Showing posts with label Jannat / Dozakh. Show all posts
Showing posts with label Jannat / Dozakh. Show all posts

Wednesday, 12 September 2012

Jannat Ki Baharein - جنّت کی بہاریں - Cd/Dvd Quality Video

Jannat Ki Baharein





جنّت کی بہاریں






مختصر بیان: نبي كريم صلى الله عليہ وسلم نےفرمایا کہ اللہ تعالى فرماتا ہے :کہ میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے وہ کچھ تیار کررکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا’ نہ کسی بشر کے دل میں اسکا خیال گزرا (بخاری). ویڈیو مذکور میں شیخ عطاء الرحمن سعیدی حفظہ اللہ نے جنت کا حقيقى مفہوم بیان کرکے جنت کی پربہار نعمتوں کا نہایت ہی دلکش وحسین اسلوب میں تذکرہ کیا ہے’ ساتھ ہی ساتھ ان نعمتوں کے حصول کے شرائط واسباب وغیرہ کو بھی تفصیلا بیان کیا ہے. نہایت ہی مفید ویڈیو ہے ضرور مشاہدہ فرمائیں.

Friday, 31 August 2012

Jahannum Se Bacho! - جہنّم سے بچو - Cd/Dvd Quality Video

Jahannum Se Bacho!



جہنّم سے بچو




مختصر بیان: جہنم کیا ہے؟ جہنم کے کیا اوصاف ہیں؟ جہنم میں لیجانےٍ والے اعمال کیا ہیں؟جہنم کے مستحقین کون ہیں؟ جہنم سے کیسے بچا جائے؟ ان سب کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کیلئے شيخ عطاء الرحمن سعيدى حفظه الله کے اس ویڈیو کا ضرور مشاہدہ فرمائیں.


Monday, 16 July 2012

Thursday, 14 June 2012

Jannat Ke Manazir Aur Uske Haqdar - جنت کے مناظر اور اسکے حقدار - Cd/Dvd Quality Video

 Jannat Ke Manazir Aur Uske Haqdar



جنت کے مناظر اور اسکے حقدار

Shaikh Abdul Wahhab Madni





مختصر بیان: زیرنظر ویڈیو میں شیخ عبدالمجیدبن عبدالوہاب مدنی حفظہ اللہ نے جنت کے مناظراور اسکے حقدار سے متعلق نہایت ہی عمدہ گفتگو فرمائی ہے جسمیں مندرجہ ذیل عناصرکو موضوع بحث بنایا ہے:1-جنت کا معنى ومفہوم اور اسکا وجود2-جنت کے مختلف نام 3-جنت اور جنتیوں کے حالات وصفات4-جنت کے درجات ومراتب 4- جنت کے حقدار کون ؟ 5-جنت کے حصول کے شرائط وغیرہ. اس موضوع کا مشاہدہ نیکیوں کے حصول میں مہمیزکا کام کرے گا .

Sunday, 8 April 2012

Shahirah e Jannat - شاہراہ جنت - Online Books

شاہراہ جنت

اے مسافران جنت!آؤ تمہیں حقیقی شاہراہ جنت پر لے کرجاتا ہوں جنت کاراستہ بہت سادہ ترین الفا ظ میں سرور عالم نے بتلا دیا ہے :
1-میں تمہیں ایک روشن دین پر چھوڑ کرجارہا ہوں جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے اس دین سے جوہٹے گاوہ ہلاک ہوجائے گا۔
2- تم میں سے ہر شخص جنت میں جائے گا مگر جس نے انکار کیا وہ نہیں جائے گا ۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کون انکار کرے گا؟۔فرمایا ’’جو میری اطاعت کرے گا وہ جنتی ہے اور جس نے نافرمانی کی گویا اس نے انکار کیا‘‘۔
سوچئے ! پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں حدیثوں میں بڑا واضح اور خط مستقیم کی طرح سیدھا راستہ بتادیا ہے تو آئیے ہم باہم بھائی چارے ، محبت اور اتفاق کے ساتھ اسی راستے کے راہی
بنیں۔ لیکن ٹھہرئیے ہم مزید آگے بڑھنے سے پہلے دو اہم ترین پہلوؤں پر غور کر لیں راہ جنت پر چلنے والے چار معاملات کاخیال رکھیں ، جن میں دو سے لازماً اجتناب کیاجائے اور دو پر لازماً عمل کیا جائے۔ 1شرک باللہ 2گناہ سے اجتناب 3ایمان باللہ 4عمل صالح۔
ان چاروں معاملات کی طرف کلمہ توحید ’’لا الہ الااللہ ، محمد رسول اللہ ‘‘ میں اشارہ کیاگیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ہے سو ایک اللہ پر ایمان و یقین رکھاجائے ۔اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی جائے ۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں ، آپ نے بتلایا ہے کہ کیسے اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔اور رسول اللہ کے ارشاد و بیان کے بغیر نہ عبادت ہوگی نہ ایمان۔لہٰذا ہمیں پختہ ایمان و عقیدہ رکھنا چاہیئے کہ ہمارا خالق وہ ہے جو خالق کائنات ہے دنیا کے نظام کو چلانے والا ہے ، کائنات اسکی مشیت و حکمت کے بغیر چل نہیں سکتی۔اللہ کی قدرت و علم سے اس نظام کائنات کاانتظام و اہتمام جاری و ساری ہے ۔ہمارا اعتقاد ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی اسکی حکومت ، خالقیت و مالکیت میں شریک نہیں ہے ۔اگر کوئی شریک ہوتا تو دنیا جلد ازجلد فنا کے گھاٹ اتر جائی ۔اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دیجئے اگر اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ ہوتا تو دونوں بگاڑ پیدا کردیتے۔اللہ تعالیٰ عرش کارب ہے ۔اور پاک ہے ان صفات سے جو یہ بیان کرتے ہیں ۔
جب ہمارا عقیدہ یہ ہوا خالق مالک ایک اللہ ہے تو یہ بھی عقیدہ ہونا چاہیئے کہ معبود و مسجود بھی ایک اللہ ہی ہے ۔تمام عبادات اسی کے لئے ہیں یہ عبادت نما زہو ، دعا ہو، روزہ ہو، قربانی ، زکوۃ نذر و نیاز، خواہ کچھ بھی صرف اور صرف ایک اللہ کے لئے ہونی چاہیئے ۔
ہمارا اعتقاد ہونا چاہیئے کہ تمام انبیاء و رسل لوگوں کو جنت کاراستہ بتانے ، اور عوام الناس کو ایک اللہ کی توحید و اتباع کی طرف دعوت دینے لئے آتے تھے ۔اللہ تعالیٰ ، فرشتوں کتابوں اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے۔
عمل صالح میں پہلے نمازہے ہم نماز مکمل طہارت ، آداب و ارکان، اطمینان و سکون سے ویسے ہی ادا کریں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ادا کیاکرتے تھے۔آپ کا ارشاد بھی ہے تم نماز اس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھے دیکھتے ہو۔(بخاری)۔
ہم اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کریں ۔زکوۃ کے حقیقی حق دار ہمارے معاشرے کے فقراء مساکین محتاج مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں ۔ہم تلاش بسیار کے بعد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ان حق داروں کو زکوۃ دیں ۔
رمضان کے روزے ہمیں ، دل وزبان اور جسم کے گناہوں سے بچاتے ہیں روزوں سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے حج ادا کریں اور ہمارا حج حرام مال فسق و فجور لڑائی جھگڑے گالی گلوچ سے پاک ہونا چاہیئے۔
والدین سے نیک سلوک کریں ان پر اپنا مال انتہائی ادب و احترام سے خرچ کریں ۔قول و فعل میں نرمی پیدا کریں والدین کے غلط رویے کے باوجود اف تک نہ کہیں ۔اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں ان کے ساتھ اکثر وبیشتر ملاقات کیاکریں انکے احوال سے آشنائی رکھیں غریب رشتہ داروں کی مدد کریں پڑوسی اور مہمانوں سے حسن سلوک کاحکم اسلام نے دیا ہے انکا خیال رکھیں۔
مؤمن کی عزت کریں ۔کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو گالی نہ دے ۔ملے تو سلام کرے۔ چھینکنے پر الحمدللہ پڑھیں۔کوئی پڑھے تو اس کو دعا رحمت دیں ۔مومن فوت ہوجائے تو جنازے میں شریک ہوں ۔بیمار ہوتو عیادت کریں۔کوئی قسم کھالے تو اسکی قسم کوپورا کریں۔ کسی مسلمان کوکافر نہ کہیں اپنے قول وفعل میں میانہ روی اختیار کریں ۔شرک اور اسکے مظاہر سے مکمل طور پر اجتناب کریں ۔چند باتیں شرک کے متعلق درج ہیں ۔
1 یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کوئی بھی کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتاکوئی سفارش اور مدد نہیں دے سکتا۔اللہ کے علاوہ کوئی عطا نہیں کرسکتا۔2 عبادت اللہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہوسکتی ہم غیراللہ کی قسم نہ کھائیں غیر اللہ کے لئے ذبیحہ نہ کریں کسی ولی کی قبر کو سجدہ نہ کریں۔ 3 ہم کسی مزار پر ، قبر پر،درگاہ پر کوئی دھاگہ تعویز نہ لٹکائیں کوئی ہم سے نقصان کو نہیں روک سکتا۔(ہرقسم کی قدرت طاقت صرف اللہ کے پاس ہے )ان خرافات سے دور رہیں۔ 4ہم کسی کاہن ، نجومی جادوگر کی تصدیق نہ کریں کسی علم غیب کادعوی کرنے والے کی تصدیق نہ کریں یہ سب جھوٹے ہیں غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ 5 ہم کسی حاکم ، استاد،ماں باپ کی اطاعت اس وقت نہ کریں جب وہ گناہ کاحکم دیں کوئی حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔
مذکورہ بالا پانچ اہم ترین عقائد پر عمل کرکے ہم نے جنت کی طرف بہت سا راستہ طے کرلیا ہے ۔آئیے ہم مزید راستہ طے کرتے ہیں۔ 1ہم اپنے دماغ کی حفاظت کریں کوئی بری بات نہ سوچیں بگاڑ، فساد،اور خرافات کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دیں۔ 2 اپنے کان کی حفاظت کریں کسی باطل ، فحش کلام کو نہ سنیں ، جھوٹ ، غیبت ، چغل خوری اور کفریہ کلام کو نہ سنیں گانے بجانے سے پرہیز رکھیں۔ 3ہم اپنی بصیرت کی حفاظت کریں بدنظری نہ کریں اجنبی عورتوں اور کوئی بھی مسلمان پر یاکافر پاکدامن ہویا گناہ گار کسی عورت کی طرف نہ دیکھیں اپنی آنکھوں کو جھکاکر رکھیں۔ 4 ہم اپنی زبان کی حفاظت کریں کوئی بے ہودہ فحش اور جھوٹی بات کو زبان سے ادا نہ کریں ۔غیبت ، گالی اور لعن طعن سے دور رہیں۔ 5ہم اپنے پیٹ کی حفاظت کریں کوئی حرام غذا یا مشروب استعمال نہ کریں ہم سود، مردار، خنزیر اور منشیات استعمال نہ کریں تمباکو ، گٹکا، اور سگریٹ سے دوررہیں ۔6ہم اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں بیوی کے علاوہ کسی عورت خادمہ سے ہم بستری نہ کریں بلکہ زنا کے قریب بھی نہ جائیں۔ 7ہم اپنے ہاتھ کی حفاظت کریں کسی کو مارنے،قتل کرنے کی کوشش نہ کریں مال حرام کونہ پکڑیں جوا نہ کھیلیں ہاتھوں سے کوئی غلط بات ، جھوٹ اور باطل نہ لکھیں۔8 ہم اپنے پاؤں کی حفاظت کریں کسی باطل فتنہ و فساد کی طرف چل کر نہ جائیں شر کو پھیلانے میں مصروف نہ ہوں ۔9ہم اپنے وعدوں کی حفاظت کریں گواہی ، امانت، اور ذمہ کو اس کے حق تک پہنچائیں اپنا وعدہ ، قسم نہ توڑیں جھوٹی قسم اور گواہی سے اجتناب کریں۔10ہم اپنے مال کی حفاظت کریں فضول خرچی ، اور ناحق کاموں میں ضائع نہ کریں حرام راہ میں خرچ نہ کریں۔11 ہم اپنے گھر کی حفاظت کریں اپنے گھر والوں کی حفاظت کریں اپنے گھر والوں کی عقل جسم عقائد اخلاق اور تربیت کے متعلق غوروفکر کریں۔ہر وہ چیز جو انکے اخلاق کردار میں بگاڑ پیدا کرے اسکو دور کریں ۔کیوں نہ ہم خود اور تمام گھر والے راہ جنت کے متلاشی بن جائیں دیکھئے سامنے ہمیں جنت بلارہی ہے ہم ہمیشہ اپنے رب سے دعاگو رہیں کہ اللہ ہمیں تمام گناہوں محرمات سے بچائے اور راہ جنت کاحقیقی مسافر بنائے ۔آمین۔شاہراہ جنت

Sunday, 8 January 2012

Aasmani Jannat Aur Darbari Jahannum - Urdu Books

Aasmani Jannat Aur Darbari Jahannum




Pages: 255

Size: 3.8 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Saturday, 31 December 2011

Kheme Aur Bazaar e Bahisht - خیمے اور بازار بہشت - Online Books

خیمے اور بازار بہشت
جنت میں خیمے بھی ہوں گے کیونکہ فرمان الٰہی ہے : جنت کی حوریں خیموں میں رہیں گی لیکن ان خیموں کی انواع و اقسام شکل وصورت اور ڈیزائن وغیرہ کی تفصیل اس فرمان نبوی میں ہے ’’بے شک مومنوں کے لئے جنت میں جوف دار موتیوں کے خیمے ہوں گے انکی طوالت میل ہوگی۔اور چوڑائی بھی یکساں ہوگی ان خیموں میں مؤمن کے گھر والے ہوں گے مؤمن ان کے پاس جائے گا اور ان خیموں کے رہائشی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پائیں گے ۔
اور اسی طرح بہشت میں بازار بھی ہوں گے ۔بلکہ جو چاہوگے ملے گا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اور تمہارے لئے جنت میں وہی کچھ ہے جو تمہارا دل چاہے گا ۔اور جو تم مانگو گے ‘‘لہٰذا یہ بات عجب نہیں کہ کوئی مؤمن خاص کر تاجر حضرات ، جنت میں بھی بازار کی خواہش کریں ۔ان کا دل چاہے
اور وہ چیز حاضر نہ ہو، ایسا تو کبھی بھی نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ان مؤمنوں کے لئے نئے نئے بازار تخلیق
کرے گا۔تمام انواع و اقسام کی چیزیں ان بازاروں میں موجود ہوں گی ۔سیدنا انس بن مالک بیان کرتے کہ پیارے نبی نے فرمایا ’’بے شک جنت میں ایک بازار ہوگا مؤمنین جمعہ کے دن آیاکریں گے شمال کی جانب سے باد صبا آئے گی جو مومنوں کے چہروں اور لباس کو چھوئے گی ان کا حسن و جمال دوچند ہوجائے گا۔مؤمن گھر کو لوٹ آئیں گے ۔ان کے گھر والے کہیں گے تمہارا حسن و جمال تو پہلے سے بھی بڑھ گیا ہے ۔مؤمن کہیں گے تم بھی ہمارے بعد مزید خوبصورت بن گئے ہو‘‘۔ (صحیح مسلم )۔
انہار و اشجار بہشت!
آئیے ہم تھوڑی دیر جنت کے درختوں باغوں اور باغیچوں میں چہل قدمی کریں ۔چند لمحات ان نعمتوں سے لطف اندوز ہولیں۔ دیکھئے یہ چار نہریں ہیں ۔پانی کی نہر، دودھ،شراب اور شہد کی نہر بھی موجود ہے ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم میں تفصیل بتلائی ہے ۔’’ اسکی مثال وہ جنت ہے جس کاوعدہ متقی لوگوں سے کیاگیا ہے ۔اس جنت میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ بدلتا نہیں اور پینے والوں کے لئے لذیذ شراب کی نہریں ہیں اور خالص شہد کی نہریں ہیں‘‘۔ (سورہ محمد)۔
اور آئیے حوض کوثر کی طرف ، یہ ساقی کوثر ہیں جو اپنے امتیوں کو جام کوثر پلا رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ۔’’ اس دوران کہ میں جنت میں تھا۔میں نے ایک نہر دیکھی اس کے دونوں اطراف خول دار موتیوں کے قبے بنے ہوئے تھے ۔میں نے کہا اے جبرئیل یہ کیاہے ۔؟ فرمایا ’’یہ کوثر ہے ۔جوتیرا رب تجھے دے گا‘‘۔ پھر جبرئیل نے اپنا باتھ زمین پر مارا تو دیکھا کہ اس کی زمین سے کستوری کی خوشبو آرہی تھی‘‘۔ (صحیح بخاری)۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا ’’کوثر کاپانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے‘‘۔(جامع ترمذی)۔
یہ تو نہروں کاذکر تھا۔آئیے ہم باغوں میں درختوں کااحوال دیکھیں۔فرمان سرور عالم ہے ’’بے شک جنت میں درخت بھی ہیں ایک سوار سو سال تک اس درخت کے سائے میں چل سکتا ہے‘‘ ۔(وہ پھر بھی ختم نہ ہوگا)۔ (صحیح بخاری)۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’ جنت میں ایک درخت ہے بہت وسیع و عریض ایک سوار سو سال تک اسکو قطع نہیں کرسکتا۔جنتی ان درختوں کے سائے میں نکلیں گے وہ دنیا کی باتیں یاد کریں گے اللہ تعالیٰ ہوا کو چلائے گا تو بالکل دنیا کی طرح یہ درخت ہلنے لگ جائیں گے‘‘۔ (جامع ترمذی اور مستدرک حاکم )۔
انواع و اقسام کے کھانے
جی ہاں !جنت میں کھانوں اور مشروبات کادور بھی چلاکرے گا یہ دیکھئے سورۃ دھر میں فرمان الٰہی ہے: ’’ اور جنتیوں پر چاندی کے برتنوں اور شیشے کے جاموں کا دور چلے گا۔وہ چاندی شیشے کی طرح شفاف بھی ہوگی۔اور پیاس کی ضرورت کے تحت اسے اندازے سے ناپ رکھا ہے اور جنتیوں کو ایسے جام پلائے جائیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی‘‘۔ (دھر:)۔
فرمان الٰہی ہے ’’ اے میرے بندو!آج تم پر کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی تم جنت میں غمگین ہوگے۔جو لوگ ایمان لائے ہماری آیات پر اور مسلمان ہوئے ۔تم اور تمہاری بیویاں جنت میں خوشی خوشی داخل ہوجاؤ ان جنتیوں پر سونے کی پلیٹوں اور جام کادور چلے گا اور (جنت) میں ہر چیز من پسند ہوگی اور آنکھوں کو بھائے گی۔اور تم جنت میں ہمیشہ رہوگے‘‘۔(زخرف: )۔
مزید فرمایا ’’ نوجوان خدمت گار جو ہمیشہ (ایک حالت )میں رہیں گے ان کے آس پاس رہیں گے یعنی آب خورے اور آفتابے اور شفاف شراب کے جام لے لے کر۔اس سے نہ تو سرور ہوگا۔اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی۔اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں گے اور پرندوں کاگوشت جس قسم کا ان کاجی چاہے‘‘۔ (سورۃ الواقعہ:)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’ اہل جنت کھائیں گے پئیں گے لیکن انھیں تھوک،پیشاب، پاخانہ، نہیں آئے گا۔بس ایک کستوری کی خوشبو لیے ڈکار آئے گا جس طرح سانس لیا جاتا ہے وہ اس طرح سبحان اللہ ۔اللہ اکبر پڑھیں گے‘‘۔ مزید فرمایا ’’جنتیوں میں سب سے ادنی ترین جنتی وہ ہوگا جسکے پاس ہزار خادم کھڑے رہیں گے ہرخادم کے پاس سونے اور چاندی کی دو طشتریاں ہوگی ۔ہرطشتری میں رنگین کھانے ہوں گے ۔ہر ایک طشتری سے وہ کھائے گا اور پہلی سے آخری طشتری تک اسے کھانے کی لذت محسوس ہوگی۔پھر ایک کستوری والا ڈکار آئے گا اور سب کچھ ہضم ہوجائے گا‘‘۔
زیورات و جواہرات
کیاآپ جنت کے زیورات اور جواھرات کے متعلق جاننا چاہتے ہیں ۔؟ آئیے قرآن میں اس سوال کاجواب دیکھتے ہیں فرمان ہے ’’ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کی جنت عدن ہے جن میں ان کے (محلوں )کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں ۔ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔اور وہ باریک ریشم اور اطلس کے کپڑے پہنیں گے اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے‘‘۔ (سورہ کہف:)۔
مزید فرمایا: ’’انکے بدنوں پر سبز ریشم اور اطلس کے کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے‘‘۔ (سورۃ الدھر)۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :’’جنت میں داخل ہونے والاہمیشہ خوش و خرم ہوگا کبھی غمگین نہ ہوگا ۔اسکے کپڑے کبھی پرانے اور شباب کبھی فنا نہ ہوگا۔جنت میں وہ کچھ ہوگا جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھا اور نہ کسی کان نے کبھی سنا ہوگا۔کسی کے دل میں اسکا خیال بھی نہ آیاہوگا‘‘۔
تخت اور پلنگ:
اے میرے بھائی !جنت کی نعمتیں ابھی جاری ہیں ہم اس کو ضابطہ تحریر میں مکمل طور پر سمو نہیں سکتے بہرکیف احوال درج ہیں ۔فرمان الٰہی ہے ’’اور آگے بڑھنے والے ہیں (انکا کیا کہنا)وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں ۔وہی (اللہ کے )مقرب ہیں ۔نعمت والی بہشتوں میں بہت سے تواگلے لوگوں میں سے ہوں گے ۔تھوڑے سے پچھلوں میں سے ۔(جواہرات )سے جڑے ہوئے تختوں پر ، آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے‘‘۔ (سورہ واقعہ:)۔
مزید فرمایا’’ (اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے اطلس والے استرہوں گے ۔تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے‘‘۔ (رحمن)’’اور بہت سے چہرے اس روز شادمان ہوں گے ۔اپنے اعمال کی (جزا) سے خوش دل ۔بہشت بریں میں ۔وہاں کسی طرح کی بکواس نہ سنیں گے ۔اس میں چشمے بہہ رہے ہوں گے ۔وہاں تخت ہیں اونچے بچھے ہوئے ۔اور آبخورے (قرینے) سے رکھے ہوئے ۔اورگاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے ۔اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی‘‘ (غاشیہ:)۔
حور عین !
آئیے دیکھیں کہ جنت کی حوروں کے متعلق قرآن کریم کیابتلاتا ہے ’’ہم نے ان حوروں کو پیدا کیا تو ان کو کنواریاں بنایا ہے ۔اور (شوہروں)کی پیاریاں ہم عمر ‘‘۔(واقعہ:)۔اللہ کا ارشاد ہے ’’اور نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کوپہلے کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے‘‘ (سورہ رحمن:)۔
مزید فرمایا ’’ بے شک پرہیز گاروں کے لئے کامیابی ہے ۔باغ اور انگور ہیں اور ہم عمر نوجوان عورتیں ہیں اور شراب کے چھلکتے جام ہیں‘‘۔ (سورۃ النبا:)۔
اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ہمیں حورجنت کے متعلق بتلایا ہے تاکہ ہم زیادہ ذوق و شوق سے جنت کے متلاشی بن جائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبح و شام ، کا پہرا دینا، دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ۔اور ایک کمان یاایک کوڑے کی مقدار کی سرزمین جنت دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ۔اور اگر اہل جنت کی عورت دنیا میں جھانک لے تو دنیا اس کی خوشبو اور روشنی سے چمک اٹھے۔اور اسکے سر کاآنچل دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے ‘‘۔ (بحوالہ بخاری)۔
مزید آرائش و آسائش:
جنت میں حورعین اپنی خوبصورت آواز سے جنتی کادل بہلائے گی ۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: حوریں اپنی خوبصورت آواز میں کیاگائیں گی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’وہ اپنے رب کی تعریف ، حمدوثناء اور بڑائی بیان کریں گی‘‘۔کچھ لوگ دنیا میں گھوڑ سواری کے عاشق ہوتے ہیں وہ اگر مانگیں گے تو انہیں جنت میں اپنی پسندیدہ سواریوں سے لطف اندوز ہونے کاموقع ملے گا۔ سیدنا عبدالرحمن بن ساعدۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے گھوڑوں کابہت زیادہ شوق تھا۔میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کیاجنت میں گھوڑے ہوں گے ۔آ پ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’اے عبدالرحمن اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں داخل کیاتوتیرے لئے یاقوت کاگھوڑا ہوگا۔اسکے دو پر بھی ہوں گے ۔تم اس پر جہاں چاہو گے اڑ کر جاؤ گے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا’’جب جنتی ، جنت میں داخل ہوجائیں گے توایک فرشتہ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا ۔بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم باہم ملاقات کرو‘‘۔(حلیۃ الاولیائ)۔
پھر ایک دن جنتی اپنا اپنا انعام و اکرام حاصل کرکے لطف اندوز ہورہے ہوں گے کہ اللہ رب العزت جنتی کو اپنا دیدار نصیب فرمائے گا۔اور فرمائے گا ’’سلام قولا من رب الرحیم ‘‘۔
ان تمام نعمتوں ، برکتوں ، خوش بختیوں کے علاوہ سب سے بڑھ کر بلکہ جنت سے بھی بڑھ کر انعام ہوگا’’ ہمیشہ ہمیش کی رضا و خوشنودی‘‘۔
جی ہاں فرمان الٰہی ہے ’’اور اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑھ کر ہے ‘‘۔سرور عالم کا ارشاد ہے ’’بے شک اللہ عزوجل فرمائے گا۔ اے اہل جنت جنتی کہیں گے اے اللہ ہم حاضر و خوش نصیب ہیں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیاتم راضی ہو ۔جنتی کہیں گے ۔اے ہمارے رب ہم کیوں نہ خوش ہوں۔ ہمیں سارے زمانے سے بڑھ کر انعام ملا ہے اللہ فرمائے گا ’’میں تمہیں جنت سے بھی افضل ترین چیز دیتا ہوں جاؤ میں تم سے ہمیشہ خوش رہوں گا کبھی ناراض نہیں ہوں گا‘‘ (صحیح بخاری)اے اللہ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل کرلے۔آمین۔
خیمے اور بازار بہشت

Thursday, 29 December 2011

Taqwa Jannat Ka Zaad e Raah - ’’تقویٰ ‘‘ جنت کازاد ِراہ - Online Books

’’تقویٰ ‘‘ جنت کازاد ِراہ

اے پیارے بھائی! قرآن کریم میں بہت سی آیات تقویٰ کے متعلق موجود ہیں ۔تقویٰ اختیار کرنے کاحکم ہے اور تقویٰ کے فوائد و ثمرات کابیان بھی ہے ۔ اسلام میں تقویٰ کی عظمت و اہمیت کی وجہ سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے خطبات کی ابتدا میں وہ آیات پڑھا کرتے تھے جن میں تقویٰ اختیار کرنے کاحکم دیاگیا ہے ۔ان باتوں سے اہمیت تقویٰ واضح ہوتی ہے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ’’ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جسطرح ڈرنے کا حق ہے ۔اور تمہیں اس حالک میں موت آئے کہ تم مسلمان ہو‘‘۔ (سورہ آ ل عمران )۔
فرمایا: ’’اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور پختہ بات کرو‘‘۔ (سورہ احزاب:)۔
فرمایا: ’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ‘‘۔ (سورہ توبہ:)۔
فرمایا: ’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے کل کے لئے کیا
(عمل)آگے بھیجا ہے‘‘۔ (سورہ حشر:)۔
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے حصول ایمان کی شرط بیان کرتے ہوئے بیان فرمایا ’’اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو‘‘۔ (سورہ مائدہ:)۔
اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کو تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت فرمائی ہے۔اور ہم نے وصیت کی ہے تمہیں اور تم سے پہلے کتاب والوں کو کہ صرف اللہ سے ڈرو۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کوبہترین توشہ آخرت قرار دیا ہے اور تم زادِراہ اختیار کروبے شک بہترین زادِ راہ تو تقویٰ ہے ۔سو مجھ سے ڈرو اے عقل والو۔ (بحوالہ سورۃ بقرہ:)۔ اللہ تعالیٰ نے میزان تقویٰ کو قائم فرمایا ہے ’’بے شک تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ حجرات:)۔
’’تقویٰ ‘‘ جنت کازاد ِراہ

Friday, 23 December 2011

Momeeno Ka Ghar - مومنوں کاگھر - Online Books

مومنوں کاگھر
جنت اے رحمن کے مہمانو! آؤ جنت کی طرف چلیں، یہ دیکھو تمام عالم اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر میدان حشر میں جمع ہورہا ہے ……آؤجنت کی طرف چلیں ، یہ سلامتی والا گھر ہے ۔یہ نیک لوگوں کاگھر ہے ۔دیکھو یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ (مومنوں کو)غمگین نہیں کرے گی بڑی قیامت۔اور ان سے فرشتے ملاقات کریں گے ۔اور (کہیں )گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیاگیاتھا۔
اور دیکھئے ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ’’اللہ کی قسم ہے ۔مؤمن لوگ جب اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان کااستقبال پروں والے سفید اونٹ کریں گے ۔ ان اونٹوں پر سونے کے پالان ہوں گے ۔اور انکی لگامیں روشنی سے چمک رہی ہوں گی۔ان اونٹوں کاہرقدم حد نگاہ پر پڑے
گا اور اس سفر کااختتام جنت کے دروازے پر ہوگا۔
اور دیکھئے کلام الرحمن کی طرف’’ ہم قیامت کے دن متقی لوگوں کوگروہ در
گروہ رحمن کی طرف جمع کریں گے ‘‘ ’’ اور متقین اپنے رب کی طرف جمع ہوں گے جماعتوں میں اور جب (جنت کے دروازے )تک آئیں گے تو اسکے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔اور جنت کاداروغہ کہے گا ، تم پر سلامتی ہو خوشی خوشی داخل ہوجاؤ ہمیشہ کے لئے‘‘۔ (سورہ زمر:)
جنت کتنی وسیع ہے !!
جنت کی وسعت و کشادگی اتنی ہے جتنی آسمانوں اورزمینوں کی وسعت اور خوشبو ایسی کہ ھزاروں میل دور تک جائے ۔فرمان الٰہی ہے ’’اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑے چلے آؤ۔اور اس جنت کی طرف جسکی وسعت آسمان و زمین جتنی ہے ۔یہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔
جنت کے دروازے
جنت کے آٹھ دروازے ہیں ۔دروازوں کے کواڑ بہت وسیع ہیں ۔لیکن ایک دن آئے گا یہ دروازے ازدحام کی وجہ سے چرچرارہے ہوں گے ۔ایک دروازے کانام باب الریان ہے ۔یہ صرف اور صرف روزہ داروں کے لئے خاص ہے ۔ان دروازوں کے کنڈے ، سرخ رنگ کے یاقوت سے بنے ہوں گے۔ (مفہوم حدیث مسلم)۔
جنت کے دروازے کے سامنے ایک بہت بڑا درخت ہے ۔اس کی جڑ کے قریب سے دو چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ ایک چشمہ جنتیوں کے پینے کے لئے ہے ۔دوسرا ان کے غسل کے لئے ہے ۔ایک بار پانی پی کر انکے چہرے تروتازہ ہوجائیں گے ۔پھر کبھی بھی مرجھائیں گے نہیں۔ غسل کے بعد کبھی میلے اور پراگندہ نہیں ہوں گے……۔
جنت میں داخلہ
اے عزیز قاری ہم یہاں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث لکھ رہے ہیں جو جنت میں داخلے کی عکاس ہے ۔فرمان ہے’’جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے ۔انکے بعد والے تاروں کی مانند روشن ہوں گے۔ انکو کبھی پیشاب پاخانے کی حاجت نہ ہوگی۔ تھوک نہ آئے گا۔انکی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔جوؤں کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔جنتیوں کاپسینہ کستوری کی خوشبو لیئے ہوگا ، خوشبو دار لکڑی سے دھواں لیں گے۔ خوبصورت آنکھوں والی حوریں انکی بیویاں ہوں گی ۔انکے درمیان میں کوئی برے اخلاق والا نہ ہوگا۔سب کا اخلاق ایک جیسا ہوگا اور قد کاٹھ گز کے برابر ہوگا جیسا کہ سیدنا آدم علیہ السلام کاتھا۔
جیسے ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے فوراً جنت سے خوش آمدیدی کلمات بلند ہوں گے پاکیزہ ترین فرشتے انکا استقبال کریں گے۔ فرمان الٰہی ہے ’’ متقی لوگ اپنے رب کی طرف گروہ درگروہ جمع ہوں گے جب جنت کے پاس آئیں گے تو ا س کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جنت کاداروغہ جنتیوں کو کہے گا تم پر سلامتی ہو۔خوشی خوشی داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ رہو۔جنتی کہیں گے تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔اور ہمیں اس زمین کاوارث بنایا۔ہم جنت میں جہاں چاہے رہتے ہیں ۔پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا‘‘(سورہ زمر:)
محلات میں کیاہوگا؟
جنت میں بڑے پرشکوہ محلات ہوں گے ان کی تعریف کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ ان محلات میں پائی جانے والی نعمتوں اور خوشیوں کاکوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔صاحبِ تکریم و انعام ذات باری ہے جس کا ارشاد ہے ’’اور بہشت میں جہاں آنکھ اٹھاؤگے کثرت سے نعمت اور عظیم سلطنت دیکھو گے ۔ان کے بدنوں پر سبز ریشم اور اطلس کے کپڑے ہوں گے ۔اور چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اور ان کا پروردگار ، پاکیزہ شراب پلائے گا‘‘۔ (سورۃ الدھر:)
اے عزیزم! اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہی وہ واحد ہستی ہیں جو جنت کے محلات اور ان میں پائی جائے والی نعمتوں کاحال بیان کرسکتے ہیں ۔تو لیجئے ہم ایک طویل حدیث کا اختصار بیان کرتے ہیں ۔فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے ’’ جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا شخص جب جنت کے قریب ہوگا تو یکایک اسکے سامنے موتیوں کابناہوا محل آجائے گا ۔وہ سجدے میں گر جائے گا اس کو کہاجائے گا اپنا سر اٹھاؤ اور بتاؤ کیابات ہے وہ کہے گا اے اللہ یہ میں نے کیسا محل دیکھا ہے ؟ اللہ فرمائے گا یہ تیرا گھر ہے ۔پھر اسکے سامنے ایک شخص آئے گا تو وہ جنتی اس شخص کے سامنے سجدے میں جانے لگے گا تو اس کو روک دیاجائے گا۔جنتی کہے گا میرا خیال ہے کہ تو کوئی بڑا فرشتہ ہے ۔تو وہ شخص کہے گا میں تو تیرا غلام ہوں ۔تیرے خزانوں کاخزانچی ہوں ۔پھر اس کے لئے محل کو کھولا جائے گا تو اس کی چھت ، دروازے ، اور تمام دیواریں موتیوں کی ہوں گی ۔اسکے سامنے ایک سبز رنگ کابالا خانہ ہوگا۔پھر اسی طرح کے مختلف رنگ والے بالا خانے ہوں گے ۔ہر بالا خانے میں پلنگ(بیڈ) اور خوبصورت بیویاں ہوں گی۔ان بیویوں میں ادنیٰ ترین بیوی موٹی آنکھوں والی حور ہوگی ۔اس حور پر ستر پردے ہوں گے لیکن ان پردوں کے پیچھے سے بھی اس کی پنڈلیوں کاگودہ نظر آئے گا۔یہ جنتی حوریں ایک دوسرے کاآئینہ ہوںگی ۔اور پھر اس جنتی کو کہاجائے گا کہ حد نگاہ تک یہ سب تیری ملکیت ہے ۔
درجات جنت
اور جب اللہ کے تمام مہمان محلات میں آسودہ خاطر ہوں گے اور نعمتوں خوشیوں میں کھوئے ہوں گے تو جنت کے فرشتے تحفوں کے ساتھ آکر مبارک باد دیں گے او رکہیں گے ، تم پر سلامتی ہو تم نے بڑا صبر کیا اب آخری گھر بہت اچھا ہے ۔
جس طرح مومنوں کے دنیا میں اعمال مختلف درجات کے ساتھ تھے اسی طرح جنتیں بھی مختلف درجات کی ہوں گی ۔بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے ’’بے شک اہل جنت اپنے سے اوپر والے بالاخانوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے کہ دور افق میں چمکتے ستارے کو دیکھتے ہو۔انکے درمیان فاصلہ مشرق ومغرب جیسا ہوگا‘‘ ۔صحابہ کرام ] نے پوچھا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ تو انبیاء کرام کامقام ہوگا۔آپ نے فرمایا: ’’ہاں ، اور انبیاء کے ساتھ ساتھ وہ مؤمن بھی ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی‘‘ ۔(بخاری و مسلم )۔
سرزمین جنت
اے عزیزم! کیاخیال ہے سرزمین جنت کے متعلق ؟کیااسکی زمین سرخ ، سفید مٹی والی ہوگی، یا اس کے کنکر خوش رنگ اور خوبصورت ہوں گے ۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ان سوالوں کے درست جواب تلاش نہیں کرسکتا ۔سوائے اسکے جو جنت میں کچھ لمحات ٹھہرا ہو جیسا کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔
صحابہ کرام ] نے دریافت فرمایا،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جنت کس چیز سے بنی ہے۔ فرمایا: ’’ایک اینٹ سونے کی ،ایک اینٹ چاندی کی ، اور ان اینٹوں کو جوڑنے والا سیمنٹ کستوری کااورکنکر یاقوت اور ہیروں کے ہیں ۔مٹی زعفران کی !جو بھی داخل ہوا وہ ہمیشہ خوش ہوگا کبھی غم نہ چھوئے گا۔ہمیشہ رہے گا کبھی موت نہ آئے گی ۔اسکے لباس پرانے نہ ہوں گے اسکا شباب فنا کے گھاٹ نہ اترے گا‘‘۔ (جامع ترمذی، مسند احمد)۔
جنت عدن
آپ جانتے ہیں ، جنت عدن کیاہے؟یہ اولیاء اللہ کا مقام و منزل ہے ذرا سوچئے اس گھر کے بارے میں جس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہو،وہ باغ بہشت جس کو اللہ تعالیٰ نے اُگایا ہو،اور وہ نعمتیں جنکی آرائش اللہ نے کی ہو،ہم تفصیل کی تاب نہیں لاسکتے کہ ہم رجوع کرتے ہیں فرمان نبوی کی طرف’’ اللہ تعالیٰ نے جنت عدن بنائی ہے ایک ایک اینٹ سفید موتیوں سرخ یاقوت سبز ہیروں سے بنائی گئی ہے ۔سیمنٹ کستوری کا، کنکر موتی کے اور مٹی عنبر کی ہے ۔پھر اس جنت کو گویائی کاحکم ملا تو بولی ’’تحقیق مؤمن فلاح پاگئے ‘‘۔ (طبرانی،بسند جید)۔

Thursday, 17 November 2011

Jannat Ke Haseen Manazir - جنّت کے حسین مناظر - cd/Dvd Quality


Jannat Ke Haseen Manazir

جنّت کے حسین مناظر

مختصر بیان: ویڈیو مذکور میں جنت کے حسین مناظر کو قرآن وحدیث کی روشنی میں نہایت ہی عمدہ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے ضرور دیکھیں .