Showing posts with label Muharram. Show all posts
Showing posts with label Muharram. Show all posts

Thursday, 18 April 2013

Muharram - Pamphlets

Muharram



Pages: 03



Size: 0.1  MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Wednesday, 6 February 2013

Saneha Karbala - Urdu Books

Saneha Karbala



Pages: 49



Size: 1.4 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Friday, 31 August 2012

Mahe Muharram Ki Sharaee Aur Tareekhi Hesiyat - ماهِ محرم كی شرعی اور تاريخی حيثيت - Online Books

ماهِ محرم كی شرعی اور تاريخی حيثيت

شیخ الحدیث مولانا محمد صاحب کنگن پوری

محرم الحرام چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک اور اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ جہاں کئی شرعی فضیلتوں کا حامل ہے وہاں بہت سی تاریخی اہمیتیں بھی رکھتا ہے۔
کیونکہ اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات اس مہینہ میں رونما ہوئے بلکہ یوں کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ نہ صرف تاریخ اُمت محمدیہ کی چند اہم یاد گاریں اس سے وابستہ ہیں بلکہ گزشتہ اُمتوں اور جلیل القدر انبیاء کے کارہائے نمایاں اور فضلِ ربانی کی یادیں بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ لیکن شرعی اصولوں کی روشنی میں جس طرح دوسرے شہور و ایام کو بعض عظیم الشان کارناموں کی وجہ سے کوئی خاص فضیلت و امتیاز نہیں ہے۔ اسی طرح اس ماہ کی فضیلت کی وجہ بھی یہ چند اہم واقعات و سانحات
نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اشہرِ حُرُم (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) کو ابتدائے آفرینش سے ہی اس اعزاز و اکرام سے نوازا ہے
جس کی وجہ سے دورِ اسلام اور دورِ جاہلیت دونوں میں ان مہینوں کی عزت و احترام کا لحاظ رکھا جاتاتھا اور بڑے بڑے سنگدل اور جفا کار بھی جنگ و جدال اور ظلم و ستم سے ہاتھ روک لیتے تھے۔ اس طرح سے کمزوروں اور ناداروں کو کچھ عرصہ کے لئے گوشۂ عافیت میں پناہ مل جاتی تھی۔

اچھے یا برے دن منانے کی شرعی حیثیت:
اسلام نے واقعاتِ خیر و شر کو ایام کی معیارِ فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کفار کے اس قول کی مذمت بیان کی ہے:
وَمَا يُھْلِكُنَآ اِلَّا الدَّھْرُ (الجاثیہ۔۲۴) یعنی ہمیں زمانہ کے خیر و شر سے ہلاکت پہنچتی ہے۔
اور حدیث میں ہے:
’’زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ برا بھلا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
یعنی خیر و شر کی وجہ لیل و نہار نہیں ہیں بلکہ خدا کارسازِ زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اچھے یا بُرے دِن منانے کی کوئی اصل ہی تسلیم نہیں کی جیسا کہ آج کل محرم کے علاوہ بڑے بڑے لوگوں کے دن یا سالگرہ وغیرہ منائی جاتی ہیں۔

فضیلتِ محرم قرآن کریم سے:
خصوصی طور پر ماہِ محرم یا اس کے بعض ایام کی فضیلت کے متعلق میں پہلے قرآن و حدیث سے کچھ عرض کرتا ہوں، قرآن مجید میں ہے:۔
اِنَّ عِدَّةَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِيْ كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ط مِنْھَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْھِنَّ اَنْفُسَكُمْ الاٰية(التوبه: ۳۶)
بے شک شریعت میں ابتدائے آفرینش سے اللہ تعالیٰ کے ہاں بارہ ۱۲ ماہ میں جن سے چار حرمت والے ہیں، یہی مستحکم دین ہے۔ تم ان مہینوں کی حرمت توڑ کر اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔
تفسیر جامع البیان ص ۱۶۷ میں ہے:
فَاِنَّ الظُّلْمَ فِيْھَا اَعْظَمُ وِزْرًا فِيْمَا سِوَاهُ وَالطَّاعَةُ اَعْظَمُ اَجْرًا
یعنی ان مہینوں میں ظلم و زیادتی بہت بڑا گناہ ہے اور ان میں عبادت کا بہت اجر و ثواب ہے۔
تفسیر خازن جلد ۳ ص ۷۳ میں ہے:
وانما سمیت حرما لان العرب فی الجاھلیة كانت تعظمھا فيھا القتال حتي لو ان احدھم لقي قاتل ابيه وابنه واخيهِ في هذه الاربعة الاشھر لم يھجه ولما جاء الاسلام لم يزدھا الا حرمة وتعظيما ولان الحسنات والطاعات فيھا تتضاعف وكذلك السيئات ايضا اشد من غيرھا فلا تجوز انتھاك حرمة الاشھر الحرم
یعنی ان کا نام حرمت والے مہینے اس لئے پڑ گیا کہ عرب دورِ جاہلیت میں ان کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور ان میں لڑائی جھگڑے کو حرام سمجھتے تھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنے یا بیٹے یا بھائی کے قاتل کو بھی پاتا تو اس پر بھی حملہ نہ کرتا۔ اسلام نے ان کی عزت و احترام کو اور بڑھایا۔ نیز ان مہینوں میں نیک اعمال اور طاعتیں ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کی برائیوں سے سخت ہے۔ لہٰذا ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں۔


فضیلتِ محرم احادیث سے:
آیت مذکورہ بالا کی تفسیر سے محرم الحرام کی فضیلت اور اس ماہ کی عبادت کی اہمیت معلوم ہو چکی ہے۔ اب ہم احادیث سے صرف مزید وضاحت اور بعض ایام کی خوصی فضیلت پیش کرتے ہیں۔

ماہِ محرم کے روزے:
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم وافضل الصلوۃ بعد الفریضۃ صلٰوۃ اللیل (اخرجہ مسلم ص ۳۶۸ ج۱، ایضا ابو داؤد، الترمذی، النسائی)
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
عن ابن عباس رضي الله تعاليٰ عنهما قال قال رسول الله ﷺ من صام يوم عرفة كان له كفارة سنتين ومن صام يوما من المحرم فله بكل يوم ثلاثون يوما۔ (رواه الطبراني في الصغير وھو غريب واسناده لا بسا به) (الترغيب والترھيب ص ۲۳۷)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور جو محرم کے روزے رکھے اسے ہر روزہ کے عوض تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔
(یہ روایت اگرچہ اس پائے کی نہیں لیکن ترغیب و ترہیب میں قابلِ استیناس ہے) نیز حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ:
ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ رمضان کے بعد میں کس ماہ میں روزے رکھوں؟ آپ نے فرمایا: محرم کے روزے رکھ! کیونکہ وہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کر لی اور ایک اور قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ ( الترغیب والترھیب ص ۲۳۶)

عاشوراء کا روزہ:
ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کے متعلق اگرچہ عمومی طور پر صحیح احادیث وارد ہیں، جیسا کہ ابھی گزرا لیکن خصوصی طور پر یومِ عاشوراء یعنی دس تاریخ محرم کے بارے میں کثرت سے احادیث آئی ہیں۔ جو اس دن کے روزے کی بہت فضیلت بیان کرتی ہیں بلکہ بعض روایات کے مطابق رمضان شریف کے روزوں سے قبل عاشوراء کا روزہ فرض تھا۔ (جیسا کہ بعض شوافع کا قول ہے) (فتح الباری)
پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کے روزے کی صرف تاکید باقی رہ گئی۔

اب قارئین اس سلسلہ میں وارد احادیث ملاحظہ فرمائیں:

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال ما رايت النبي يتحري صيام يوم فضله علي غيره الا ھذا اليوم يوم عاشوراء وھذا الشھر يعني رمضان(اخرجه البخاري و مسلم)
ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی
کو کسی دن کے روزے کا دوسرے عام دنوں کے روزوں پر افضل جانتے ہوئے ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح ہ یومِ عاشوراء اور ماہِ رمضان کا (اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے)۔
عن ابی قتادۃ رضی اللہ عنہ قال سئل عن صوم یوم عاشوراء فقال یکفر السنة الماضية (اخرجہ مسلم ج ۱ ص ۳۶۸)
ابو قتادہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
سے عاشوراء کے روزہ کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے ایک سال گزشتہ کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
عن حفصة رضي الله عنها قالت اربع لم يكن يدعھن النبي (
) صيام عاشوراء ۔۔۔۔۔ الحديث (اخرجه النسائي)
آپ چار چیزیں نہ چھوڑا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک عاشوراء کا روزہ ہے۔ الخ

عاشوراء کا روزہ اور یہود:
عن ابن عباس رضی اللہ عنہا ان رسول اللہ قدم المدينة فوجد اليهود صياما يوم عاشوراء فقال لھم رسول الله : ما ھذا اليوم الذي تصومونه؟ فقالوا: ھذا يوم عظيم انجي الله فيه موسٰي وقومه وغرق فرعون وقومه نصامه موسٰي شكرا فنحن نصومه، فقال رسول الله : فنحن احق واولٰي بموسٰي منكم فصامه رسول الله وامر بصيامه ( اخرجہ البخار و مسلم)
رسول اللہ
جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آنحضرت نے ان سے روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا، یہ بہت بڑا دن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور اس کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تھا (اس پر) موسیٰ علیہ السلام نے (اس دن) شکر کا روزہ رکھا۔ پس ہم بھی ان کی اتباع میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، ہم تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب اور حق دار ہیں لہٰذا آپ نے خود روزہ رکھا اور (صحابہؓ کو) اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
اس حدیث سے عاشوراء کے روزہ کا مسنون ہونا ثابت ہوا۔ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں نبی نے یہود کی مشابہت سے بچنے کے لئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ظاہر فرمایا ( رواہ رزین)۔ اور مسند احمد کی اک روایت میں گیارہ محرم کا بھی ذکر ملتا ہے یعنی ۹ محرم یا گیارہ ۱۱۔
یومِ عاشوراء اور عرب عاشوراء کے دن کی فضیلت عرب کے ہاں معروف تھی۔ اس لئے وہ بڑے بڑے اہم کام اسی دن سر انجام دیتے تھے۔ مثلاً روزہ کے علاوہ اسی روز خاہ کعبہ پر غلاف چڑھایا کرتے تھے۔
حافظ ابن حجرؒ نے بحوالہ ازرقی ذکر کیا ہے کہ ’’حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی عاشوراء کے روز خانہ کعبہ کو غلاف چڑھایا۔‘‘ (فتح الباری ج ۳ ص ۳۶۷)
حاصل یہ ہے کہ اللہ ارحم الراحمین اور نبی رحمۃ للعالمین (
) نے امتِ مسلمہ کو ماہِ محرم کی برکات و فیوض سے مطلع کر دیا ہے اور بعض ایام میں مخصوص اعمال کی فضیلت سے بھی آگاہ کر دیا ہے تاکہ ہم شریعت کے ہدایات کے مطابق عمل کر کے سعادتِ دارین حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم دیکھیے کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد وہ ہمیں کتنے عظیم الشان مواقع مہیا کرتا ہے جن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم فیضانِ رحمت سے دامن بھر سکیں اور تلافیٔ مافات کرتے ہوئے اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کے لئے کمر بستہ ہو سکیں۔
رمضان خیر و برکت کی بارانی کرتا ہوا گزرا تو شوال اشہر الحج (شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ) کی نوید لایا پھر ذی الحجہ ختم ہوا ہی تھا کہ حرمت و عظمت میں اس کا شریک کار سن ہجری کا پہلا مہینہ اپنی برکات و فیوض سے ہم پر آسایہ فکن ہوا۔ گویا سدا رحمت برس رہی ہے۔
کاش کوئی جھولی بھرنے والا ہو! انسان کو چاہئے کہ ان مبارک اوقات کو غنیمت جانے اور اعمالِ صالحہ صوم و صلوٰۃ، ذکر و فکر، جہد و جہاد میں مصروف رہ کر اپنے آقا کو خوش کرے اور خداوندِ عزوجل کا قرب حاصل کر کے منزل مقصود پر پہنچ جائے
لیکن یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ ہم ان ایام و شہور کی اصل برکتوں سے محروم رہ کر غلط رواجات اور قبیح رسومات میں مبتلا ہو کر یا ان میں شرکت کر کے ارحم الراحمین کی رحمت بے پایاں سے تہی دامن رہتے ہیں بلکہ اُلٹا گناہ گار ہو کر اس کے غضب کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔

ماہِ محرم کی بدعات:
ہم نے ماہِ محرم سے بہت سے غلط رواج وابستہ کر لیے ہیں، اسے دکھ اور مصیبت کا مہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کے لئے سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ رونا پیٹنا، تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزاء وغیرہ منعقد کرنا یہ سب کچھ کارِ ثواب سمجھ کر اور امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے۔
حالانکہ یہ سب چیزیں نہ صرف نبی کے فرمودات کے خلاف ہیں بلکہ نواسۂ رسول کے اس مشن کے بھی خلاف ہیں جس کے لئے انہوں نے اپنی جان قربان کر دی۔ شیعہ حضرات کی دیکھا دیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہو گئے ہیں مثلاً اس ماہ میں نکاح شادی کو بے برکتی اور مصائب و آلام کے دور کی ابتداء کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتا ہے اور لوگ اعمالِ مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں۔
مثلاً بعض لوگ خصوصیت سے عاشوراء کے روز بعض مساجد و مقابر کی زیارتیں کرتے اور خوب صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اس دن اہل و عیال پر فراخی کرنے کو سارے سال کے لئے موجبِ برکت سمجھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

کیا ماہِ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟
شہادت حسینؓ اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جس کی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں سے اگر چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی موقعے ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور خدا کا شکر بجا لانا چاہئے
جیسا کہ نبی اکرم نے موسیٰؑ کی اقتداء میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰؑ کو فرعون سے نجات دی تھی۔ نیز اگر اتفاق سے شہادتِ حسینؓ کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہو گیا تو بعض دیگر جلیل القدر صحابہؓ کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے۔ مثلاً سطوتِ اسلامی کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت نماز میں ابو لؤلؤ فیروز نامی ایک غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
اس لئے شہادتِ حسینؓ کا دن منانے والوں کو ان کا بھی دن منانا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو سال کا کوئی ہی ایسا دن باقی رہ جائے ا جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا حادثہ رونما نہ ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوار ایام منانے اور ان کے انتظام میں لگےے رہیں گے۔

آزمائشیں دنیا کی امامت اور حیات جاودانی بخشتی ہیں:
پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا دار البلاء اور امتحان گاہ ہے۔ اس دنیا میں ہر نبی اور امت پر کٹھن وقت آئے ہیں صرف بنی اسرائیل ہی کو لیجئے۔ ان پر کس قدر آزمائشیں آئیں؟ کس قدر انبیاء بے دریغ قتل کئے گئے؟ کتنے معصوم بچے ذبح ہوئے؟ جس کا اعتراف قرآن کریم نے بھی کیا ہے:
وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ
یعنی اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی
ہمارے نبی فداہ ابی و امی، اہل بیت، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف و خلف میں ائمہ دین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین پر ایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
بعثت سے لے کر واقعہ کربلا اور پھر کربلا سے لے کر اب تک اسلامی تاریخ کا کونسا ایسا ورق ہے جو اس قسم کے دِل ہلا دینے والے واقعات سے خالی ہو؟ نبی کی مکی زندگی اور اسلام قبول کرنے والوں کے دل دوز حالات اور پھر مدنی زندگی اور حق و باطل کے معرکے کس قدر جگر سوز ہیں۔ کیا شہادت حمزہؓ، شہادتِ عمرؓ، شہادتِ عثمانؓ، شہادتِ علیؓ، شہادت عبد اللہ بن زبیرؓ اور شہادت جگر گوشۂ رسول حسینِ کے لرزہ خیز حالات سننے کی تاب کسی کو ہے؟ لیکن یہی آزمائشں تو انہیں امامت کے منصب پر فائز کرتی ہیں اور حیات جاودانی بخشتی ہیں۔
قرآن مجید میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیمؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہیں دنیا کی امامت آزمائشوں میں کامرانی کے بعد ہی ملی تھی۔ ارشاد ہے:
وَاِذِ ابْتَلٰيْٓ اِبْرَاھِيْمَ رَبُّهُ بِكَلِمٰتٍ فَاَتمَّھُنَّ قَالَ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلْنَّاسِ اِمَامًا
یعنی ہم نے اپنے بندے ابراہیم کو چند آزمائشوں سے گزارا، وہ ان میں پورے اترے تو ہم نے کہا (اے ابراہیم) ہم آپ کو دنیا کا امام بنا رہے ہیں۔ (البقرہ: ۱۲۴)
ترمذی میں ہے:
’’ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ظالم نے لوگ باندھ کر قتل کیے وہ ایک لاکھ بیس ہزار تھے (جن میں سے بیشتر صحابہ، جلیل القدر تابعین اور تبع تابعین تھے)‘‘
اور مسلم میں ہے کہ:
’’حجاج نے عبد اللہ بن زبیرؓ کو کئی روز تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ لوگ آتے اور ان کا درد ناک انجام دیکھ کر گزر جاتے، جب عبد اللہ بن عمرؓ کا ادھر سے گزر ہوا تو کہنے لگے۔ میں نے تجھے کئی بار منع کیا تھا۔ تین بار کہا۔ پھر فرمایا۔ خدا کی قسم!
جہاں تک مجھے علم ہے تو بہت روزے رکھنے والا، بہت قیام کرنے والا اور بہت صلہ رحم تھا۔ خبردار! جو امت تجھ کو برا سمجھتی ہے بُری امت ہے! حجاج بن یوسف کو جب یہ خبر پہنچی تو ابن زبیرؓ کی نعش کو وہاں سے اتروا کر اسے بے گور و کفن یہود کے قبرستان میں پھینک دیا۔ پھر ان کی والدہ اسماءؓ، بنت ابی بکر الصدیقؓ کو بلایا۔ وہ نہ آئیں تو دوبارہ آدمی بھیجا اور کہا کہ آجا! ورنہ ایسے آدمی بھیجوں گا جو تجھے چوٹی (میڈیوں) سے پکڑ کر گھسیٹ کر لائیں گے۔ اسماءؓ نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک تو ایسے آدمی نہ بھیجے جو مجھے زمین پر گھسیٹ کر تیرے پاس لائیں میں نہیں آؤں گی۔ پھر حجاج غصہ میں اُٹھا اور الٹا جوتا پہن کر تکبر سے اسماءؓ کے پاس آیا اور کہا تو نے دیکھا لیا، میں نے اللہ کے دشمن (تیرے بیٹے عبد اللہ) کے ساتھ کیسا کیا ہے؟ حضرت اسماء نے جواب دیا، میں نے دیکھا لیا کہ تو نے اس کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری آخرت تباہ کر دی۔ نیز فرمایا،میں نے سنا ہے کہ تو میرے بیٹے عبد اللہؓ کو ’’دو آزار بند والی کا بیٹا‘‘ کہہ کر پکارتا تھا۔ خدا کی قسم! واقعی میرے دو آزار بند تھے، ایک سے میں رسول اللہ اور ابو بکرؓ کا کھانا باندھتی تھی جس وقت کہ وہ غارِ ثور میں چھپے ہوئے تھے۔ دوسرا وہی جو عورتوں کے لئے ہوتا ہے، پھر حضرت اسماء نے کہا: گوش ہوش سے سن لے کہ رسول اللہ نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک مفسد ہو گا۔ کذاب تو میں پہلے دیکھ چکی ہوں اور مفسد تو ہی ہے۔ پس وہ لاجواب ہو کر چلا گیا۔‘‘
اسی طرح اپنوں ہی نے حضرت عثمانؓ خلیفہ ثالث اور نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ کو میدانِ کربلا میں جس طرح تختہ مشق بنایا اور بے جگری سے شہید کیا، سن کر پتا پانی ہوتا ہے۔
غرضیکہ دنیا آزمائشوں کا گھر اور حق و باطل کا میدان کار زار ہے۔ اس میں خدا پرستوں پر اللہ کے دین کی خاطر اسی طرح کے مصائب و آلام کی بارش ہوا کرتی ہے جس سے وہ ہمیشہ سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔ دکھ اور الم کی لہروں کے سامنے وہ چٹان بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ نہ ان کے دل ڈرتے ہیں، نہ پاؤں ڈگمگاتے ہیں بلکہ وہ خدا کی خوشنودی کی خاطر سب کچھ خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں اور اپنے مقصد کے اعتبار سے ہمیشہ کامیاب و کامران لوٹا کرتے ہیں۔

نوحہ اور ماتم بزرگانِ ملّت کی تعلیم کے خلاف اور ان کے مشن کی توہین ہے:
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر و استقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں۔ ان کے خلفاء اور ورثاء بھی ان کے نقش قدم پر چلے۔ نہ کسی نے آہ و فغاں کیا، نہ کسی نے ان کی برسی منائی نہ چہلم، نہ روئے نہ پیٹے، نہ کپڑے پھاڑے، نہ ماتم کیا اور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال بعد تیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں لیکن یہ سب حرکتیں اور رسوم و رواج نہ صرف روح اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی تلقین و ارشاد کے خلاف ہیں بلکہ ان بزرگوں کی توہین اور غیر مسلمانوں کے لئے استہزاء کا ساماں ہیں۔ اسلام تو ہمیں صبر و استقامت کی تعلیم دیتا ہے اور ’’بَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ‘‘(صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو) کا مژدہ سناتا ہے۔
اَلَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

نوحہ اور ماتم کی مذمت زبان رسالت سے:
نوحہ اور ماتم کی مذمت کے سلسلہ میں اگرچہ قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال کیا جا سکتا ہے بلکہ شیعہ حضرات کی بعض معتبر کتابوں سے ان کی ممانعت ثابت کی جا سکتی ہے لیکن اختصار کے پیشِ نظر اس صحبت میں ہم صرف دو فرمان نبوی پیش کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
نمبر1۔
قال رسول اللہ لیس منا من ضرب الخدود وشق الجیوب ودعا بدعوی الجاھلیہ (بخاری و مسلم)
آنحضرت
نے فرمایا جو شخص رخسار پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
نمبر2۔
قال رسول اللہ انا بریٔ من حلق و صلق وخرق (بخاری و مسلم)
آپ نے فرمایا جو شخص سر منڈوائے، بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے میں اس سے بیزار ہوں۔


ماہِ محرم کے چند تاریخی واقعات:
اب آخر میں وہ چند واقعات ذکر کئے جاتے ہیں جو ماہِ محرم میں وقوع پذیر ہوئے لیکن آج عوام میں امام حسینؓ کی شہادت کے علاوہ ان کی یادیں طاق نسیاں میں رکھی رہتی ہیںَ اگرچہ ان کے ذِکر سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ
شہادتِ حسینؓ کی طرح ان کی بھی یادیں منائی جائیں کیونکہ جیسا کہ میں پہلے ذِکر کر چکا ہوں کہ اگرچہ اسلام ان واقعات کی اہمیت اپنی جگہ تسلیم کرتا ہے اور ان کی عظمت کی یاد دہانی بھی ضروری سمجھتا ہے تاکہ ان کا کردار ہمیں جذبۂ قربانی اور شوق شہادت دے اور جن موقعوں پر مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی یا ظلم و ستم سے نجات حاصل کی ان کے ذِکر سے ہماری تثبیتِ قلبی ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر سکیں لیکن وہ اس عظمت میں لیل و نہار کا کسی طرح کا دخل تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی عظمت میں انہیں شریک کار بناتا ہے۔
بلکہ میرا مقصد تاریخی یاد داشتوں کی حیثیت سے ان کا ذِکر ہے۔
دو جلیل القدر صحابیوں، بطل جلیل امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اور گوشۂ جگر رسول
سید شباب المسلمین حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا ذکر تو پہلے ہو چکا ہے جو بالترتیب یکم محرم اور دس محرم الحرام کو واصل بحق ہوئے اور ابتدائے آفرینش سے لے کر بعثت رسول تک چیدہ چیدہ واقعات درج ذیل ہیں:
نمبر1:
آدمِ ثانی حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے ان کی قوم کے ہتھکنڈوں سے اسی ماہ میں نجات ملی اور طوفانِ نوح میں مجرم کیفرِ کردار کو پہنچے۔
نمبر2:
ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے نارِ نمرود اسی ماہ میں گلزار بنی اور نمرود اور اس کے ایجنٹوں کی کوششیں اکارت گئیں۔
نمبر3:
موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے دس محرم (عاشوراء) کو نجات ملی اور فرعون اور اس کی فوج غرقاب ہوئی۔
اس قسم کے بہت سے دیگر معرکہ ہائے حق و باطل تھے جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حق کو کامیابی نصیب ہوئی اور باطل خائب و خاسر ہوا۔ اگر ان شخصیتوں سے ہمارا بھی کوئی دینی اور روحانی تعلق ہے اور اسی حق میں ہم پیروکار ہیں جس کی خاطر انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور جابر و ظالم بادشاہوں سے ٹکر لی تو ہمیں جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن الخطاب کی شہادت کا غم ہے وہاں ان چند واقعات پر خوش بھی ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے حق کی مدد فرما کر اسلامی تاریخ کو ایسا تابناک بنایا اور ہمارے اسلاف کو اسی حق کی خاطر ثابت قدم فرما کر دین کا بول بالا کیا۔
ہمیں چاہئے کہ ان واقعات سے اچھا سبق لیں اور ان بزرگوں کی زندگیوں سے دینِ الٰہی کی خاطر ہر قسم کی جدوجہد کا نمونہ حاصل کریں۔ حتیٰ کہ اگر اس راہ میں اپنے جان و مال کی قربانی بھی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔ ان واقعات کی یہی روح اور یہی ان بزرگوں کا مشن تھا۔ یہی راستہ دارین کی فوز و فلاح کا ضامن ہے اور یہی ان سے اظہارِ محبت کا طریقہ ہے۔
محرم کے مروجہ رواجات و رسوماتِ ماتم، مرثیہ خوانی، مجالس عزاء، تعزیہ داری، علم دلدل، مہندی تابوت، لباسِ غم پہننا، امام حسین کے نام کی سبیلیں لگانا، ان کے نام کی نذر و نیاز دینا اور مالیدہ چڑھانا شرعاً ممنوع ہونے کے ساتھ ساتھ ان ائمہ کے مشن سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نہ ہی ان کے خلاء و ورثاء محبین مخلصین کا یہ وطیرہ تھا او نہ ہی یہ سب کچھ ان سے اظہارِ عقیدت کا ذریعہ ہے۔
مراد ما نصیحت بود گفتمیم
حوالت با خدا کریم رفتیم

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو صحیح رستہ پر چلائے اور بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Tuesday, 7 August 2012

Yaum e Aashurah Ki Asal Haqeeqat - یوم عاشورہ کی اصل حقیقت - Mp3 Bayaan Urdu

Yaum e Aashurah Ki Asal Haqeeqat
یوم عاشورہ کی اصل حقیقت
محمد کبیر بٹ
Language : URDU
SIze: Total 48.8 MB

Sunday, 6 May 2012

Monday, 17 October 2011

Mahnama Mohaddis 14 - March 1972 - Islamic Magazines

ماہنامہ محدث  لاہور


شمارنمبر:14  ۔۔۔۔ جلدنمبر2 ۔۔۔۔ شمارہ نمبر3  ۔۔۔۔  مارچ1972 ء   ۔۔۔۔محرم الحرام1391 ھ


فہرست مضامین

محرم الحرام. 4

ماهِ محرم كی شرعی اور تاريخی حيثيت...... 6

اُطلُبُوا العلم ولو بالصِّین کی تحقیق..... 14

حضرت خواجہ حافظ شیرازیؒ کا ناصحانہ کلام. 16

اے خدا بخش دے ہم گنہگار ہیں... 25

سماع۔ امام نابلسیؒ کا نقطۂ نظر... 27

غم.. 30

قرآنِ مجید کا پہلا نو مسلم انگریز مترجم.. 31

خدا پر کامل اعتقاد رکھیے۔ علماءِ کرام کے خلاف سازش.. 35

تعارف و تبصرۂ کتب.... 37


Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"     
Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"   


ماہنامہ محدث کا اجمالی تعارف

مدیر اعلیٰ: حافظ عبدالرحمٰن مدنی                                          مدیر:ڈاکٹر حافظ حسن مدنی
ماہنامہ محدث كى ابتدا انڈيا سے نكلنے والے ايك رسالے كى ہى ارتقائى شكل ہے -جامعہ رحمانيہ دہلى سے نكلنے والا ايك رسالہ جس كا نام محدث ہى تها اسى كو پروان چڑهاتے ہوئے تقسيم ہند كے بعد دوباره ماہنامہ محدث كے ہی  نام سے پاكستان ميں عظیم اسکالر حافظ عبدالرحمنٰ مدنی نے  اس كا اجراء كيا اور 1970سے لے كر اب تك كامرانى وكاميابى سے شائع ہو رہا ہے ­-محدث كى علمى پہچان كے حوالے سے اتنا ہى كافى ہے كہ ماہنامہ محدث ہر صاحب علم وفضل كى ضرورت بن چكا ہے كيونكہ اس كے مضامین جديد فكر کے حامل اور ملحدانہ افكار كے ليے تلوار بے نيام كى حيثيت ركهتے ہيں-
اجرائے محدث کے مقاصد

عناد اور تعصب سے بالا تر ہوكر اسلام كى ابدى تعليمات كو فروغ دينا                   دين اسلام پر غير مذاہب كے حملوں كا دفاع كرنا
قوانين ومسائل اسلاميہ كو نرم كر كے اسلامى روح كو كمزور كرنے والے عناصر كى بيخ كنى كرنا
علوم جديده سے بہره ور كر كے انسانى افكار كو ارتقا ء تك لے جانا                          اتباع كتاب وسنت كى طرف والہانہ دعوت دينا

وحدت امت كو قائم ركهتے ہوئے سلف صالحين كے متفقہ فہم كا پرچار كرنا
اور
صحابہ، تابعين، محدثین اور تمام آئمہ كرام سے محبت كے جذبات كو پروان چڑهانا اس علمى وفكرى مجلے كا شعار ہے
يقينى طور پر ماہنامہ محدث علمى، تحقیقی،معلوماتى اور انتہائى شائستہ زبان ركهنے والے مضامين كا ايك حسین امتزاج ہے


Sunday, 24 July 2011

Muharram ul Haram Haqeeqat Ke Aaine Mein - Pamphlets

Muharram ul Haram Haqeeqat Ke Aaine Mein

Pages: 7

Size: 0.5 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Sunday, 19 June 2011

Mahe Muharram Aur Mojuda Musalman (Matam Aur Mahe Muharram) - Tauseef ur Rehman (Cd/Dvd Quality


Mahe Muharram Aur Mojuda Musalman (Matam Aur Mahe Muharram)
ماہ محرّم اور موجودہ مسلمان (ماتم اورماہِ محرّم)
Tauseef ur Rehman

مختصر بیان: ویڈیو مذکور میں ماہ محرّم کی فضیلت بیان کرکے حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر کی جانے والی گریہ و ماتم, نوحہ خوانی اور بے ہودہ حرکات وغیرہ کے اظہار سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی ہے .نیز حسین رضی اللہ عنہ کے حقیقی قاتلین سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے, نہایت ہی اہم ویڈیو ہے ضرور دیکھیں.

Thursday, 16 June 2011

Muharram Ki Fazilat - Cd/Dvd Quality

Muharram Ki Fazilat
محرّم کی فضیلت
unknown speaker

مختصر بیان: فضيلة الشیخ عبد المجید مدنی حفظہ اللہ کی محرّم کی فضیلت اور اس ماہ میں کئے جانے والے غیر شرعی اعمال سے متعلق یہ نہایت ہی مفید و یڈیو ہے ضرور دیکھیں.

Thursday, 17 March 2011

Muharram ul Haram haaye Mazamin mat Puchh (Online Books)

محرم الحرام غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

حافظ صلاح الدین یوسف

(1) سانحہ ٴ کربلا کا محرم کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں!

ماہ محرم سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو آں حضرت ﷺ کے واقعہ ٴہجرت پر ہے لیکن اس اسلامی سن کا تقرر اورآغاز ِاستعما ل۱۷ ھ میں حضرت عمر فاروق  کے عہد ِحکومت سے ہوا ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری یمن کے گورنر تھے ،ان کے پاس حضرت عمر فاروق  کے فرمان آتے تھے جن پر تاریخ درج نہ ہوتی تھی ۔ ۱۷ھء میں حضرت ابو موسیٰ کے توجہ دلانے پر حضرت عمر فاروق نے صحابہ کو اپنے ہاں جمع فرمایا او ران کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ۔تبادلہ ٴافکارکے بعد قرار پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ٴ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتدا ماہ ِمحرم سے کی جائے کیونکہ ۱۳ نبوت کے ذو الحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کامنصوبہ طے کر لیا گیا تھااور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا (فتح الباری ، شرح باب التاریخ ومن أین أرخوا التاریخ ج ۳ ،ص ۳۸۸، دہلی)
مسلمانوں کا یہ اسلامی سن بھی اپنے معنی ومفہوم کے لحاظ سے ایک خاص امتیازی حیثیت کا حامل ہے ۔مذاہب ِعالم میں اس وقت جس قدر سِنین مروّج ہیں وہ عام طور پر یا تو کسی مشہور انسان کے یومِ ولادت کو یاددلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ ٴ مسرت وشادمانی سے وابستہ ہیں کہ جس سے نسل انسانی کو بظاہر کوئی فائدہ نہیں مثلاً مسیحی سن کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ ولادت ہے ۔ یہودی سن فلسطین پر حضرت سلیمان  کی تخت نشینی کے ایک پرشوکت واقعے سے وابستہ ہے ۔ بکرمی سن راجہ بکر ماجیت کی پیدائش کی یادگار ہے،رومی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو واضح کرتا ہے لیکن اسلامی سن ہجرت عہد نبوت کے ایسے واقعے سے وابستہ ہے جس میں یہ سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان اعلائے کلمۃُالحق کے صلے میں تمام اطراف سے مصائب وآلام میں گھر جائے ،بستی کے تمام لوگ اس کے دشمن اور درپے آزار ہو جائیں،قریبی رشتہ دار اورخویش واقارب بھی اس کو ختم کرنے کا عزم کر لیں ،اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دیئے جائیں ، شہر کے تمام سر برآوردہ لوگ اس کوقتل کرنے کا منصوبہ باندھ لیں ،اس پر عرصہ ٴحیات ہر طرح تنگ کر دیا جائے اور اس کی آواز کوجبراً روکنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت وہ مسلمان کیا کرے؟ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز نہیں کیا کہ کفر وباطل کے ساتھ مصالحت کر لی جائے،تبلیغ حق میں
مداہنت اوررواداری سے کام لیا جائے اوراپنے عقائد ونظریات میں لچک پیدا کر کے اُ ن میں گھل مل جائے تا کہ مخالفت کا زور ٹوٹ جائے ۔بلکہ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز کیا ہے کہ ایسی بستی اور شہرپر حجت تمام کر کے وہاں سے ہجرت اختیار کر لی جائے ۔چنانچہ اسی واقعہ ٴہجرت نبوی پرسن ہجری کی بنیاد رکھی گئی ہے جو نہ توکسی انسانی برتری اور تفو ّق کو یاد دلاتا ہے اور نہ شوکت و عظمت کے کسی واقعہ کو ، بلکہ یہ واقعہ ٴہجرت مظلومی اور بیکسی کی ایک ایسی یادگار ہے کہ جو ثبات ِقدم ، صبرواستقامت اورراضی برضائے الٰہی ہونے کی ایک زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔یہ واقعہ ہجرت بتلاتا ہے کہ ایک مظلوم وبے کس انسان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتا ہے اورمصائب وآلام سے نکل کر کس طرح کامرانی وشادمانی کازرّیں تاج اپنے سر پر رکھ سکتا ہے اور پستی وگمنامی سے نکل کر رفعت وشہرت اور عزت وعظمت کے بامِ عروج پر پہنچ سکتا ہے … علاوہ ازیں یہ مہینہ حرمت والا ہے اور اس ماہ میں نفل روزے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں جیسا کہ حدیث ِنبوی میں ہے ۔

یہ بھی خیال رہے کہ اس مہینے کی حرمت کا سیدنا حضرت حسین کے واقعہ ٴشہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ اس لیے قابل احترام ہے کہ اس میں حضرت حسین  کی شہادت کاسانحہ ٴ دل گداز پیش آیا تھا ۔یہ خیال بالکل غلط ہی۔ یہ سانحہ ٴشہادت توحضور ﷺ کی وفات سے ۵۰ سال بعد پیش آیا اوردین کی تکمیل آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کردی گئی تھی:﴿اَلْيَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَکُمُ الإسْلاَمَ دِيْنًا﴾ اس لیے یہ تصور اس آیت ِقرآنی کے سرا سر خلاف ہے ۔پھر خود اسی مہینے میں اس سے بڑھ کر ایک اورسانحہ ٴ شہادت اورواقعہ ٴ عظیم پیش آیا تھا یعنی یکم محرم کو عمر فاروق  کی شہاد ت کا واقعہ ۔ اگر بعد میں ہونے والی شہادتوں کی شرعاً کوئی حیثیت ہوتی تو حضرت عمر فاروق  کی شہادت اس لائق تھی کہ اہل اسلام اس کااعتبار کرتے، حضرت عثمان کی شہادت ایسی تھی کہ اس کی یادگار منائی جاتی اور پھر ان شہادتوں کی بنا پر اگر اسلام میں ماتم وشیون کی اجازت ہوتی تویقینا تاریخ اسلام کی یہ دونوں شہادتیں ایسی تھی کہ اہل اسلام اس پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم وگریہ زاری کرتے ،کم ہوتالیکن ایک تو اسلام میں اس ماتم وگریہ زاری کی اجازت نہیں ،دوسرے یہ تمام واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ہیں ،اس لیے اِن کی یاد میں مجالس عزا اور محافل ماتم قائم کرنا دین میں اضافہ ہے جس کے ہم قطعاً مجاز نہیں۔

(2)عشرہ محرم اور صحابہ  کا احترامِ مطلوب

عشرہ محرم میں عام دستور ورواج ہو گیا ہے کہ شیعی اثرات کے زیر اثر واقعات ِکربلاکو مخصوص رنگ اور افسانوی ودیومالائی انداز میں بیان کیا جاتا ہے ۔شیعی ذاکرین تو اس ضمن میں جو کچھ کرتے ہیں وہ عالم آشکارا ہے لیکن بد قسمتی سے بہت سے اہل سنت کے واعظانِ خوش گفتار اور خطیبانِ سحر بیان بھی گرمی ٴمحفل او رعوام سے داد وتحسین وصول کرنے کے لیے اُسی تال سریں ،اُن واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں جو شیعیت کی مخصوص ایجاد اوران کی انفرادیت کا غماز ہے ۔اس سانحہ ٴشہادت کا ایک پہلو صحابہ کرام پر تبرا بازی ہے جس کے بغیر شیعوں کی محفل ”ماتم حسین“ مکمل نہیں ہوتی۔ اہلسنّت اس پستی وکمینگی تک تو نہیں اُترتے تا ہم بعض لوگ بوجوہ بعض صحابہ  پر کچھ نکتہ چینی کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے مثلا ایک ’مفکر‘ نے یہاں تک فرما دیا کہ نبی اکرم سے قلیل صحبت ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کی قلب ِماہیت نعوذ باللہ نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تمام اعلیٰ وادنیٰ صحابہ  کا فرقِ مراتب کے باوصف بحیثیت ِصحابی ہونے کے یکساں عزت واحترام اسلام کا مطلوب ہے ۔کسی صحابی کے حق میں بھی زبان طعن وتشنیع کھولنا اورریسرچ کے عنوان سے نکتہ چینی کا جواز نکالنا نا ہلاکت وتباہی کے خطرہ کو دعوت دینا ہے ۔
صحابی کی تعریف ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جس نے ایمان کی حالت میں نبی اکرم کو دیکھا ہو او رقرآن وحدیث میں صحابہ کرام کے جو عمومی فضائل ومناقب بیان کیے گئے ، ان کا اطلاق بھی ہر صحابی پر ہو گا۔حافظ ابن حجر  نے الإصابۃ میں صحابی کی جس تعریف کو سب سے زیادہ صحیح اور جامع قرار دیا ہے وہ یہ ہے:              (الإصابة فی تمييز الصحابة ،طبع جدید)
واَصح ما وقفتُ عليه من ذلک أن الصحابي من لقی مؤمنا به ومات علی الاسلام فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ومن روی عنه أو لم يرو ومن غزا معه أو لم يغزو من راٰہ رؤية ولو لم يجالسه ومن لم يرہ بعارض کالعمی”سب سے زیادہ صحیح تعریف صحابہ کی جس پر میں مطلع ہوا ،وہ یہ ہے کہ ”وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں حضور ﷺ سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی اس کی موت ہوئی“ پس اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے آپ سے ملاقات کی (قطع نظر اس سے کہ) اسے آپ کی ہم نشینی کا شرف زیادہ حاصل رہا یاکم، آپ سے روایت کی یا نہ کی ۔ آپ کے سا تھ غزوات میں شریک ہوا یا نہیں او رجس نے آپ کو صرف ایک نظرہی سے دیکھا ہو او رآپ کی مجالست وہم نشینی کی سعادت کا موقع اُسے نہ ملا ہو ا ور جو کسی خاص سبب کی بنا پر آپ کی رؤیت کا شرف حاصل نہ کرسکا ہو جیسے نابینا پن“ (سب ہی صحابہ کی اصطلاح میں شامل ہیں)اس لیے اہل سنت کا خلفاء ِاربعہ: ابوبکر  وعمر  وعثمان  اور علی اور دیگر اُن جیسے اکابر صحابہ  کی عزت وتوقیر کو ملحوظ رکھنا لیکن بعض اُن جلیل ُالقدر اصحاب ِرسول کی منقبت وتقدیس کا خیال نہ رکھنا یا کم ازکم انہیں احترامِ مطلوب کا مستحق نہ سمجھنا جن کے اسمائے گرامی مشاجرات کے سلسلے میں آتے ہیں جیسے حضرت معاویہ،حضرت عمرو بن العاص ، حضرت مغیر ہ بن شعبہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، یکسر غلط اور رفض وتشیع کا ایک حصہ ہے ۔اہل سنت کو اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ خلفائے راشدین کی عزت وتوقیر تو کسی حد تک معقولیت پسند شیعہ حضرات بھی ملحوظ رکھنے پر مجبور ہیں او ران کا ذکر وہ نامناسب انداز میں کرنے سے بالعموم گریز ہی کرتے ہیں البتہ حضرت معاویہ  ،عمروبن ا لعاص وغیرہ کو وہ بھی معاف نہیں کرتے ۔اگر صحابہ کرام کے نام لیوابھی یہی موقف اختیار کر لیں تو پھر محبانِ صحابہ اور دشمنانِ صحابہ میں فرق کیا رہ جاتا ہے ؟ او ر ان صحابہ کواحترامِ مطلوب سے فروتر خیال کر کے ان کے شر ف وفضل کو مجروح کرنا کیا صحابیت کے قصر رفیع میں نقب زنی کا ارتکاب نہیں ہے ؟کیا اس طرح نفس صحابیت کا تقدس مجروح نہیں ہوتا؟اور صحابیت کی ردائے عظمت (معاذ اللہ) تارتار نہیں ہوتی؟
بہر حال ہم عرض یہ کر رہے تھے کہ قرآن وحدیث میں صحابہ کرام کے جو عمومی فضائل ومناقب مذکور ہیں وہ تمام صحابہ کو محیط وشامل ہیں اس میں قطعاً کسی استثناء کی کوئی گنجائش نہیں ہے او ران نصوص کی وجہ سے ہم ا س امرکے پابند ہیں کہ تما م صحابہ کو نفس صحابیت کے احترام میں یکساں عزت واحترام کا مستحق سمجھیں …اس سلسلے میں یہ حدیث ہر وقت ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے :
”عن عبد الله بن مغفل قال قال رسول الله ﷺ: الله الله فی أصحابی لا تتخذوهم غرضا من بعدي فمن أحبهم فبحبّی أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم ومن أذاهم فقد أذاني ومن أذاني فقد أذیٰ الله ومن أذیٰ الله فيوشک أن يأخذہ “ (رواہ الترمذی ص ۲۲۶ ج ۲ وقال ھذا حدیث غریب)
”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی ،پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی ۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی ، اس نے اللہ کواذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کو گرفت کر لے ۔“
اسی سلسلے کی دو حدیثیں اور قابل ملاحظہ ہیں:
عن أبي سعيد الخدري قال قال النبیﷺ لا تسبّوا أصحابي فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذهَبًا ما بلغ مد أحدهم ولانصيفه …متفق علیہ (مشکوٰة)
”میرے صحابہ پر سب نہ کرو (یعنی انہیں جرح وتنقید او ربرائی کاہدف نہ بناؤ) انہیں اللہ نے اتنا بلند رتبہ عطا فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اگر اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ کسی صحابی کے خرچ کردہ ایک مد (تقریباً ایک سیر ) بلکہ آدھے مد کے بھی برابر نہیں ہو سکتا۔“
عن ابن عمر  قال قال رسول الله ﷺ إذا رأيتم الذين يسبّون أصحابي فقولوا لعنة الله علی شَرِّکُم ، ھذا حدیث منکر (ترمذی ج ۲ ،ص ۲۲۷)
”جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ میرے صحابہ  کی برائی کر رہا ہے تو تم کہو ،تم میں سے (یعنی برائی کرنے والے اور جس کی برائی کی جارہی ہے اُن میں سے ) جو بدتر ہو ،اس پر اللہ کی لعنت ہو“
ظاہر ہے صحابہ کے مقابلے میں اُن کی برائی کرنے والا ہی بدتر ہو گا، اس لیے لعنت ِخداوندی کا مستحق اُس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ۔

(3) ماہ ِمحرم اور عاشورہ محرم

عشرہ ٴ محرم (محر م کے ابتدائی دس دن) میں شیعہ حضرات جس طرح مجالس عزا او رمحافل ماتم برپا کرتے ہیں ۔ظاہر بات ہے کہ یہ سب اختراعی چیزیں ہیں اورشریعت ِاسلامیہ کے مزاج سے قطعاً مخالف ۔اسلام نے تو نوحہ وماتم کے اس انداز کو ’جاہلیت‘ سے تعبیر کیا ہے او راس کام کو باعث ِلعنت بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا بتلایا ہے ۔
بد قسمتی سے اہل سنت میں سے ایک بدعت نواز حلقہ اگرچہ نوحہ وماتم کا شیعی انداز تو اختیار نہیں کرتا لیکن اِن دس دنوں میں بہت سی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے جن سے رفض وتشیع کی ہم نوائی اور ان کے مذہب ِباطل کا فروغ ہوتا ہے ۔مثلاً
  • شیعوں کی طرح سانحہ ٴ کربلا کو مبالغے او ررنگ آمیزی سے بیان کرنا۔
  • حضرت حسین ویزید کی بحث کے ضمن میں بعض جلیل ُالقدر صحابہ کرام (حضرت معاویہ ومغیرہ بن شعبہ )کو ہدف ِطعن وملامت بنانے میں بھی تا ٴمل نہ کرنا
  • دس محرم کو تعزیے نکالنا ،انہیں قابل تعظیم وپرستش سمجھنا ۔ اُن میں سے منتیں مانگنا ،حلیم پکانا ،پانی کی سبیلیں لگانا ،اپنے بچوں کوہرے رنگ کے کپڑے پہنا کر انہیں حضرت حسین کا فقیر بنانا ۔ دس محرم کو تعزیوں او رماتم کے جلوسوں میں ذوق وشوق سے شرکت کرنا اور کھیل کود (گٹکے اورپٹہ سازی) سے اِن محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا وغیرہ۔
  • ماہ ِمحرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا ۔
  • ذو الجناح (گھوڑے )کے جلوس میں کثرت سے شرکت کرنا۔
اور اسی انداز کی کئی چیزیں … حالانکہ یہ سب چیزیں بدعت ہیں جن سے نبی ﷺکے فرمان کے مطابق اجتناب ضروری ہے آپ نے مسلمانوں کوتاکید کی ہے : (مشکوٰة ،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)
”فعليکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين تَمَسّکُوا بها وعضّوا عليها بالنواجذ وإياکم ومحدثات الامور فإن کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة“
”مسلمانو! تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو ہی اختیار کرنا اور اِسے مضبوط سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچا کر رکھنا اس لیے کہ دین میں ہر نیا کام (چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے “
یہ بات ہر کہ ومہ پر واضح ہے کہ یہ سب چیزیں صدیوں بعد کی پیداوار ہیں ۔بنا بریں ان کے بدعات ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور آں حضرت ﷺ نے ہربدعت کو گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مذکورہ خود ساختہ رسومات کی شناء ت وقباحت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

(4) محرم میں مسنون عمل

محر م میں مسنون عمل صرف روزے ہیں ۔ حدیث میں رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے”أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرّم“ (مسلم عن ابی ہریرة ) بلکہ ایک( غریب ُالاسناد) روایت میں محرم کے مہینے میں رکھے گئے ایک روزے کا ثواب ۳۰ روزوں کے برابر بھی بتلایا گیا ہے ۔”من صام يوماً من المحرَّم فله بکل يوم ثلاثين“ رواہ الطبرانی فی الصغیر وھو غریب واسنادہ لا بأس بہ (الترغیب ،عن ابن عباس)
خصوصی روزہ:بالخصوص دس محرم کے روزے کی حدیث میں یہ فضیلت آئی ہے کہ یہ گذشتہ ایک سال کا کفارہ ہے ۔ اس روز آں حضرت ﷺبھی خصوصی روزہ رکھتے تھے (ترغیب )
پھر ان کو علم ہوا کہ یہودی بھی اس امرکی خوشی میں کہ دس محرم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی، روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ
”صوموا يوم عاشوراء وخالفوا اليهود صوموا قبله يوما أو بعده يوم“(مسند احمد :ج ۴،ص ۲۱ طبع جدید ،مجمع الزوائد :ج ۳ ،ص ۱۸۸)
”عاشورہ (۱۰/ محرم) کا روزہ تو ضرور رکھو ۔لیکن یہودیوں کی مخالفت بھی بایں طور کرو کہ اسکے بعد یا اس سے قبل ایک روزہ اور ساتھ ملالیا کرو:۹،۱۰ محرم یا ۱۰ ،۱۱ محرم کا روزہ رکھا کرو۔“
ایک من گھڑت روایت:محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جوروایت بیان کی جاتی ہے کہ اس دن جو شخص اپنے اہل وعیال پر فراخی کرے گا، اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر فراخی کرے گا،بالکل بے اصل ہے جس کی صراحت امام ابن تیمیہ اور دیگر محققین نے کی ہے… چنانچہ امام ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:
هذا من البدع المنکرة التی لم يسنّها رسول الله ولا خلفاء الراشدون ولا استحبها أحد من أئمة المسلمين لا مالک ولا أحمد بن حنبل ولا الشافعي ولا أسحٰق بن راهويه ولا أمثال هولاء من الائمة المسلمين
”۱۰محرم کو خاص کھانا پکانا ،توسیع کرنا وغیرہ من جملہ اِن بدعات ومنکرات سے ہے جو نہ رسول اللہ ﷺکی سنت سے ثابت ہے نہ خلفاءراشدین سے او رنہ ائمہ سلمین میں سے کسی نے اس کو مستحب سمجھا ہے ۔“ (فتا ویٰ ابن تیمیہ :ج ۲ ،ص ۳۵۴)
اور امام احمد کا یہ قول مذکورہ روایت کے متعلق امام ابن تیمیہ نے ذکرکیا ہے کہ لا أصل لہ، فلم یرہ شیئا ”اس کی کوئی اصل نہیں ،امام احمد نے اس روایت کو کچھ نہیں سمجھا “ (منھاج السنة: ج ۲ ص ۲۴۸ او رفتاویٰ مذکور) … اسی طرح امام صاحب کی کتاب اقتضاء ا لصراط المستقیم میں اس کی صراحت موجود ہے (ص ۳۰۱، طبع مصر ۱۹۵۰ء )
اور امام محمد بن وضاح نے اپنی کتاب میں امام یحییٰ بن یحییٰ (متوفی ۲۳۴ ھ) سے نقل کیا ہے :
”میں امام مالک  کے زمانے میں مدینہ منورہ اورامام لیث ،ابن القاسم او رابن وہب کے ایام میں مصر میں موجودتھا اور یہ دن (عاشوراء) وہاں آیا تھا میں نے کسی سے اس کی توسیع رزق کا ذکر تک نہیں سنا ۔اگر ان کے ہاں کوئی ایسی روایت ہوتی توباقی احادیث کی طرح اس کا بھی وہ ذکر کرتے۔“ ( البدع والنھی عنھا : ص ۱۴۵)
اس روایت کی پوری سندی تحقیق حضرت استاذِ محترم مولانا محمد عطاء ا للہ حنیف  نے اپنے مفصل مضمون میں کی ہے جو ہفت روزہ”الاعتصام“ ۱۳ /مارچ ۱۹۷۰ء ئمیں شائع ہوا تھا ۔ من شاء فلیراجعہ
یہ تمام مذکورہ اُمور وہ ہیں جواہل سنت کے عوام کرتے ہیں ،شیعہ اِن ایام میں جو کچھ کرتے ہیں ، ان سے اس وقت بحث نہیں ، اس وقت ہمارا روئے سخن اہل سنت کی طرف ہے کہ وہ بھی دین اسلام سے ناواقفیت ،عام جہالت اور شیعیت کی دسیسہ کاریوں سے بے خبر ی کی بنا پر مذکورہ بالا رسومات بڑی پابندی او راہتمام سے بجالاتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں اسلام کے ابتدائی دور کے بہت بعد ایجاد ہیں جو کسی طرح بھی دین کا حصہ نہیں او رنبی ﷺکے فرمان ”من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو ردّ“ (متفق علیہ ،مشکوٰة) ”دین میں ہرنو ایجاد کام مردود ہے “ کے مصداق ان سے اجتناب ضروری ہے ۔