Showing posts with label Zakat. Show all posts
Showing posts with label Zakat. Show all posts

Friday, 5 April 2013

Ramzan, Roza Aur Zakaat - Urdu Books

Ramzan, Roza Aur Zakaat



Pages: 28



Size: MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Sunday, 2 December 2012

Zakat Ki Kitab - Urdu Books

Zakat Ki Kitab



Pages: 305


Size: 6.2 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Zakat Ka Masraf Fisabilillah - Urdu Books

Zakat Ka Masraf

Fisabilillah



Pages: 33


Size: 1.5 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Zakat Ke Masail - Urdu Books

Zakat Ke Masail



Pages: 96


Size: 1.8 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Monday, 17 September 2012

Zakat ul Fitr Nikalne Ka Samay (Waqt) - Hindi Islamic Books

Zakat ul Fitr Nikalne Ka Samay (Waqt)



Pages: 5


Size: 0.1 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Tuesday, 26 July 2011

Sadqa wa Zakat Ke Fawaid - صدقہ وزکوٰۃ کے فوائد - Online Books

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صدقہ وزکوٰۃ کے فوائد

اﷲ تعالیٰ نے مالداروں پر زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے تاکہ محتاج ،ضرورت منداور مسلمانوں کے عام منافع میں مدد کی جاسکے ۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اﷲ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔اسی طرح خرچ کرنے والوں کی تعریف اور انکے اجر وثواب کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی متواتر احادیث میں زکوٰ ۃ ادا کرنے اور مال ومویشی، سونے چاندی ،نقدی وسامانِ تجارت میں زکوٰۃ کا نصاب بیان کیا گیا ہے ۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں پر سخت وعید بھی سنائی گئی ہے ۔تمام مسلمانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تارکِ زکوٰۃ کا دین وایمان نا مکمل ہوتا ہے ۔لیکن تارکِ زکوٰۃ کے کافر ہونے میں اختلاف ہے ۔ زکوٰۃ دینِ اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ایک ہے اور زکوٰۃ میں دین ودنیا کا کمال واقع ہوتاہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ’’زکوٰۃ ایک برھان ہے ‘‘یعنی زکوٰۃ دینے والے کے ایمان کی دلیل وبرھان ہے ۔

فوائد زکوٰۃ میں یہ شامل ہے کہ زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے ۔زکوٰۃ دینے والے کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔او راس مال میں بھی برکت ہوتی رہتی ہے جس میں سے زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔زکوٰۃ ادا کرنے سے اخلاق وکردار میں پختگی ہوتی ہے ۔بخیلی اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔زکوٰۃ دینا اﷲتعالیٰ کے شکر گزار بندوں کی نشانی ہے ۔اور شکر کرنے سے برکت ہونا ایک فطری عمل ہے ۔بہت سی دینی ودنیاوی برکتیں حاصل ہوتی ہیں او ربے شمار بلائیں و مصیبتیں ٹل جاتی ہے ۔دعائوں کو قبولیتِ عامہ حاصل ہوتی ہے ۔پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے ’’صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا رھتا ہے ۔‘‘ اسی طرح بخاری مسلم کی ایک حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا ’’ہر صبح اﷲتعالیٰ کے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں او ردعا کرتے ہیں ۔اے اﷲخرچ کرنے والے کو مزید عطا فرما ۔دوسرا دعا کرتاہے کہ اے اﷲ مال خرچ نہ کرنے والے کو تباہ کردے ۔‘‘زکوٰۃ دینے والے کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ لینے والوں کو بھی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ محتاجوں ،ضرورت مندوں اور مسافروں کو زکوٰۃ دی جاتی ہے ۔جن سے ان کی ضرورتیں اور حاجات پوری ہوتی ہیں ۔اگر تمام مالدار اپنی زکوٰۃ نکالتے رہیں او رصحیح مقامات پر خرچ کرتے رہیں تو یقینا تمام غرباء کی ضروریات پوری ہوجائیں گی ۔اس سے معاشرے میں بگاڑ اور فساد بہت حد تک ختم ہوجائے گا ۔اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلام کے محاسن میں سے بہت ہی حسین چیز زکوٰۃ ہے ۔

حوالا: صدقہ وزکوٰۃ کے فوائد

Sunday, 24 July 2011

Ahkam e Zakat - احکامِ زکوٰۃ - Online Books



بسم اللہ الرحمن الرحیم


احکامِ زکوٰۃ


زیر نظر سطور لکھنے کا مقصد صرف اور صرف فریضہ زکوٰۃ کی یاد دہانی کے متعلق ہے۔ آج کے اکثر مسلمان اس فریضے میں سخت سست واقع ہوئے ہیں۔ شریعت کے مطابق زکوٰۃ نہیں نکالتے بلکہ اسلام کا ایک اہم رکن ہونے کے باوجود اس کے متعلق معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: 1 اللہ تعالیٰ اور رسول کی گواہی دینا۔ 2 نماز ادا کرنا۔ 3 زکوٰۃ دینا۔ 4رمضان کے روزے رکھنا۔ 5 اور حج بیت اللہ کرنا۔

اسلام میں زکوٰۃ فرض کئے جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے بے شمار مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ اسلام کے فوائد کا بڑا اہم سبب زکوٰۃ بھی ہے۔ فقراء مساکین کی ضروریات و حاجات کا مداوا زکوٰۃ سے ہوتا ہے۔ مالداروں اور فقراء میں باہم رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ نفس کی پاکیزگی، کنجوسی، بخل سے دوری و نفرت کا ذریعہ بھی زکوٰۃ ہے۔ فرمانِ باری
تعالیٰ ہے کہ ’’خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ…‘‘ ان کے مالوںمیں سے زکوٰۃ لے لو، اور ان کو پاک کر دو، ان کا تزکیہ نفس کر دو۔(سورہ توبہ)۔

مسلمان کی ایک صفت سخاوت بھی ہے۔ محتاجوں پر شفقت و مہربانی کرنا، شیوئہ مسلم ہے۔ خرچ کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہ (اللہ) اس کا بدلہ دے دیتا ہے۔ اور وہ بہترین رزق والا ہے‘‘۔ اسی طرح ایک حدیث میں یہی مضمون ہے کہ ’’اے بنی آدم تم خرچ کرو، تمہارے اوپر خرچ کیا جائے گا‘‘۔

جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں شدید ترین وعید بیان کی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے کہ:

وہ لوگ جو سونا چاندی کو خزانوں میں جمع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں عذاب شدید کی خوشخبری دے دو اس دن (ان کے مال کو) گرم کیا جائے گا جہنم کی آگ میں، اور ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور کمروں کو داغا جائے گا اور (کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارا مال، جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو آج اس عذاب کا مزا چکھو، جو تم اپنے لئے جمع کرتے تھے۔ (سورہ توبہ)۔

ہر وہ مال جس کا حق ادا نہیں کیا جاتا تو وہ ’’کنز‘‘ بن جاتا ہے۔ جس کے ذریعے صاحب مال کو بروزِ قیامت عذاب دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہر وہ سونے چاندی والا جو اپنے مال کا حق ادا نہ کرتا ہو گا تو یہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کا ٹکڑا بنے گا۔ جہنم کی آگ سے گرم کرنے کے بعد اس کی پیشانی کو، پہلو اور کمر کو داغا جائے گا۔ جب یہ مال ٹھنڈا ہو گا تو دوبارہ اس کو گرم کیا جائے گا۔ وہ دن پچاس ہزار سال جتنا بڑا ہو گا۔ اس وقت تک تمام مخلوق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر اس مالدار کو دیکھا جائے گا کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے یا جنت۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ، بکری، گائے والوں کا ذکر ہونے پر فرمایا: ’’جو شخص ایسا مال دلائے گا جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو گی تو یہ مال ایک گنجے سانپ کی مانند بن جائے گا۔ اس کے دو منہ ہوں گے۔ یہ سانپ مالدار کے گلے میں بطورِ طوق ڈالا جائے گا پھر یہ اس کے جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی۔

اﷲ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے بخیلی کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ یہ عمل انکے لئے بہتر ہے ۔بلکہ یہ انکے لئے برا کام ہے ۔قیامت کے دن انکی بخیلی انکے گلوں کا طوق بن جائے گی۔ (بخاری ومسلم)۔

زکوٰۃچار قسم کے اموال پر فرض ہے ۔ (١) زمین سے حاصل شدہ اناج وپھل پر (٢) مویشی پر (٣)سونے چاندی پر (٤)اور سامانِ تجارت پر۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان چاروں اقسام کا ایک مقرر شدہ نصاب ہے ۔نصاب سے کم پر زکوٰۃ فر ض نہیں ہوتی۔ لہٰذا پھلوں اور اناج کا نصاب 5وسق ہے جو (20من ) بنتا ہے ۔گائے ،اونٹ اور بکریاں کی تفصیل بھی احادیث نبوی میں موجود ہے ۔اگر اختصار کو مدنظر نہ رکھا جاتا تو ہم یہاں تفصیل ذکر کردیتے ۔

سونے کی زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے جو عربی ریال میں تقریباً 56ریال بنتاہے چاندی کی زکوٰۃ52تولہ پر فرض ہوتی ہے ۔اس مال کو اگر ایک سال تک اپنی ملکیت میں رکھا جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے ۔مال کا حاصل شدہ منافع بھی ملکیت میں شامل ہوتا ہے ۔

سونے چاندی کے نصاب کے حکم میں موجودہ دور کی کرنسی بھی شامل ہے ۔یعنی اگر روپے ریال یا ڈالر کی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے جتنی موجود ہے ۔تو اس پر بھی زکوٰۃ ہے ۔عورتوں کے زیورات پرزکوٰۃ ہوتی ہے ۔اگرچہ یہ زیورات ذاتی استعمال کی چیزیں ہوں پھر بھی زکوٰۃ لازمی ہے۔ کیونکہ حدیث ِنبوی موجود ہے کہ آپ نے ایک عورت کے ہاتھوں میں کنگن دیکھے تو فرمایا کیا تم اسکی زکوٰۃ ادا کرتی ہو ؟اس عورت نے انکار کیا تو آپ نے فرمایاکیا تم پسند کرتی ہو کہ کل قیامت کے دن اﷲتعالیٰ اسکو جہنم کی آگ بنا دے ۔یہ سن کر اس عو رت نے کنگن اتار دیئے او رکہا یہ مال اﷲ او ر اسکے رسول کے لئے ہے (ابو داود)۔

سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے سونے کا ایک زیور بنایا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا ’’جس مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے وہ کنزنہیں ہوتا ‘یعنی اسکی پکڑ نہیں ہوتی ۔سامان ِتجارت جو کاروبار کے لئے رکھا جائے اسکی سال کے آخر میں قیمت لگائی جائے گی اور اس قیمت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں ادا کیا جائے گا۔ سال کے آخر میں قیمت لگاتے وقت اس سامان کی موجودہ قیمت لگائی جائے گی ۔اگرچہ یہ قیمت سامان کے اصل ریٹ سے کم ہو یا زیادہ۔ سیدنا سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کاروبار کے لئے تیار کردہ سامان کی قیمت لگا کرزکوٰۃ نکالنے کا حکم دیا ہے (ابو دائود)۔ اس سامانِ تجارت میں اراضی گھر اور مشینیں وغیرہ شامل ہیں جو تجارت کے لئے ہوں ۔وہ گھر جو بیچنے کے لئے نہ ہوں بلکہ کرائے پر دئیے جائیں تو ان گھروں یا دکانوں کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں ہوگی بلکہ اسکے کرائے پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ہو گی۔ اسی طرح ذاتی استعمال کی گاڑیوں اور ٹیکسیوں پر بھی زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ لیکن ان گاڑیوں کے مالک کے پاس اگر نصاب کے مطابق رقم جمع ہوجائے اور اس پرسال بھی گزر جائے تو پھر زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ اگرچہ یہ رقم خرچ، شادی یا زمین خریدنے کے لئے رکھی ہوتی ہو۔ اسی طرح یتیم یا مجنوں افراد کے پاس اتنا مال موجود ہو جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہو تو اسکے ولیوں کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ نکالیں۔

زکوٰۃ مستحقین کا حق ہے لہٰذااسکو غیر مستحقین کو نہیں دینی چاہیے۔ اس زکوٰۃ کے ذریعے انسان کو فائدہ حاصل کرنا یا ذاتی نقصان سے بچنے کے لئے استعمال کرنابھی درست نہیں ہے ۔ بلکہ صرف خلوصِ نیت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی رضا او رخوشنودی کے لئے مستحقین کو زکوٰۃ ادا کی جائے (آ ج کل مختلف گلو کاروں نے کچھ رفاہی ادارے قائم کیے ہیں او روہ لوگوں کی زکوٰۃ اکٹھا کرتے ہیں ایسے اداکاروں اور گلو کاروں کو زکوٰۃ ادا نہیں کرنی چاہیے )مترجم۔

اﷲتعالیٰ مصارفِ زکوٰۃ بیان فرماتے ہیں ۔فرمان الٰہی ہے (بے شک زکوٰۃ فقرائ، مساکین، عاملین (زکوٰۃ اکٹھا کرنے والے )تالیفِ قلبی کے لئے ۔گردنوں کو آزاد کرنے کے لئے۔ تاوان زدہ کے لئے۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں۔ اور مسافروں کے لئے۔ یہ اﷲکا فریضہ ہے۔ اور اﷲتعالیٰ علیم وحکیم ہے)۔

اس آیت کے آخر میں اﷲتعالیٰ نے یہ دو نام ذکر فرمائے ہیں ۔بندوں کے لئے اس میں اﷲتعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے زکوٰۃ دینے اور نہ دینے کو جانتا ہے ۔اور اﷲحکیم بھی ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ زکوٰۃ کا کون مستحق ہے ۔اﷲتعالیٰ اشیاء کی مقدار اور تعداد پر حکیم ہے۔ وہ کسی چیز یا شخص کوضائع نہیں کرتا ۔اگرچہ بعض لوگوںپر یہ حکمتیں مخفی ہوتی ہیں۔ اﷲتعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم بہتر سے بہتر عمل کریں۔ اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔

اصل مضمون نگار : احکامِ زکوٰۃ

Thursday, 21 July 2011

Ahkam e Zakat - احکامِ زکوٰۃ - Online books

بسم اللہ الرحمن الرحیم

احکامِ زکوٰۃ


زیر نظر سطور لکھنے کا مقصد صرف اور صرف فریضہ زکوٰۃ کی یاد دہانی کے متعلق ہے۔ آج کے اکثر مسلمان اس فریضے میں سخت سست واقع ہوئے ہیں۔ شریعت کے مطابق زکوٰۃ نہیں نکالتے بلکہ اسلام کا ایک اہم رکن ہونے کے باوجود اس کے متعلق معلومات انتہائی ناقص ہیں۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: 1 اللہ تعالیٰ اور رسول کی گواہی دینا۔ 2 نماز ادا کرنا۔ 3 زکوٰۃ دینا۔ 4رمضان کے روزے رکھنا۔ 5 اور حج بیت اللہ کرنا۔

اسلام میں زکوٰۃ فرض کئے جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے بے شمار مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ اسلام کے فوائد کا بڑا اہم سبب زکوٰۃ بھی ہے۔ فقراء مساکین کی ضروریات و حاجات کا مداوا زکوٰۃ سے ہوتا ہے۔ مالداروں اور فقراء میں باہم رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ نفس کی پاکیزگی، کنجوسی، بخل سے دوری و نفرت کا ذریعہ بھی زکوٰۃ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ…‘‘ ان کے مالوںمیں سے زکوٰۃ لے
لو، اور ان کو پاک کر دو، ان کا تزکیہ نفس کر دو۔(سورہ توبہ)۔

مسلمان کی ایک صفت سخاوت بھی ہے۔ محتاجوں پر شفقت و مہربانی کرنا، شیوئہ مسلم ہے۔ خرچ کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہ (اللہ) اس کا بدلہ دے دیتا ہے۔ اور وہ بہترین رزق والا ہے‘‘۔ اسی طرح ایک حدیث میں یہی مضمون ہے کہ ’’اے بنی آدم تم خرچ کرو، تمہارے اوپر خرچ کیا جائے گا‘‘۔

جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں شدید ترین وعید بیان کی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے کہ:

وہ لوگ جو سونا چاندی کو خزانوں میں جمع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں عذاب شدید کی خوشخبری دے دو اس دن (ان کے مال کو) گرم کیا جائے گا جہنم کی آگ میں، اور ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور کمروں کو داغا جائے گا اور (کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارا مال، جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو آج اس عذاب کا مزا چکھو، جو تم اپنے لئے جمع کرتے تھے۔ (سورہ توبہ)۔

ہر وہ مال جس کا حق ادا نہیں کیا جاتا تو وہ ’’کنز‘‘ بن جاتا ہے۔ جس کے ذریعے صاحب مال کو بروزِ قیامت عذاب دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہر وہ سونے چاندی والا جو اپنے مال کا حق ادا نہ کرتا ہو گا تو یہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کا ٹکڑا بنے گا۔ جہنم کی آگ سے گرم کرنے کے بعد اس کی پیشانی کو، پہلو اور کمر کو داغا جائے گا۔ جب یہ مال ٹھنڈا ہو گا تو دوبارہ اس کو گرم کیا جائے گا۔ وہ دن پچاس ہزار سال جتنا بڑا ہو گا۔ اس وقت تک تمام مخلوق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر اس مالدار کو دیکھا جائے گا کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے یا جنت۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ، بکری، گائے والوں کا ذکر ہونے پر فرمایا: ’’جو شخص ایسا مال دلائے گا جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو گی تو یہ مال ایک گنجے سانپ کی مانند بن جائے گا۔ اس کے دو منہ ہوں گے۔ یہ سانپ مالدار کے گلے میں بطورِ طوق ڈالا جائے گا پھر یہ اس کے جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی۔

اﷲ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے بخیلی کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ یہ عمل انکے لئے بہتر ہے ۔بلکہ یہ انکے لئے برا کام ہے ۔قیامت کے دن انکی بخیلی انکے گلوں کا طوق بن جائے گی۔ (بخاری ومسلم)۔

زکوٰۃچار قسم کے اموال پر فرض ہے ۔ (١) زمین سے حاصل شدہ اناج وپھل پر (٢) مویشی پر (٣)سونے چاندی پر (٤)اور سامانِ تجارت پر۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان چاروں اقسام کا ایک مقرر شدہ نصاب ہے ۔نصاب سے کم پر زکوٰۃ فر ض نہیں ہوتی۔ لہٰذا پھلوں اور اناج کا نصاب 5وسق ہے جو (20من ) بنتا ہے ۔گائے ،اونٹ اور بکریاں کی تفصیل بھی احادیث نبوی میں موجود ہے ۔اگر اختصار کو مدنظر نہ رکھا جاتا تو ہم یہاں تفصیل ذکر کردیتے ۔

سونے کی زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے جو عربی ریال میں تقریباً 56ریال بنتاہے چاندی کی زکوٰۃ52تولہ پر فرض ہوتی ہے ۔اس مال کو اگر ایک سال تک اپنی ملکیت میں رکھا جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے ۔مال کا حاصل شدہ منافع بھی ملکیت میں شامل ہوتا ہے ۔

سونے چاندی کے نصاب کے حکم میں موجودہ دور کی کرنسی بھی شامل ہے ۔یعنی اگر روپے ریال یا ڈالر کی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے جتنی موجود ہے ۔تو اس پر بھی زکوٰۃ ہے ۔عورتوں کے زیورات پرزکوٰۃ ہوتی ہے ۔اگرچہ یہ زیورات ذاتی استعمال کی چیزیں ہوں پھر بھی زکوٰۃ لازمی ہے۔ کیونکہ حدیث ِنبوی موجود ہے کہ آپ نے ایک عورت کے ہاتھوں میں کنگن دیکھے تو فرمایا کیا تم اسکی زکوٰۃ ادا کرتی ہو ؟اس عورت نے انکار کیا تو آپ نے فرمایاکیا تم پسند کرتی ہو کہ کل قیامت کے دن اﷲتعالیٰ اسکو جہنم کی آگ بنا دے ۔یہ سن کر اس عو رت نے کنگن اتار دیئے او رکہا یہ مال اﷲ او ر اسکے رسول کے لئے ہے (ابو داود)۔

سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے سونے کا ایک زیور بنایا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا ’’جس مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے وہ کنزنہیں ہوتا ‘یعنی اسکی پکڑ نہیں ہوتی ۔سامان ِتجارت جو کاروبار کے لئے رکھا جائے اسکی سال کے آخر میں قیمت لگائی جائے گی اور اس قیمت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں ادا کیا جائے گا۔ سال کے آخر میں قیمت لگاتے وقت اس سامان کی موجودہ قیمت لگائی جائے گی ۔اگرچہ یہ قیمت سامان کے اصل ریٹ سے کم ہو یا زیادہ۔ سیدنا سمرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں کاروبار کے لئے تیار کردہ سامان کی قیمت لگا کرزکوٰۃ نکالنے کا حکم دیا ہے (ابو دائود)۔ اس سامانِ تجارت میں اراضی گھر اور مشینیں وغیرہ شامل ہیں جو تجارت کے لئے ہوں ۔وہ گھر جو بیچنے کے لئے نہ ہوں بلکہ کرائے پر دئیے جائیں تو ان گھروں یا دکانوں کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں ہوگی بلکہ اسکے کرائے پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ہو گی۔ اسی طرح ذاتی استعمال کی گاڑیوں اور ٹیکسیوں پر بھی زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ لیکن ان گاڑیوں کے مالک کے پاس اگر نصاب کے مطابق رقم جمع ہوجائے اور اس پرسال بھی گزر جائے تو پھر زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ اگرچہ یہ رقم خرچ، شادی یا زمین خریدنے کے لئے رکھی ہوتی ہو۔ اسی طرح یتیم یا مجنوں افراد کے پاس اتنا مال موجود ہو جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہو تو اسکے ولیوں کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ نکالیں۔

زکوٰۃ مستحقین کا حق ہے لہٰذااسکو غیر مستحقین کو نہیں دینی چاہیے۔ اس زکوٰۃ کے ذریعے انسان کو فائدہ حاصل کرنا یا ذاتی نقصان سے بچنے کے لئے استعمال کرنابھی درست نہیں ہے ۔ بلکہ صرف خلوصِ نیت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی رضا او رخوشنودی کے لئے مستحقین کو زکوٰۃ ادا کی جائے (آ ج کل مختلف گلو کاروں نے کچھ رفاہی ادارے قائم کیے ہیں او روہ لوگوں کی زکوٰۃ اکٹھا کرتے ہیں ایسے اداکاروں اور گلو کاروں کو زکوٰۃ ادا نہیں کرنی چاہیے )مترجم۔

اﷲتعالیٰ مصارفِ زکوٰۃ بیان فرماتے ہیں ۔فرمان الٰہی ہے (بے شک زکوٰۃ فقرائ، مساکین، عاملین (زکوٰۃ اکٹھا کرنے والے )تالیفِ قلبی کے لئے ۔گردنوں کو آزاد کرنے کے لئے۔ تاوان زدہ کے لئے۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں۔ اور مسافروں کے لئے۔ یہ اﷲکا فریضہ ہے۔ اور اﷲتعالیٰ علیم وحکیم ہے)۔

اس آیت کے آخر میں اﷲتعالیٰ نے یہ دو نام ذکر فرمائے ہیں ۔بندوں کے لئے اس میں اﷲتعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے زکوٰۃ دینے اور نہ دینے کو جانتا ہے ۔اور اﷲحکیم بھی ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ زکوٰۃ کا کون مستحق ہے ۔اﷲتعالیٰ اشیاء کی مقدار اور تعداد پر حکیم ہے۔ وہ کسی چیز یا شخص کوضائع نہیں کرتا ۔اگرچہ بعض لوگوںپر یہ حکمتیں مخفی ہوتی ہیں۔ اﷲتعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم بہتر سے بہتر عمل کریں۔ اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔

اصل مضمون نگار : احکامِ زکوٰۃ

Monday, 18 July 2011

Sunday, 10 July 2011

Zakat Ki Haqeeqat - Hindi Islamic Books

Zakat Ki Haqeeqat



Pages: 9

Size: 0.2 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Friday, 8 July 2011

Zakatul Fitr ki Maatra - hindi Islamic Books

Zakatul Fitr ki Maatra


Pages: 5

Size: 0.1 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Thursday, 7 July 2011

Zakat ul Fitr ko Uske Samay Se Deri Karna - Hindi Islamic Books

Zakat ul Fitr ko Uske Samay Se Deri Karna

Pages: 5

Size: 0.2 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Thursday, 9 June 2011

Zakat Aur Uske Fawaid - Online Books

بسم الله الرحمن الرحيم


زکاۃ اوراسکے فوائد




  أردو- الأردية] : محمد بن صالح بن عثيمين

ترجمة : عطاءالرحمن ضياء الله

مراجعه : شفيق الرحمن ضياء الله المدني

زکاۃ اسلام کے فرائض میں سے ایک عظیم فریضہ اورشہادتین اورنماز کے بعد اسکے ارکان میں سے ایک اہم ترین رکن ہے,اسکے واجب ہونے پراللہ تعالى کی کتاب,اسکے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت اورمسلمانوں کا اجماع دلالت کرتا ہے-
جس نے اس کے وجوب کا انکارکیا وہ اسلام سے مرتد اورکافرہے ,اس سے توبہ کروایا جائے گا,اگروہ توبہ کرلیتا ہے توٹھیک ,ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا- اورجوشخص اسکی ادائیگی میں بخیلی کرتا ہے یا اسمیں سے کچھ کمی کرتا ہے تووہ ظالموں میں سے ہے اوراللہ تعالى کی سزا کا مستحق ہے,اللہ تعالى کا ارشاد گرامی ہے:
{وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ} (سورة آل عمران: 180)
"جنہیں اللہ تعالى نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اسمیں اپنی کنجوسی کواپنے لیے بہترخیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لئے نہایت بدترہے ,عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیزکے کے طوق ڈالے جائیں گے ,آسمانوں اورزمین کی میراث اللہ تعالى ہی کے لئے ہے,اورجوکچھ تم کررہے ہو,اس سے اللہ تعالى آگاہ ہے"

صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص کواللہ تعالى نے مال سے نوازا ہے اوروہ اسکی زکاۃ ادانہیں کرتا ہے توقیامت کے دن اس (مال )کو اسکے لئے ایک زہریلے سانپ کی شکل میں بنایا جائےگاجس کی آنکھ کے اوپردوسیاہ نقطے ہوں گے ,جواسکے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جائے گا,پھروہ اسکی دونوں باچھیں (جبڑوں کو) پکڑکہے گا :میں تیرا مال ہوں ,میں تیراخزانہ ہوں"-
(شجاع: نرسانپ کوکہتے ہیں, اوراقرع: اس سانپ کوکہتے جس کے زہرکی کثرت کیوجہ سے اسکے سرکے بال گرگئے ہوں)
اوراللہ تعالى کا فرمان ہے : { وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأَنفُسِكُمْ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ} (سورة التوبة 34-35)
"اورجولوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اوراللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبرپہنچادیجئے- جس دن اس خزانے کوآتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھراس سے ان کی پیشانیاں اورپہلو اورپیٹھیں داغی جائیں گی(ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بناکررکھا تھا, پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو"-(التوبہ:34-35)

صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جوبھی سونایا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکاۃ) ادانہیں کرتا ہے ,اسکے لئے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیارکی جائیں گی اور انھیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا,پھراس سے اسکے پہلو,اسکی پیشانی اورپشت کوداغا جائے گا,جب جب بھی وہ ٹھنڈی ہوجائے گی دوبارہ اسی طرح عمل کیا جائے گا,یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدارپچاس ہزارسال کی ہوگی,(یہ حالت اس وقت تک رہے گی) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے"-
زکاۃ کے کچھ دینی,اخلاقی اورمعاشرتی فائدے ہیں,جن میں سے درج ذیل کا ہم تذکرہ کررہے ہیں:

زکاۃ کے دینی فائدے:
1- یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن کی ادائیگی ہے جس پردنیا وآخرت میں بندہ کی نیک بختى اورکامیابی وکامرانی کا دارومدارہے-
2- یہ بندہ کواسکے رب سے قریب کردیتی ہے اوراسکے ایمان میں اضافہ کرتی ہے,بالکل اسی طرح جس طرح کی دیگرطاعتوں (نیکیوں) کے انجام دینے سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے-
3- زکاۃ کی ادائیگی پربہت بڑااجروثواب حاصل ہوتا ہے,اللہ تعالى کا فرمان گرامی ہے:
4- {يَمْحَقُ اللّهُ الْرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ}
5- "اللہ تعالى سود کومٹاتا ہے اورصدقہ کوبڑھاتا ہے"-(سورة البقرة : 276 )
اورفرمایا:
{وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّهِ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ}
"تم جوسود پردیتے ہوکہ لوگوں کےمال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالى کے ہاں نہیں بڑھتا- اورجوکچھ صدقہ وزکاۃ تم اللہ تعالى کی خوشنودی کے لئے دوتوایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچندکرنے والے-(سورة الروم : 39)
اورنبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جوشخص پاکیزہ (حلال) کمائی سے ایک کھجورکے برابرصدقہ کرتا ہے – اوراللہ تعالى صرف پاک چیزہی کوقبول فرماتا ہے- تواللہ تعالى اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے ,پھراسکی اسی طرح پرورش (افزائش) کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شحص اپنے بچھیرے(گھوڑے کے بچے) کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ (صدقہ کیا ہوامال ) پہاڑکی مانند ہوجاتا ہے "-(صحیح بخاری ومسلم)-

4-اللہ تعالى اسکے سبب خطاؤوں کومعاف کردیتا ہے ,جیسا کہ " نبی صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے صدقہ "گناہ کوایسے ہی مٹادیتا ہے جسطرح پانی آگ کوبجھادیتی ہے۔
یہاں پرصدقہ سے (واجبی )زکاۃ اورعام (نفلی) صدقات وخیرات سب مراد ہیں-

زکاۃ کے اخلاقی فوائد:
1- یہ زکاۃ اداکرنے والے کوسخی وفیاض اورارباب جودوکرم کے زمرے سے ملادیتی ہے
2- زکاۃ کی وجہ سے زکاۃ اداکرنے والے اپنے فقیرومحتاج بھائیوں پرمہربانی وہمدردی کرنے کی خوبی سے آراستہ ہوجاتے ہیں,اورمہربانی کرنے والوں پراللہ رحم فرماتا ہے –
3- اس بات کا مشاہدہ ہے کہ مسلمانوں کومالی اورجسمانی نفع پہنچانے سے شرح صدراوردل کا سروروانبساط حاصل ہوتا ہے اوراسکے سبب انسان اپنے بھائیوں کونفع پہنچانےکے بقدرمحبوب اورمعززومکرم ہوجاتا ہے –
4- زکاۃ کی ادائیگی سے صاحب زکاۃ کا اخلاق بخیلى اورکنجوسی سے پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالى کا فرمان ہے: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا } (سورة التوبة : 103)
"آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے ,جس کے ذریعہ سے آپ انکوپاک وصاف کردیں" (التوبۃ: 103)

زکاۃ کے معاشرتی فائدے
1-زکاۃ سے غریبوں کی ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے جن کی بیشترممالک میں اکثریت ہے-
2-زکاۃ کے اندرمسلمانوں کی تقویت اورانکے شان کی بلندی ہے,اسی لئے زکاۃ کا ایک مصرف جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے جسے ہم ان شاء اللہ عنقریب ذکرکریں گے-
3- فقیرومحتاج وبدحال لوگوں کے دلوں میں جوکینہ وکپٹ اورعداوت ودشمنی ہوتی ہے زکاۃ کے ذریعہ اسکا خاتمہ ہوجاتا ہے ,کیونکہ جب فقیرومحتاج لوگ مالداروں کومال ودولت سے محظوظ ہوتے دیکھتے ہیں اورتھوڑایازیادہ کچھ بھی انھیں اس سے فائدہ نہیں پہنچتا ہے توبسا اوقات انکے دلوں میں مالداروں کے خلاف کینہ وعداوت جنم لیتا ہے کہ انہوں نے انکے حقوق کی رعایت نہیں کی اورانکی کسی ضرورت کوپورانہیں کیا,لیکن اگرمالدارلوگ اپنے اموال میں سے کچھ حصہ ہرسال ان پرخرچ کرتے ہیں تویہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں اورانکے مابین محبت والفت پیداہوجاتی ہے-

4-اس سے مال کے اندرنمووبڑھوتری ہوتی ہے اوراسکی برکت میں اضافہ ہوتا ہے جیساکہ حدیث میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے وارد ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:"صدقہ سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے"-
یعنى اگرچہ صدقہ سے مال کے اندرتعداد کے اعتبارسے توکمی واقع ہوتی ہے لیکن اسکی برکت اورمستقبل میں اسمیں زیادتی اوراضافہ ہونے میں ہرگزکمی واقع نہیں ہوتی ہے ,بلکہ اللہ تعالى اسکا نعم البدل عطافرماتا ہے اوراسکے مال میں برکت دیتا ہے-
5-زکاۃ سے مال کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے,اسلئے کہ جب مال کا کچھ حصہ خر چ کیا جاتا ہے تواسکا دائرہ بڑھ جاتا ہے اوراس سے بہت سے لوگ مستفید ہوتے ہیں ,برخلاف اسکے کہ اگروہ مالداروں کے بیچ ہی گردش کرتا رہے ,فقیرومحتاج لوگوں کواس سے کچہ بھی نہ ملے-
زکاۃ کے یہ تمام فوائد اس بات پردلالت کرتے ہیں کہ فردومعاشرہ کی اصلاح کیلئے زکاۃ ایک ضروری چیزہے ,اورپاک ہے اللہ کی ذات جوعلم وحکمت والی ہے-
زکاۃ کچھ مخصوص مالوں کے اندرواجب ہے ,انہی میں سے سونا اورچاندی ہے بشرطیکہ وہ نصاب تک پھنچ جائیں ,سونے کانصاب گیارہ سعودی جنیہ(سونےکاسکہ)اورایک جنیہ کا تین ساتواں (3/7) حصہ ہے –اورچاندی کا نصاب چاندی کا چھپن سعودی ریال یا اسکے مساوی بینک نوٹس (کرنسیاں) ہیں,اسکے اندرزکاۃ کی واجب مقداراڑھائی فیصد ہے اوراسمیں کوئی شک نہیں کہ وہ سونا اورچاندی سکوں یا بغیرڈھلے ہوئے ڈھیلے یا زیورکی شکل میں ہوں- بنابریں عورت کے سونے اورچاندی کے زیورمیں بھی زکاۃ واجب ہے اگروہ نصاب تک پہنچ جائے ,اگرچہ وہ اسکوپہنتی یاعاریت (منگنی) دیتی ہو-
اسلئے کہ سونا اورچاندی کے زکاۃ کوواجب کرنے والی دلیلیں بغیرکسی تفصیل کے عام ہیں,اوراسلئے کہ کچھ خاص حدیثیں بھی واردہوئی ہیں جوزیورمیں زکاۃ کے واجب ہونے پردلالت کرتی ہیں اگرچہ اسے پھنا جانا ہو, مثال کے طورپرعبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ ایک خاتون نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اورانکی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دوموٹے کنگن تھے ,توآپ نے فرما:"کیاتم اسکی زکاۃ دیتی ہو"؟ اس نی کہا :نہیں ,آپ نے فرمایا :"کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تجھے ان دونوں کے بدلے آگ کے دوکنگن پہنائے "؟ چنانچہ اس عورت نے وہ دونوں کنگن نکال کرپھینک دئے اورکہا:"یہ دونوں اللہ اوراسکے رسول کیلئے ہیں"-
صاحب بلوغ المرام نے کہا ہےکہ اس حدیث کوائمہ ثلاثہ (یعنى ابوداؤد,نسائی ترمذی)نے روایت کیا ہے ,اوراسکی اسناد قوی ہے-
اوراسلئے بھی کہ اسمیں احتیاط کا پہلوزیادہ ہے ,اورجس کے اندراحتیاط کا پہلوزیادہ ہووہی اولی وبہترہے-
جن اموال میں زکاۃ واجب ہے انہى میں سے تجارت کا سامان بھی ہے ,اوراسمیں ہروہ چیزداخل ہے جسے تجارت کےلئے تیا رکیا گیا ہو,جیسے زمین وجائداد ,گاڑیاں ,مویشی ,کپڑے اوراسکے علاوہ مال کے دیگراصناف واقسام ,اسکے اندرزکاۃ کی واجب مقداراڑھائی فیصد ہے,سال کے اختتام پراسکی قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا ,اوراسکی اڑھائی فیصد نکالی جائے گی ,خواہ اسکی مالیت ,قیمت خرید سے کم ,یا اس سے زیادہ ,یا اسکے مساوی ہو-
البتہ جس چیزکواسنے اپنی حاجت کیلئے ,یا کرایہ پردینے کیلئے رکھا ہے جیسے زمینی جائداد,گاڑیاں ,سازوسامان وغیرہ تواسمیں زکاۃ نہیں ہے,اسلئے کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :"مسلمان پراسکے غلام اورگھوڑے میں زکاۃ واجب نہیں ہے"- لیکن سال پوراہونے پرکرایہ سے حاصل ہونے والی اجرت میں زکاۃ واجب ہے, اسی طرح سابقہ دلیلوں کی بنیاد پرسونے اورچاندی کے زیورمیں بھی زکاۃ واجب ہے –
ساتویں فصل:

اہل زکاۃ کے بیان میں
اہل زکاۃ سے مراد وہ جہات (مصارف ) ہیں جنہیں زکاۃ دی جاتی ہے ,اللہ تعالى نے زکاۃ کے مستحقین کا بیان ازخود فرمایا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} (سورة التوبة: 60)
" صدقے (زکاۃ )صرف فقیروں کیلئے ہے اورمسکینوں کیلئے اورانکے اصول کرنے والوں کیلئے اورانکے لئے جن کے دل پرجائے جاتے ہوں اورگردن چھڑانے میں اورقرض داروں کیلئے اوراللہ کی راہ میں اورراہرومسافروں کیلئے ,فرض ہے اللہ کی طرف سے اوراللہ علم وحکمت والا ہے"-

اس طرح زکاۃ کے آٹھ مصارف ہیں:
اول: فقراء یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی کفایت کی روزی میں سے صرف تھوڑی چیزیعنى نصف سے بھی کم میسرہوتی ہے,اگرانسان کے پاس اپنے نفس اوراہل وعیال پرخرچ کرنے کیلئے آدھے سال کا بھی انتظام نہیں ہے تووہ فقیرہے اوراسے اتنی زکاۃ دی جائے گی جواسکے اوراسکے اہل وعیا ل کیلئے سال بھرکیلئے کافی ہو-

دوم : مساکین,یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی کفایت کی آدھی یا اس سے زیادہ روزی میسرہوتی ہے,لیکن انکے پاس پورے سال کی روزی کا بندوبست نہیں ہوتا, چنانچہ انکے سال بھرکا خرچ زکاۃ کے رقم سے پوراکردیا جائے گا-
اگرآدمی کے پاس نقود نہ ہوں ,لیکن اسکے پاس آمدنی کا کوئی دوسراذریعہ جیسے صنعت وحرفت,یا تنخواہ یا کوئی اورکام ہوجس سے وہ اپنی کفایت بھرروزی کا بندوبست کرسکتا ہے تواسے زکاۃ نہیں دی جائے گی-اسلئے کہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :مالدارکیلئے اورکمانے کی طاقت رکھنےوالے تواناشخص کے لئے زکاۃ کے مال میں سے کوئی حصہ (حق) نہیں ہے"-

تیسرا: کارکنان زکاۃ ,یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ملک کا عام حکمراں زکاۃ وصول کرنے ,اسے اس کے مستحقین پرتقسیم کرنے اوراسکی حفاظت ونگہداشت کرنے وغیرہ ذمہ داری سونپتا ہے,ایسے لوگوں کوانکے کام(محنت) کے مطابق زکاۃ کے مال سے دیا جائے گا اگرچہ وہ لوگ مالدارہی کیوں نہ ہوں-

چوتھا: وہ لوگ جنکے دلوں کی تالیف( دل جوئی ) مقصودہو,اس سے مراد وہ سرداران قبائل ہیں جن کے ایمان میں مضبوطی وپختگی نہ ہوایسے لوگوں کوزکاۃ کے مال سے دیا جائے تاکہ انکے ایمان مضبوط وپختہ ہوجائیں اوروہ اسلام کے داعی اورایک قدوہ ونمونہ بن جائیں- اگرانسان کااسلام کمزورہولیکن وہ قابل اطاعت سرداروں (بااثرورسوخ لوگوں) میں سے نہ ہو,بلکہ عام لوگوں میں سے ہوتوکیا اسکے ایمان کومضبوط بنانے کیلئے اسے زکاۃ کا مال دیا جائے گا کہ نہیں؟
بعض علماء کا خیال ہے کہ اسے زکاۃ کا مال دیا جائے گا؛اسلئے کہ دین کی مصلحت جسم کی مصلحت سے عظیم ترہے,اورجب اسے فقیرہونے کی صورت میں اسکے جسم کوغذاوخوراک بہم پہنچانے کےلئے زکاۃ دی جاتی ہے تواسکے دل کوایمان کی غذابہم پہنچانا زیادہ نفع بخش اوربڑھکرہے – جبکہ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اسے زکاۃ نہیں دی جائے گی؛اسلئے کہ اسکے ایمان کی تقویت سے حاصل ہونے والی مصلحت انفرادی اوراسی کے ساتھ مخصوص ہے-

پانچواں: گردن آزاد کرنا,اس مصرف میں زکاۃ کے مال سے غلام خریدکرآزاد کرنا,مکاتب غلام(جس نے اپنے مالک سے آزادی کا معاہدہ طے کررکھا ہے ) کی مددکرنا اورمسلمان قیدیوں کوچھڑانا داخل ہے-

چھٹا: قرض دار,اس سے مراد وہ قرض دارلوگ ہیں جنکے پاس اپنے قرض کی ادائیگی کی طاقت نہ ہو,ایسے لوگوں کوزکاۃ کے مد سے اتنی رقم دی جائے گی جس سے وہ اپنے قرض کی ادائیگی کرسکیں خواہ وہ قرض تھوڑا ہویا زیادہ ,اگرچہ وہ روزی کے اعتبارسے مالدارہی کیوں نہ ہوں,اگرمان لیاجائے کہ کوئی ایسا شخص ہے جسکے پاس کوئی ذریعہ آمدنی ہے جواسکی اوراسکے اہل وعیال کی روزی کیلئے کافی ہے,مگراسکے اوپراتنا قرض ہے جسکی ادائیگی کی وہ طاقت نہیں رکھتا ہے,تواسے اتنى زکاۃ دی جائے گی جس سے اسکے قرض کی ادائیگی ہوسکے-
آدمی کیلئے یہ جائزنہیں ہے کہ وہ اپنےفقیرمقروض شخص سے قرض کوساقط کردےاوریہ نیت کرے کہ وہی اسکے مال کا زکاۃ ہے-
علماء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگرقرض دارشخص آدمی کا باپ یا بیٹا ہو,توکیا اسے اپنےقرض کی ادائیگی کیلئے زکاۃ کا مال دیا جاسکتا ہے ؟صحیح قول یہ ہے کہ اسے زکاۃ کا مال دے سکتے ہیں-
اگرصاحب زکاۃ جانتا ہے کہ قرض دارشخص اپنے قرض کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھتا ہے,تواسکے لئے جائزہے کہ وہ صاحب حق کے پاس جائے اوراسکے حق کی ادائیگی کردے اگرچہ قرض دارکواسکا علم نہ ہو-

ساتواں: فی سبیل اللہ( اللہ کے راستہ میں) ,اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے,چنانچہ مجاہدین کوزکاۃ کی اتنی رقم دی جائے گی جوان کے جہاد کیئلئے کافی ہو,اسی طرح زکاۃ کے مال سے جہاد فی سبیل اللہ کیلئے جنگی سازوسامان خریدے جائیں گے-
اللہ کے راستے میں شرعی علم بھی داخل ہے ,چنانچہ شرعی علم حاصل کرنے والے طلباء کوزکاۃ کا مال دیا جائے گا تاکہ وہ علم حاصل کرنے کیلئے کتابیں وغیرہ فراہم کرسکے,الا یہ کہ خود اسکے پاس مال ہوجس سے وہ تحصیل علم کرسکے-

آٹھواں: ابن سبیل( مسافر) ,اس سے مراد وہ مسافرہے جسکا سفرمنقطع ہوگیا ہویعنى دوران سفراسکا زادراہ ختم ہوگیا ہو,چنانچہ اسے زکاۃ کے مال سے اتنی رقم دی جائے گی جس سے وہ اپنے شہر(وطن) تک پہنچ سکے-
یہی لوگ زکاۃ کے مستحقین ہیں جنکا ذکراللہ تعالى نے اپنی کتاب میں کیا ہے,اوراس بات کی خبردی ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے جوعلم وحکمت سے صادرہواہے اوراللہ تعالى علم وحکمت والا ہے-
زکاۃ کی رقم کواسکے مذکورہ مستحقین کے علاوہ کسی اورمصرف مثلا مساجد کی تعمیراورراستے کی اصلاح وغیرہ میں خرچ کرنا جائزنہیں ہے ,اسلئے کہ اللہ تعالى نے اسکے مستحقین کوحصرکے طورپرذکرکیا ہے,اورحصرکا فائدہ یہ ہے کہ وہ غیرمحصورسے حکم کی نفی کرتا ہے-
زکاۃ کے مذکورہ بالا مصارف میں جب ہم غوروفکرکرتے ہیں توپتہ چلتا ہے کہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جوبذات خودزکاۃ کے ضرورت مند ہوتے ہیں ,اورکچھ ایسے ہیں جن کی مسلمانوں کوضرورت پڑتی ہے,اس سے ہمیں اس بات کا بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ زکاۃ کے واجب قراردیےجانے میں کسقدرحکمت ہے,اسکی حکمت ایک مکمل صالح معاشرہ کی تعمیرہے جوبقدرامکان خود کفیل ہو,اوریہ کہ اسلام نے مال ودولت کواورمال ودولت پرمبنی ممکن مصلحتوں کونظراندازنہیں کیا ہے,اورنہ ہی لالچی اوربخیل نفوس کے لئے ان کی کنجوسی اورہواپرستی کی آزادی چھوڑی ہے ,بلکہ اسلا م خیروبھلائی کا سب سے بڑا راہنما اورقوموں کی اصلاح کا سب سے بڑا علمبردارہے, اورہرقسم کی تعریف اللہ رب العالمین کےلئے ہے-

زکاۃ الفطر
زکاۃ فطرایک فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے اختتام پرفرض قراردیا ہے- عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
"رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے غلام اورآزاد,مرد اورعورت ,چھوٹے اوربڑے تمام مسلمانوں پررمضان کے اختتام پرزکاۃ فطرفرض قراردیا ہے"-(صحیح بخاری وصحیح مسلم)
زکاۃ فطرلوگوں کی عام خوراک کی انواع واصناف میں سے ایک صاع کی مقدارہے, ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
"ہم نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید الفطرکے دن ایک اشیائے خوراک میں سے ایک صاع نکالتےتھے,اور(اسوقت) ہماراخوراک جو,کشمش,پنیراورکھجورتھا"-(صحیح بخاری)

لہذا روپئےپیسے (نقدی),بستربچھونے ,لباس,چوپایوں کے خوراک ,سازوسامان وغیرہ سے زکاۃ فطرنکالنا کفایت نہیں کرےگا ,کیونکہ یہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہے ,اورنبی صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پرہماراحکم نہیں ہے تووہ عمل مردود(ناقابل قبول) ہے"-
صاع کی مقداراچھے قسم کے گندم سے دوکلوچالیس گرام (2.040kg) ہے ,یہی صاع نبوی کی مقدارہے جسکے ذریعہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فطرہ (فطرانہ) کی مقدارمقررکی ہے-
صدقہ فطرنمازعید سے پہلے نکالنا واجب ہے ,افضل یہ ہے کہ اسے عید کے دن نمازعید سے پہلے نکالا جائے,عید سےایک یا دودن پہلے بھی نکالنا کافی (جائز) ہے,البتہ نمازعید کے بعد نکالنا کفایت نہیں کرے گا,اسلئے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ:
"نبی صلى اللہ علیہ وسلم نےروزہ دارکولغوورفث سے پاک کرنے اورمساکین کوخوراک مہیا کرنے کیلئے زکاۃ فطرقرض قراردیا ہے,چنانچہ جس نے اسکی ادائیگی نمازعید سے پہلے کردی تووہ مقبول زکاۃ ہے ,اورجسنے اسے نمازعید کے بعد اداکیا تووہ عام صدقات وخیرات کی طرح ایک صدقہ ہے"-(ابوداود,ابن ماجہ)
لیکن اگراسے عید کا پتہ نمازکے بعد چلے ,یا وہ اسکے نکالنے کے وقت شہرسے باہرصحرا(بیابان) میں یا ایسے شہرمیں تھا جہاں اسکا کوئی مستحق نہیں,تواسے نمازکے بعدنکالنا کفایت کرے گااگروہ نکالنے پرقادرہے- واللہ اعلم وصلى اللہ على نبینا محمد وآلہ صحبہ.

Sunday, 27 February 2011

Nizam e Zakat - Jalaluddin Qasmi (Cd/Dvd Quality)

Nizam e Zakat
نظام زکاۃ
Jalaluddin Qasmi
مختصر بیان: زیر نظر ویڈیو میں زکاۃ کی اہمیت وفضیلت , اسکی فرضیت, اسکے مصارف ومستحقین اور تارکین زکاۃ کے عقاب وسزا کے متعلق نہایت ہی عمدہ بیان پیش کیا گیا ہے.