔
شہزاد کے بیان کے مطابق قادیانی گروہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کے اس تعاون کو پاکستان کے سیکیورٹی اہداف کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ جراثیم زدہ لڑکیوں کا نیٹ ورک ملٹری فورسز اور دوسرے خفیہ اداروں کے محب وطن افراد تک پھیلانے کی کوششیں پوری سرگرمی سے جاری ہیں۔جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔
مجھے یہ حساس ترین معلومات دیتے ہوئے شہزاد نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ قادیانیوں نے اسے مرزا پر ایمان لانے کی پیشکش کر کے اس کی سوئی ہوئی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ شہزاد نے ان کی پیش کش ان کے منہ پردے ماری اور اس گروہ کی جڑوں کو کھود کر ان کا کچا چٹھا صحافی برادری تک پہنچا دیا۔ شہزاد اپنا کام کرچکا ، اب اس کاجو بھی انجام ہو وہ بھگتنے کے لیے تیار ہے۔ میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے یہ حقائق آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ہم چیف جسٹس ، چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بطور خاص گزارش کرتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیقات کرکے پاکستانیوں کی نسل کشی کے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنائیں۔ ورنہ مستقبل میں جہاں آبادی سے محروم یورپ و امریکا خودکشی کریں گے وہاں پاکستان بھی لق و دق صحرا بن کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس برے وقت سے پہلے ہمیں سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ دوستو سے گزارش ہے کہ اخبارات اور چینلوں پر آنے والے دوستی کے اشتہارات پر نظر رکھیں اور ان کے خطرات سے اپنے متعلقہ احباب کو خبردار کریں۔"​
(بحوالہ: دجال، عالمی دجالی ریاست، ابتدا سے انتہا تک)

Thursday, 16 January 2014

Frustrated Muslim Youth Crys Out


Frustrated Muslim Youth Crys Out...Must Watch!!!

Unfortunately, current social situation is so bad that a Muslim who wants to explore Islam and wants to achieve their goals of life is a tragedy today.


Another Link Of  Video

http://vimeo.com/83058962

Sunday, 29 December 2013

Urdu Islamic Book.................دوست کسے بنائیں؟؟؟



کتاب کا نام
دوست کسے بنائیں ؟
مصنف
عبداللہ بن علی الجعیثن
مترجم
خبیب احمد سلیم
ناشر
دار الابلاغ پبلشرز،لاہور

تبصرہ
انسان کی یہ فطرتی مجبوری ہے کہ وہ معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے لوگوں کے ساتھ باہمی طور پرمیل جول 

رکھتا ہے،تعلقات قائم کرتا ہے اور دوست واحباب بناتا ہے،تا کہ اپنی دنیوی ذمہ داریوں سے بحسن وخوبی عہدہ 

براہو سکے۔لیکن ایک مسلمان آدمی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلقات کے قیام میں شرعی تعلیمات کو

 سامنے رکھے۔اس کے تعلقات اور دوستیاں صرف اللہ کے مطیع اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ قائم ہوں ،اللہ

 کے باغی اور نافرمان لوگوں سے وہ نفرت کرتا ہو۔اس کی دوستی اور دشمنی کا معیار دنیوی مفادات کی بجائے اللہ 

 رضا اور خوشنودی کے حصول پر مبنی ہو۔اسلام نے عقیدہ الولاء والبراء کے تحت دستی ودشمنی کے معیار کو بڑی

 وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب (دوست کسے بنائیں؟)شیخ عبد اللہ علی بن الجعیثن کی کاوش ہے

 ،جوسعودی عرب کے معروف عالم دین ہیں ،انہوں نے اپنی اس کتاب میں دوستی کے معیار،اوردوست کے 

انتخاب پر بڑے خوبصورت انداز میں گفتگو کی ہے،اور اس کے اصول وضوابط کو شرعی نقطہ نظر سے واضح کیا

 ہے،کہ کسے دوست بنایا جائے اور کسے نہ بنایا جائے۔محترم خبیب احمد سلیم نے اس کا سلیس اردو ترجمہ کر اسے

 چار چاند لگا دیئے ہیں،اور اردو دان طبقہ کے لئے مفید بنا دیا ہے،اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مؤلف ،مترجم اور 

ناشر کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے،اور اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لے۔آمین(راسخ)
درج ذیل لنک سے کتاب ڈاؤنلوڈ کریں

Download

Muslims Women

مسلمان عورتیں







Important Message For Girls...Read and Think About it

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہماری زندگی ایک نعمت ہے،اور جو وقت صحت و تندرستی کے ساتھ ہمیں میسر ہے ،وہ وقت ہمارے لیے قیمتی ہے۔
ہماری زندگی ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس قیمتی وقت کی قدر کریں اور اسے سوچ سمجھ کر گزاریں۔
قرآن میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے،


وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49؀ (الذریٰت)


اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں ، شاید کہ تم اس سے سبق لو۔(49)
انسانوں میں یہ جوڑا مرد و عورت ہیں،اور یہ دونوں ہی بے مقصد پیدا نہیں کیے گئے ،جہاں مرد پر کچھ فرائض و ذمہ داریاں اور احکامات ہیں،ویسے ہی عورت کے لیے بھی ہیں،ایک ماں کی حیثیت سے ،ایک بیٹی ،بہن اور ایک بیوی کی حیثیت سے وہ اپنی رعیت کی ذمہ دار ہے۔
اس رعیت کی ذمہ داری امت مسلمہ کی ان بیٹیوں اور نوجوان لڑکیوں پر بھی ہے ، جو اپنے مقصد حیات کو بھلا کر "سیر و تفریح" میں کھوئی ہوئی ہیں،جن کے لیے زندگی اور اپنی عزت حقیقت نہیں بلکہ "چیلنج"ہے۔افسوس کے ساتھ کہ ہمارا معاشرہ اور بلخصوص وہ نوجوان دین جنہیں "مرد مجاہد" کہا جاتا ،آج ان بے راہ روی کا شکار لڑکیوں کے باعث گمراہی کی دلدل میں ہیں۔جس "صنف نازک" کو پردہ اور شرم و حیا کا لبادہ اوڑھایا گیا تھا
آج اس کے لباس میں بے حیائی،بے پردگی اور ناشائستہ انداز غالب ہے۔یہ بے راہ روی کاشکار نوجوان لڑکیاں کس طرح معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں ،اس مختصر کلپ سے صورت حال کا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔




معاملے کی سنگینی یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ ان کی وجہ سے معاشرے کی شریف اور دین دار لڑکیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پردہ اور دین داری پر تنقید سننا،اوباش افراد کی طرف سے ستایا جانا یہ ان کی زندگی کا افسوس ناک پہلو ہے۔مقصد اس نازک معاملے کو بیان کرنے کے ساتھ اس مسئلے کا حل تجویز کرنا بھی ہے۔
اللہ تعالی نے دین اسلام کے ذریعے ہمیں ہر چیز کا لائحہ عمل دیا ہے ، اس لیے ہمیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں ،بھٹکتا صرف وہ ہے جو اس راستے سے جدا ہوجاتا ہے،اور ہر راستہ منزل نہیں دیتا !
اس لیے نوجوان لڑکیوں ۔۔۔زندگی نہ تو سیر و تفریح نہ مذاق،آپ کی عزت اور وقت قیمتی ہے،
نوجوانی کے اس دور میں کردار کی تعمیر کریں ، یہ تعمیر ایک نسل کی زندگی سنوار سکتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ دین اسلام لڑکیوں کو نصب العین نہیں دیتا ،اگر ضرورت ہے تو اسے تلاش کرنے کی۔آزادی ،حقوق نسواں ،حوصلہ ،کونفیڈنس ، جرات ، ایک عزت کا مقام یہ سب اسلام ایک لڑکی کو دیتا ہے،غلط تب ہوتا ہے جب ہم اس کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرتے ہیں۔

 اللہ تعالی ہم اس سے معاف فرمائے،اور اس سے قبل کہ ہم پر سختی یا آزمائش آئے ،ہمیں راہ راست پر چلنے 
 کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔

Tuesday, 12 November 2013

10 Muharam Ka Roza

دس محرم کا روزہ ۔۔۔گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ

 

Friday, 13 September 2013

Bidaat

Bidaat

ہر بدعت گمراہی ہے


Juma ki Namaz ka Hukam

 Juma ki Namaz ka Hukam

جمعہ کی نماز کا حکم


Juma k masnoon Aymaal

جمعہ کے مسنون اعمال

Juma k masnoon Aymaal

Juma k Fazaail....................

یوم الجمعہ کے فضائل

Yoom ul Juma k Fazaail...

يوم الجمعہ كے فضائل!!!!

باقى ايام سے جمعہ كے دن كو كيا امتيازى حيثيت حاصل ہے، اور يہ امتياز كيوں ہے ؟

الحمد للہ :

يوم الجمعہ كے بہت سے فضائل اور امتيازات ہيں، اللہ تعالى نے باقى ايام پر جمعہ كو عظيم فضيلت دى ہے.

ابو ہريرہ اور حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اللہ تعالى نے ہم سے پہلے لوگوں جمعہ سے دور ركھا، تو يہوديوں كے ليے ہفتہ كا دن، اور عيسائيوں كے ليے اتوار كا دن تھا، اللہ تعالى ہميں لايا تو اس نے ہميں جمعہ كے روز كى ہدايت دى اور جمعہ اور پھر اس كے بعد ہفتہ اور اس كے بعد اتوار ركھا، اور اسى طرح روز قيامت بھى وہ ہمارے پيچھے ہونگے، ہم دنيا ميں آخرى ہيں، اور قيامت كے روز پہلے ہونگے، جن كا سب مخلوق سے قبل فيصلہ ہو گا "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 856 ).

قاضى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
ظاہر يہى ہوتا ہے كہ: اللہ تعالى نے ان پر بغير كسى تعيين كے جمعہ كى تعظيم فرض كى اور ان كے اجتھاد پر چھوڑ ديا تا كہ وہ اس ميں اپنى عبادت اور شريعت كا اہتمام كريں، تو اس كى تعيين ميں ان كے اجتھاد ميں اختلاف پيدا ہو گيا اور اللہ تعالى نے اس كى ہدايت نہ دى، اور اللہ تعالى نے اسے واضح اور بيان كے ساتھ اس امت پر فرض كر ديا، اور ان كے اجتھاد پر نہيں چھوڑا تو اس طرح وہ اس كى فضيلت كے حصول ميں كامياب ہو گئے.

ان كا كہنا ہے: بيان كيا جاتا ہے كہ: موسى عليہ السلام آئے اور انہيں جمعہ كا حكم ديا اور انہيں اس كى فضيلت بتائى تو انہوں نے ان سے مناظرہ كيا كہ ہفتہ كا دن افضل ہے، تو موسى عليہ السلام كو كہا گيا: انہيں چھوڑ ديں.

قاضى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اور اگر يہ منصوص ہوتا تو اس ميں ان كا اختلاف صحيح نہ تھا، بلكہ وہ كہتے: اس ميں انہوں نے اختلاف كيا، ميں كہتا ہوں: يہ ممكن ہے كہ انہيں اس كا صريحا حكم ديا گيا ہو، اور بعينہ اس پر نص ہو تو اس ميں انہوں نے اختلاف كيا ہو كہ كيا اس كى تعيين لازم ہے يا اسے بدلا جا سكتا ہے ؟ اور انہوں نے اسے بدل ليا ہو، اور بدلنے ميں غلطى كر لى ہو. اھـ

اور اس ميں بھى كوئى تعجب كى بات نہيں كہ ان كے ليے بعنيہ جمعہ كا ذكر كيا گيا ہو اور پھر وہ مخالف كرنے لگيں.

حافظ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
يہ كيسے نہيں ہو سكتا، حالانكہ وہى يہ كہنے والے ہيں: ہم نے سن ليا اور نافرمانى كى. !! اھـ
اوس بن اوس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تمہارے ايام ميں سے افضل ترين يوم جمعہ ہے، اسى دن آدم عليہ السلام كو پيدا كيا گيا، اور اسى ميں انہيں موت آئى، اور اسى روز صور پھونكا جائيگا اور اسى ميں بے ہوشى طارى ہو گى، لہذا اس روز كثرت سے مجھ پر درود پڑھا كرو، كيونكہ تمہارا درور مجھ پر پيش كيا جاتا ہے.
تو صحابہ كرام نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ ہمارا درور كيسے پيش كيا جائيگا حالانكہ آپ تو مٹى ميں مل چكے ہونگے؟
تور سول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" يقينا اللہ تعالى نے زمين پر انبياء كے جسم كھانے كو حرام كر ركھا ہے"
سنن ابو داود حديث نمبر ( 1047 ) ابن قيم رحمہ اللہ تعالى نے سنن ابو داود كى تعلقات ( 4 / 273 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ( 925 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" سورج طلوع ہونے والے ايام ميں سب سے بہترين جمعہ كا روز ہے، اس ميں آدم عليہ السلام پيدا ہوئے، اور اسى دن جنت ميں داخل كيے گئے، اور اسى روز وہاں سے نكالے گئے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1410 ).


مندرجہ بالا احاديث ميں جمعہ كى فضيلت كے بعض اسباب بيان كيے گئے ہيں:
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
قاضى عياض رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: ظاہر يہى ہے كہ يہ معدود اور چند فضائل اس كى فضيلت ذكر كرنے كے ليے نہيں، كيونكہ آدم عليہ السلام كا جنت سے نكالا جانا، اور قيامت كا قائم ہونا، فضيلت ميں شمار نہيں ہوتا، بلكہ يہ تو اس روز واقع ہونے والے بعض عظيم امور ميں سے ہيں، اور يا پھر وہ ہيں ابھى وقوع پذير ہونگے، تا كہ اس روز بندہ اللہ تعالى كى رحمت كے حصول اور اس كے غضب سے چھٹكارا حاصل كرنے كے ليے اعمال صالحہ كرنے كے ليے تيار ہو، يہ قاضى رحمہ اللہ كى كلام تھى.

اور ابو بكر بن العربى اپنى كتاب: ترمذى كى شرح الاحوذى ميں لكھتے ہيں:
يہ سب فضائل ہى ہيں، آدم عليہ السلام كا جنت سے نكلنا ذريت اور اس عظيم نسل، اور رسل و انبياء اور صالحين اور اولياء كے وجود كا سبب ہے، آدم عليہ السلام كو جنت سے راندہ درگاہ اور دھتكار كر نہيں نكالا گيا، بلكہ كچھ حاجات اور ضروريات پورى كرنے كے ليے نكالا گيا، پھر وہ جنت ميں واپس چلے جائينگے.

اور قيامت كا قائم ہونا اس كا سبب انبياء و صالحين اور اولياء وغيرہ كو جلد بدلہ دينے اور ان كى عزت و تكريم اور شرف كے اظہار كا سبب ہے، اور اس حديث ميں باقى سارے ايام پر يوم الجمعہ كو فضيلت اور امتياز حاصل ہے. اھـ

ابو لبابہ بن عبد المنذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جمعۃ المبارك سب ايام كا سردار ہے، اور اللہ تعالى كے ہاں ان ايام ميں عظيم دن ہے، اور اللہ تعالى كے ہاں يہ دن عيد الفطر اور عيد الاضحى سے بھى عظيم ہے، اس ميں پانچ خصلتيں اور امتيازات ہيں:

اللہ تعالى نے اس روز آدم عليہ السلام كو پيدا فرمايا، اور اسى روز آدم عليہ السلام كو زمين كى طرف اتارا گيا، اور اسى روز آدم عليہ السلام فوت ہوئے، اور اس روز ميں ايك ايسا وقت اور گھڑى ہے جس ميں بندہ اللہ تعالى سے جو بھى مانگتا ہے اللہ تعالى اسے عطا فرماتا ہے، جب كہ حرام كا سوال نہ كيا جائے، اور اسى روز قيامت قائم ہو گى، مقرب فرشتے، اور آسمان و زمين اور ہوائيں، اور پہاڑ اور سمندر يہ سب جمعہ كے روز سے ڈرتے ہيں"
سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1084 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 2279 ) ميں اسے حسن كہا ہے.

سندھى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
" جمعہ كے روز سے ڈرتے ہيں " يعنى اس ميں قيامت كے قائم ہونے سے، اور اس ميں يہ بھى ہے كہ سارى مخلوقات بعنيہ ايام كا علم ركھتى ہيں، اور انہيں علم ہے كہ قيامت جمعہ كے دن قائم ہو گى. اھـ

اس روز كے فضائل ميں درج ذيل بھى ہيں:

1 - اس روز سب سے افضل نماز نماز جمعہ ادا كى جاتى ہے:
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿اے ايمان والو! جب جمعہ كے روز نماز جمعہ كے ليے اذان دى جائے تو اللہ تعالى كے ذكر كى طرف دوڑے آؤ اور خريد وفرخت چھوڑ دو، يہ تمہارے ليے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو ﴾الجمعۃ ( 9 ).

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" نماز پنجگانہ اور جمعہ دوسرے جمعہ تك ان كے درميان ( گناہوں ) كا كفارہ ہے، جب تك كبيرہ گناہ كا ارتكاب نہ كيا جائے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 233 ).

2 - جمعہ كے روز نماز فجر باجماعت ادا كرنا پورے ہفتہ ميں بندے كى ادا كردہ نمازوہ سے بہتر ہے.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اللہ تعالى كے ہاں افضل ترين نماز جمعہ كے روز باجماعت نماز فجر كى ادائيگى ہے "
اسے بيھقى نے شعب الايمان ميں روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 1119 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

جمعہ كے روز نماز فجر كى خصوصيت يہ ہے كہ اس روز نماز فجر كى پہلى ركعت ميں سورۃ السجدہ اور دوسرى ركعت ميں سورۃ الانسان پڑھى جاتى ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جمعہ كے روز نماز فجر كى پہلى ركعت ميں الم تنزيل اور دوسرى ركعت ميں ھل اتى على الانسان حين من الدھر لم يكن شيئا مذكورا تلاوت كى"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 851 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 880 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
كہا جاتا ہے كہ: ان سورتوں كى تلاوت ميں حكمت يہ ہے كہ: ان دو سورتوں ميں آدم عليہ السلام كى پيدائش اور روز قيامت كے احوال كا ذكر اور اس كى طرف اشارہ ہے، كيونكہ يہ جمعہ كے روز ہوا اور اس كا وقوع بھى اسى روز ہو گا. اھـ

3 - جو شخص جمعہ كے روز يا جمعہ كى رات فوت ہو جائے اللہ تعالى اسے قبر كے فتنہ سے محفوظ ركھتا ہے.

عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جو مسلمان شخص بھى جمعہ كے روز يا جمعہ كى رات فوت ہو اللہ تعالى اسے قبر كے فتنہ سے محفوظ ركھتا ہے "
سنن ترمذى حديث نمبر ( 1074 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے " احكام الجنائز صفحہ نمبر ( 49 - 50 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

جمعہ المبارك كے دن كے يہ چند ايك فضائل تھے جو بيان كيے گئے ہيں اللہ تعالى ہميں اپنى خوشنودى و رضا كے كام كى توفيق نصيب فرمائے.
 
 
 

Gham Aur Mushkilaat Sirf Allah ko Batao

Gham Aur Mushkilaat Sirf Allah ko Batao


Tuesday, 30 July 2013

اعتکاف کیا ہے ؟ اردو تحریر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اعتکاف کیا ہے ؟

از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ


 رمضان المبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک اہم عمل اعتکاف بھی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔ اعتکاف کا معنی :
اعتکاف کا معنی لغت میں ٹھہرنا ، جمے رہنا اور کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ، شرعی اعتکاف بھی اسی معنی میں ہے کہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کےلئے مخصوص طریقے پر مسجد میں ٹھہرنا ۔

اعتکاف کی حکمت :
  اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ ہر طرف سے یکسو ہو کر اور سب سے منقطع ہوکر بس اللہ تعالی سے لو لگاکے اس کے درپے یعنی مسجد کے کسی کونے میں پڑجائے ، سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہے ، اس کو دھیان میں رکھے ، اس کی تسبیح و تہلیل و تقدیس میں مشغول رہے ، اس کے حضور توبہ و استغفار کرے ، اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر روئے ، اس کی رضا اور قرب چاہے اور اسی حال میں اس کے دن گزریں اور اس کی راتیں بسر ہوں ، ظاہر ہے اس کا م کےلئے رمضان المبارک اور خاص کر اس کے آخری عشرہ سے بہتر اور کون سا وقت ہوسکتا ہے ، اسی لئے اعتکاف کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ۔
  اعتکاف کا حکم :
  اعتکاف کی مشروعیت قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے : [وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ] {البقرة:125} " اور ہم ابراہیم و اسماعیل [علیہما السلام ] کو تاکیدکی کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھیں " ۔
 اعتکاف کی مشروعیت قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے : [وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ] {البقرة:125} " اور ہم ابراہیم و اسماعیل [علیہما السلام ] کو تاکیدکی کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھیں " ۔
نیزروزے کے احکام کے ضمن میں فرمایا : [وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ] {البقرة:187} " اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو " ۔
متعدد حدیثیں اس سلسلے میں وارد ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔
{ صحیح البخاری :2026 ، الاعتکاف- صحیح مسلم : 1172 ، الصیام } ۔
حتی کہ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ مسلمانوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ منورہ تشریف لائے آپ نے اعتکاف کبھی نہیں چھوڑا ۔ حتی کہ اپنی عمر عزیز کے آخری سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے دو عشروں کا اعتکاف کیا ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ، البتہ جس سال آپ کا انتقال ہو اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔

  { صحیح بخاری : 2044، الاعتکاف – صحیح ابن خزیمہ : 2221 – سنن ابو داود :2466 ، الاعتکاف } ۔
ان آیتوں اور حدیثوں اور اسی طرح کے دیگر نصوص کی روشنی میں اہل سنت و جماعت کے نزدیک مرد و زن ہر ایک کے لئے اعتکاف سنت ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی یہ ایک تاکیدی سنت ہے تو شاید بے جا نہ ہوگا کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برابر اعتکاف کیا ہے حتی کہ اگر کبھی کسی وجہ سے یہ اعتکاف چھوٹ گیا تو آپ نے اس کی قضا کی ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کی اجازت چاہی ، آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں نے اپنے لئے گنبد نما ایک خیمہ مسجد میں نصب کرلیا ، پھر جب حضرت حفصہ نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا ، اور حضرت زینب سے سنا تو انہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ نصب کرلیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چار خیموں کو دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے ؟ آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا گیا تو آپ نے فرمایا انہیں اس امر پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ کیا نیکی نے ؟ [ ہرگز نہیں ، اس کا سبب تو محض غیرت ہے ] لہذا انہیں اکھاڑ پھینکو ، میں انہیں نہ دیکھو ، چنانچہ خیمے اکھاڑ دئے گئے [ جن میں آپ کا خیمہ بھی تھا ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رمضان میں تواعتکاف نہیں کیا البتہ شوال کے آخری عشرے اس اعتکاف کی قضا کی ۔
{ صحیح بخاری : 2040، الاعتکاف – صحیح مسلم : 1183، الاعتکاف } ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تھے لیکن ایک سال کسی سفر کی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے تو آئندہ رمضان کے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔
{ سنن ترمذی :803، الصوم – صحیح ابن خزیمہ : 2226، الصوم } ۔

غیر رمضان میں اعتکاف :
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف رمضان کا اعتکاف ثابت ہے، بغیر کسی عذر کے آپ نے غیر رمضان میں اعتکاف نہیں کیاہے ، لیکن ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو ۔
{ صحیح بخاری : 2032،ا لاعتکاف – صحیح مسلم :1656، الایمان ، بروایت ابن عمر } ۔
اس لئے غیر رمضان میں بھی اعتکاف مستحب اور سنت ہے، البتہ رمضان اور خصوصا رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی تاکید ہے ۔
  


اعتکاف کی مدت :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں کم از کم ایک عشرے کا اعتکاف کیا ، اس لئے افضل و بہتر یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا جائے لیکن اگر کسی کے حالات ساتھ نہ دیتے ہوں تو وہ سات دن ، پانچ دن یا صرف طاق راتوں کا اعتکاف کرے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں صحابہ نے رمضان کی سات درمیانی راتوں کا اعتکاف کیا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : من کا منکم منحر یا فلینحر ما فی السبع الاواخر " ۔ جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے " ۔
{ صحیح ابن خزیمہ :2222 ، الصوم } ۔
نیز عبد اللہ بن انیس الجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول میں صحرا میں رہائش پذیر ہوں اور الحمد للہ وہاں نماز [تراویح ] کا اہتمام کرتا ہوں [البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ شب قدر کے حصول کے لئے اعتکاف کروں تو ] آپ مجھے کسی ایسی رات کے بارے میں بتلائیے جس رات اس مسجد میں آکر عبادت کروں [ اعتکاف کروں ] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیئس کی شب کو آجانا ۔
راوی حدیث محمد بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے عبد اللہ بن انیس کے بیٹے سے سوال کیا کہ تمہارے والد کس طرح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عصر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے اور کسی بھی غیر ضروری کام کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلتے ، یہاں تک کہ جب صبح کی نماز پڑھ لتیے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر موجود پاتے اور اس پر سوار ہوکر پھر صحرا میں چلے جاتے ۔
 

{ سنن ابو داود : 1380، الصلاۃ – صحیح ابن خزیمہ : 2200، الصیام } ۔
اعتکاف کی شرطیں :
1) مسلمان ہو : کافر و مشرک کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔
2) عاقل ہو : مجنون و پاگل کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔
3) تمیز ہو : غیر ممیز بچوں کا اعتکاف صحیح نہیں ہے ۔
4) مسجد میں ہو : مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہ ہوگا ، یہ حکم مرد و عورت دونوں کیلئے ہے ۔
5) طہارت : حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔
6) شوہر کی اجازت : بغیر شوہر کی اجازت کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔
7) روزہ : بہت سے علماء کے نزدیک بغیر روزہ کے اعتکاف صحیح نہ ہوگا ۔

اعتکاف کا وقت :
اعتکاف کے لئے ضروری ہے جس دن کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے اس دن کی رات آنے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے مثلا اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا چاہتا ہے تو بیسویں رمضان کا سورج غروب ہونے سے قبل مسجد میں داخل ہوجائے ، البتہ اپنے معتکف یعنی جائے اقامت میں اکیسویں کی صبح کو داخل ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول رہا ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی جس میں آپ صبح کی نماز کے بعد داخل ہوتے ۔
{ صحیح بخاری :2033، الاعتکاف – سنن ابو داود : 2464، الصوم } ۔
اعتکاف سے نکلنے کا وقت :
اعتکاف سے باہر آنے کا ایک وقت جواز کا ہے اور دوسرا استحباب کا ، جواز کا وقت یہ ہے کہ اگر رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کیا ہے تو شوال کا چاند نکلتے ہی اپنا اعتکاف ختم دے اور گھر واپس آجائے کیونکہ شوال کا چاند دکھائی دیتے ہیں رمضان کا مہینہ ختم ہوجاتا ہے ، اور مستحب وقت یہ ہے کہ عید کی صبح کو اپنی جائے اعتکاف سے باہر آئے اور سیدھے عیدگاہ جائے ، بعض صحابہ و تابعین کا عمل یہی رہا ہے چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے کہ جب وہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے تو اپنے گھر عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد آتے ۔
{ موطا :1/315، کتاب الاعتکاف } ۔
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور بطور دلیل یہ حدیث پیش کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور جب اکیسویں کی صبح ہوئی جس صبح کو اپنے اعتکاف سے باہر آتے تھے فرمایا : "من اعتکف معنا فلعتکف فی العشر الاوخر " جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے ۔   

{ صحیح ابن خزیمہ : 3/352، 354 – نیز دیکھئے صحیح بخاری : 2027 ، الاعتکاف ، بروایت ابو سعید الخدری } ۔ 
اعتکاف کس مسجد میں :
اعتکاف ہر مسجد میں کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں جماعت کا اہتمام ہوتا ہو ، ارشاد باری تعالی ہے : [وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ] {البقرة:187} " اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو " ۔
آیت مذکورہ میں اللہ تعالی نے مسجد کو عام رکھا ہے ، کسی خاص قسم کی مسجد سے مقید نہیں کیا ہے ، نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مریض کی زیارت کو جائے نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت سے صحبت کرے اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے اور نہ ہی کسی غیر ضروری کام کے لئے باہر نکلے ، اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں ہے اور اعتکاف اسی مسجد میں کیا جائے گا جس میں جماعت کا اہتما ہو ۔
{ سنن ابو داود : 2473، الصیام } ۔
اس لئے اعتکاف کے لئے تین مسجدوں کو خاص کرنا جیسا کہ عصر حاضر کے بعض اہل علم کا خیال ہے صحیح نہیں ہے ، کیونکہ اس سلسلے میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی جو حدیث نقل کی جاتی ہے وہ ضعیف اور شاذ ہے ، نیز یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر امت کے کسی امام یا عالم نے عمل نہیں کیا ہے ، اس موضوع پر ایک مختصر اور جامع بحث مختصر قیام رمضان از علامہ البانی رحمہ اللہ کے ترجمےمطبوعہ میں دیکھی جاسکتی ہے ، یا مندرجہ ذیل ویب سائٹ سے بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے :
http://www.islamidawah.com/Bennar.php?ads=go&BennarID=1501
 

اعتکاف کے منافی کام :
1) ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا ۔
2) عورت سے صحبت کرنا ۔
3) عورت سے بشہوت مباشرت کرنا ۔
4) قصدا منی خارج کرنا ۔ [[ ان تمام امور سے اعتکاف باطل ہوجائے گا ، اسی طرح عورت کو حیض و نفاس کا خون آجائے تو اعتکاف باطل ہوجائے گا ، نیز اسلام سے ارتداد سے بھی اعتکاف باطل ہوجاتا ہے ، اور اگر کوئی شخص اعتکاف کی نیت توڑ دے تو یہ بھی اعتکاف کے بطلان کا موجب ہے]] ۔
5) ہر وہ کام جو شرع کی نظر میں منع ہے وہ اعتکاف کے بھی منافی ہے ، جیسے جھوٹ ، غیبت وغیرہ ۔
6) ہر وہ کام جو عبادت کے منافی ہے ، جیسے خرید و فروخت میں مشغولیت ، بلاوجہ کی گپ شپ ، یہ بھی حالت اعتکاف کے منافی ہے ، ان امور سے اعتکاف باطل تو نہیں ہوتا البتہ اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔
7) بعض وہ عبادتیں جو فرض عین نہیں ہیں جیسے مریض کی زیارت ، نماز جنازہ اور دفن وغیرہ کے لئے بھی نکلنا جائز نہیں ہے ، البتہ راستہ چلتے کسی مریض کی خیریت پوچھ لینا جائے ہے ۔ [[ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے بیمار پرسی کرلیتے تھے اس کے لئے ٹھہرتے نہیں تھے ۔ { سنن ابو داود :2472 ، الصوم } ۔
8) ہر وہ کام جو انسان کی فطری ضرورت ہے جیسے قضائے حاجت ، کھانا پینا ، نہانا ، اگر کوئی مددگار نہیں ہے تو کھانے کی چیزیں باہر سے خریدنا وغیرہ کے لئے مسجد سے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔


اعتکاف کی حالت میں جائز کام :
1) مسجد میں کھانا پینا ۔
2) اچھے کپڑے پہننا اور خوشبو لگانا ۔
3) ناخن تراشنا اور حجامت بنوانا ۔
4) جمعہ کے لئے جانا، بلکہ جمعہ کے لئے جانا واجب ہے ۔
5) اگر جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جارہی ہے تو اس میں شریک ہونا ۔
6) کسی مریض کا گھر مسجد سے لگ کر ہے تو مسجد میں رہ کر بیمار پرسی کرنا ۔
7) بالوں میں تیل کنگھی کرنا ، بلکہ عورت بھی اپنے شوہر کے بالوں میں کنگھی کرسکتی ہے خواہ اس کے لئے اعتکاف کرنے والے کو اپنا سر باہر کرنا پڑے ۔ { صحیح بخاری :2029 ، الاعتکاف – صحیح مسلم : 297 } ۔
8) اپنے اہل خانہ سے بات کرنا اور بعض گھریلو مسائل پر گفتگو کرنا ۔ { صحیح بخاری : 2038 ، الاعتکاف } ۔
9) بغیر شہوت کے اپنی بیوی کو چھونا ۔
10) خرید و فروخت سے متعلق بعض ضروری ہدایات دینا ۔
11) زیارت کرنے والوں سے خیر خیریت پوچھنا ، البتہ دیر تک گپ شپ میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہے ۔ 

Ramdan Ka Aakhri Ashraa

Ramdan Ka Aakhri Ashraa
رمضان کا آخری عشرہ