Showing posts with label Online Book. Show all posts
Showing posts with label Online Book. Show all posts

Friday, 22 February 2013

Ilyas Ghuman Ke Pamphlets "Aameen Aahista Kehne Ke Dalail" Ka Jawab - الیاس گھمن کے پمفلٹ " آمین آہستہ کہنے کے دلائل" کا جواب



الیاس گھمن کے پمفلٹ " آمین آہستہ کہنے کے دلائل" کا جواب


محمد الیاس گھمن دیوبندی کے پمفلٹ "آمین آہستہ کہنے کے دلائل" کا جواب درج ذیل ہے:

دلیل نمبر ١ :

آمین دعا ہے
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:قَدْاُجِیْبَتْ دَعْوَتُکُمَا۔ (سورۃ یونس:89)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ وہارون کے بارے میں فرمایاکہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی
جواب: ہم نے اپنے دلائل میں امام عطا ء بن ابی رباح رحمہ الله کے مکمل قول کی بنیاد پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آمین ایسی دعا ہے جو اونچی آواز (یعنی جہر )سے کہنی چاہئے. (دیکھئے دلیل نمبر ٤)
اگر ہر دعا لازمی طور پر دل میں ہی پڑھنا ضروری ہے تو آل دیوبند رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کے آخری دن (اتوار کو) لاؤڈ سپیکر پر اونچی آواز سے کیوں دعا مانگتے ہیں اور لوگ آمین آمین کیوں کہتے ہیں؟
ایسی بات کیوں کہتے ہو جس پر تمہارا عمل نہیں؟
’’اَخْرَجَ اَبُوالشِّیْخِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمِ اِذَادَعَا اَمَّنَ ھَارُوْنُ عَلَیْہِ السَّلاَمِ عَلٰی دُعَائِہِ۔ یَقُوْلُ آمِیْن‘‘ (تفسیر درمنثور ج3،ص567)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام دعامانگتے اور حضرت ہارون علیہ السلام ان کی دعا پر آمین کہتے ۔‘‘
اس روایت کی سند معلوم نہیں، یعنی یہ بے سند روایت ہے لہٰذا اسے بطور دلیل پیش کرنا غلط ہے.
دوسرے یہ کہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ سیدنا ہارون علیہ السلام دل میں آمین کہتے تھے لہٰذا
آل دیوبند کا استدلال غلط ہے.
’’ قَالَ عَطَائُ آمِیْنُ دُعَائٌ ‘‘ (صحیح بخاری :ج1،ص107)
ترجمہ: معروف جلیل القدر تابعی حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’آمین دعا ہے۔‘‘
یہ آدھا قول نقل کیا گیا ہے، حالانکہ صحیح بخاری میں مکمل قول سے ثابت ہوتا ہے کہ آمین ایسی دعا ہے جو بالجہر کہنی چاہئے. (دیکھئے میرا مضموں : "آمین بالجہر کہنے کے دلائل" دلیل نمبر ٤)
دعا میں اصل یہ ہے کہ آہستہ کی جائے
اُدْعُوْارَبَّکُمْ تَضَرُّعاًوَّخُفْیَۃً (سورۃ الاعراف:55)
ترجمہ: دعامانگو تم اپنے رب سے عاجزی اورآہستہ آواز سے۔
قرآن و حدیث سے جہاں آہستہ دعا کہنا ثابت ہے وہاں آہستہ کہنی چاہئے اور جہاں بالجہر ثابت ہو وہاں بالجہر کہنی چاہئے. یہ کیا ہوا کہ خود تو رائے ونڈ میں لمبی لمبی جہراً  ا مانگیں اور لوگوں کو آمین بالجہر سے منع کریں؟

دلیل نمبر٢ : 

آمین اللہ تعالی کانام ہے
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَھِلَالِ بْنِ یَسَافٍ وَ مُجَاہِدٍ قَالَ؛آمِیْنُ اِسْمٌ مِّنْ اَسْمَائِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔ (مصنف عبدالرزاق ج2ص64 ،مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص316)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ،حضرت ہلال بن یساف رحمہ اللہ اورحضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ آمین‘‘ اللہ کانام ہے۔
جواب: سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی طرف منسوب جو قول مصنف عبدالر زاق میں مذکور ہے، اس کی سند میں بشر بن رافع ضعیف راوی ہے. (دیکھئے تقریب التہذیب: ٧٧٠)
اس راوی پر اکاڑوی کی شدید جرح کے لئے دیکھئے تجلیات صفدر (٣/١٣٣)
دوسرے یہ کہ  اگر الله کا نام بلند آواز سے پڑھنا جائز نہیں تو رائے ونڈ وغیرہ کی دعا ؤں میں "اے الله! رحم فرما" جہراً کیوں پڑھا جاتا ہے؟
ذکر میں اصل یہ ہے کہ آہستہ کیا جائے
وَاذْکُرْرَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاًوَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ۔ (سورۃ اعراف:205)
ترجمہ: ’’ ذکر کیجیے اپنے رب کا دل میں عاجزی اورخوف کے ساتھ ، آہستہ آواز میں۔
جو ذکر  جہراً ثابت ہے مثلاً جہری نمازوں میں آمین بالجہر پڑھنا تو اسے جہراً پڑھنا چاہئے اور جو سر اً  ثابت ہے وہ  سر اً پڑھنا چاہئے.
قَالَ الْاِمَامُ فَخْرُالدِّیْنِ الرِّازِیُّ قَالَ اَبُوْحَنِیْفَۃَ اِخْفَائُ التَّامِیْنِ اَفْضَلٌ وَاحْتَجَّ اَبُوْحَنِیْفَۃَ عَلٰی صِحَّۃِ قَوْلِہِ قَالَ فِیْ قَوْلِہِ (آمِیْنٌ) وَجْھَانِ؛اَحُدُھُمَا: اَنَّہُ دُعَائٌ۔ وَالثَّانِیْ: اَنَّہُ مِنْ اَسْمَائِ اللّٰہِ فَاِنْ کَانَ دُعَائٌ وَجَبَ اِخْفَائُہُ لِقَوْلِہِ تَعَالٰی{ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاًوَّخُفْیَۃً} وَاِنْ کَانَ اِسْماً مِّنْ اَسْمَائِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَجَبَ اِخْفَائُہُ لِقَوْلِہِ تَعَالٰی {وَاذْکُرْرَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاًوَّخِیْفَۃً} (تفسیر کبیرامام رازی ج14 ص131 )
ترجمہ: امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ آہستہ آواز سے’’ آمین ‘‘کہنا افضل ہے اوراپنے قول کی صحت پر دلیل قائم کی اورفرمایا کہ اس قول (آمین) میں دوجہتیں ہیں:
(١) آمین دعاہے۔
 (٢) آمین اللہ کا نام ہے
اگر آمین’’دعا‘‘ہے تو اس کا آہستہ آواز سے کہنا واجب ہے {اُدْعُوْارَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً}کی وجہ سے اور اگر آمین اللہ تعالیٰ کانام ہے تو بھی اس کا آہستہ آواز سے کہنا واجب ہے {وَاذْکُرْرَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَّخِیْفَۃ }کی وجہ سے۔‘‘
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ لَبِیْبِۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’خَیْرُ الذِّکْرِ اَلْخَفِیُّ‘‘
(مسند احمد ؛ج1ص228)
ترجمہ: حضرت سعدبن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’سب سے بہتر ذکر آہستہ آواز کے ساتھ کرنا ہے ۔‘‘
فخر الدین رازی (م ٦٠٦ ھ) نے کہا کہ  امام ابو حنیفہ نے فرمایا :  . الخ (ص٢ ملخصا)
رازی ٥٤٤ ھ میں پیدا ہوئے تھے اور امام صاحب ١٥٠ ھ میں فوت ھ گئے تھے، لہٰذا یہ سند منقطع مردود ہے.
ترجمہ: حضرت سعدبن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’سب سے بہتر ذکر آہستہ آواز کے ساتھ کرنا ہے ۔‘‘
اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمٰن ابی لبیبہ ہے جس کی سعد بن مالک رضی الله عنہ سے ملاقات ثابت نہیں، لہٰذا یہ سند منقطع ہے.
دوسرے یہ کہ ہر ذکر دل ہی پڑھنا چاہئے تو حافظ نثار احمد الحسینی  الحضر وی وغیرہ کو سمجھا ئیں جو ہؤ ہؤ کی آوازیں نکال کر (اندھیرے میں) ذکر بالجہر کرتے ہیں.

دلیل نمبر ٣ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗد َالطِّیَالْسِیُّ حَدَّثَنَاشُعْبَۃُ قَالَ اَخْبَرَنِیْ سَلْمَۃُ بْنُ کُھَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجْراً اَبَاالْعَنْبَسِ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ وَ قَدْ سَمِعْتُ مِنْ وَائِلٍ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَرَأَ {غَیْرِالْمَغْضُـوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ} قَالَ آمِیْنٌ خَفِضَ بِھَا صَوْتَہُ۔ (مسند ابی دائودطیالسی ص138 ،مسند احمد ج4ص389 )
ترجمہ: حضرت وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے {غَیْرِ الْمَغْضُـوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ}کی قرأت کی تو ’’آمین ‘‘ آہستہ آواز سے کہی۔‘‘
جواب: آہستہ آواز کے لفظ سے ثابت ہوا کہ جہری نمازوں میں آمین دل میں نہیں کہنی   چاہئے. دوسرے یہ کہ یہ حدیث خیر القرون کے محدثین کے نزدیک خطا (یعنی ضعیف) ہے. (دیکھئے القول المتین ص ٣٦_٣٧) 

 دلیل نمبر ٤ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ السَّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ نَا یَزِیْدُ نَاسَعِیْدٌ نَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسِنِ اَنَّ سَمُرَۃَ بْنَ جُنْدُبٍ وَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ تَذَاکَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ اَنَّہُ حَفِظَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَکْتَتَیْنِ: سَکْتَۃٌ اِذَاکَبَّرَوَسَکْتَۃٌ اِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَۃِ {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ}
(سنن ابی دائود: ج1،ص122 )
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے درمیان نمازمیں سکتوں کے متعلق مذاکرہ ہوا توحضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازمیں دو سکتوں کو یادکیا ایک جب تکبیر تحریمہ کہتے، سکتہ کرتے یعنی خاموش رہتے اور دوسرا جب{غَیْرِ الْمَغْضُـوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ}کی قرأت سے فارغ ہوتے تو سکتہ کرتے ،یعنی خاموش رہتے۔
جواب: اس سند کی روایت میں قتادہ رحمہ الله ثقہ مدلس ہیں اور روایت  عن سے ہے.
اصول حدیث کا مشہور مسلہ  ہے کہ غیر صحیحین میں مدلس کی  عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے. (قتادہ کے مدلس ہونے کے لئے دیکھئے الجوہرا  النقی لا بن التر کمانی الحنفی ٧/١٢٦)

دلیل نمبر ٥ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْجِعْفَرِ الطَّحَاوِیُّ الْحَنْفِیُّ حَدَّثَنَا سَلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبِ الْکِیْسَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ ثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ عَیَاشٍ عَنْ اَبِیْ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ کَانَ عُمَرُوَعَلِیُّ لاَ یَجْھَرَانِ بِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَلَابِالتَّعَوُّذِ وَلَابِالتَّامِیْنَ۔ (سنن طحاوی ج1ص150)
ترجمہ: حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم اورآمین کی قرأت کے وقت آواز بلند نہیں کرتے تھے ۔‘‘
جواب: اس روایت کی سند میں ابو سعد البقال جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ، نیز مدلس ہے. اور یہ  روایت عن سے ہے.

دلیل نمبر ٦ :

عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ کَانَ عَلِیُّ وَعَبْدُاللّٰہِ لَا یَجْھَرَانِ بِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَلَابِالتَّعَوُّذِ وَلَابِالتَّامِیْنَ۔ (اعلاء السنن ج2ص249)
ترجمہ: حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ،اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم اورآمین کی قرأت کے وقت آواز بلند نہیں کرتے تھے۔‘‘
جواب : اس کی سند میں بھی وہی ابو سعد البقال ضعیف راوی ہے. دیکھئے دلیل نمبر ٥ 

دلیل نمبر ٧:

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ یُخْفِی الْاِمَامُ ثَلَاثًا:اَلْاِسْتِعِاذَۃُ وَبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَآمِیْنٌ۔ (المحلی بالآثار،امام ا بن حزم رحمہ اللہ ج2ص280)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ امام نماز میں تین چیزوں ’’اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اورآمین کی قرأ ت آہستہ آواز سے کرے۔‘‘
جواب:  اس کا راوی ابو حمزہ میمون الا عور القصاب الکوفی ضعیف متروک ہے. (دیکھئے نصب الرایہ ٢/٣٧٣، القول المتین ص ٨٣)

دلیل نمبر ٨ :

رَوَی الْاِمَامُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ الْاَعْظَمُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتِ التَّابِعِیُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ اَرْبَعٌ یُخَافِتُ بِھِنَّ الْاِمَامُ؛سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَالتَّعَوُّذِ مِنَ الشَّیْطَانِ وَبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَآمِیْن۔
(کتاب الآثار ،امام ابو حنیفۃ بروایۃ امام محمد ج1ص162 ،مصنف عبدالرزاق ج2ص57)
ترجمہ: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’امام نماز میں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اورآمین کی قرأت آہستہ آواز سے کرے۔‘‘
جواب  : کتاب الآثار کا مصنف ابن فرقد جمہور محدثین کے نزدیک مجروح و ضعیف ہے لہٰذا یہ حوالہ مردود ہے اور مصنف عبد الرزاق والی روایت میں عبدالرزاق مدلس اور روایت  معنعن، حماد ابی سلیمان مدلس اور مختلط ہیں، لہٰذا یہ سند بھی ضعیف ہے.

دلیل نمبر ٩ :

عَنِ النَّخْعِیِّ وَالشَّعْبِیِّ وَاِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ کَانُوْا یَخْفُوْنَ بِاٰمِیْنَ۔
(الجوہر النقی ج2ص58)
ترجمہ: ’’حضرت امام نخعی،حضرت امام شعبی اور حضرت امام ابراہیم تیمی رحمہم اللہ نماز میں ’’آمین ‘‘آہستہ آواز سے کہتے تھے ۔ ‘‘
نوٹ : یادرہے ان میں امام شعبی رحمہ اللہ پانچ سوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں
یہ قول الجواہر النقی کتاب میں بغیر کسی سند کے اور "روي" کے لفظ سے مروی ہیں، یعنی یہ بے سند اور مردود حوالہ ہے. گھمن صاحب نے اس بے سند حوالے کے بعد لکھا ہے: "ان میں امام شعبی رحمہ اللہ پانچ سوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں"
عرض ہے کہ امام مالک بن مغول رحمہ الله  نے فرمایا : سمعت الشعبي يحسن القراء خلف الإمام"  میں نے شعبی کو سنا، وہ امام کے پیچھے قراءت کرنے کو اچھا قرار دیتے تھے. (مصنف ابن ابی شیبہ ١/٣٧٥ ح ٣٧٩٥ صحیح، نسختہ مکتبہ شاملہ)

دلیل نمبر ١٠:

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ اْلاَعْظَمُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتِ التَّابِعیُّ (اَرْبَعٌ یُخَافِتُ بِھِنَّ الْاِمَامُ؛سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَالتَّعَوُّذِ مِنَ الشَّیْطٰنِ وِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَآمِیْن) قَالَ مُحَمَّدٌ وَبِہِ نَاْخُذُ وَھُوَ قَوْلُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ ۔ (کتاب الآثار امام ابو حنیفۃ بروایۃامام محمد ج1ص162 )
ترجمہ: حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام نماز میں سبحانک اللھم وبحمدک ،اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم اورآمین کی قرأت آہستہ آواز سے کرے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے ۔
اس روایت کا راوی ابن فرقد ضعیف ہے . دیکھئے دلیل نمبر ٨
یاد رہے کہ امام ابو حنیفہ تابعی نہیں تھے، امام دار قطنی رحمہ الله (م ٣٨٥ھ) نے فرمایا: "لم يلحق أبو حنيفة أحداً من السحابة"  ابو حنیفہ نے صحابہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی. (سوالات  حمزة  السہمی : ٣٨٣، تاریخ بغداد ٤/٢٠٨، توضیح الاحکام ٢/٤٠٤)
وما علينا ألا البلاغ
(١٧ دسمبر ٢٠١٢ء جامعہ امام بخاری، مقام حیات سرگودھا)

Monday, 5 November 2012

Ilyas Ghuman Ke Bees (20) Rakat Taraveeh Ke 15 Dalail Aur Unke Jawabat - الیاس گھمن کے "بیس رکعات تراویح کے (١٥) دلائل" اور ان کے جوابات

 الیاس گھمن کے "بیس رکعات تراویح  کے (١٥) دلائل" اور ان کے جوابات

حافظ زبیر علی ز ئی

دلیل نمبر ١ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ ۔ (تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے ۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز(تراویح)اور تین رکعات وتر پڑھائے۔

الجواب:اس روایت کا ایک راوی  محمد بن حمید الرازی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے اور (امام) اسحاق کوسج نے فرمایا: "میں گواہی دیتا ہوں وہ کذاب تھا."
(امین اکاڑوی کی کتاب: تجلیات صفدر ج٣ ص٢٢٤، نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو : ٧٦ ص٣٤-٣٥)





اس کا دوسرا راوی عمر بن ہارون بھی جمہور کے نزدیک مجروح ہے. (دیکھئے نصب  الرایہ / ٣٥١،٣٥٥،٤/٢٧٣)

دلیل نمبر ٢ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مَقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص286؛معجم کبیرطبرانی ج5 ص433 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بیس رکعات نماز(تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب:اس روایت کے نیادی راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کے بارے میں قدوری حنفی نے لکھا ہے: "قا ضى واسط كذاب" واسط کا قاضی کذاب ہے.  (التجرید / ٢٠٣ فقرہ: ٦٣٢، الحدیث: ٧٦ ص٣٨)
کذاب کئی منفرد روایت موضوع ہوتی ہے، لہٰذا یہ روایت موضوع ہے.

دلیل نمبر ٣ :

عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَمَرَ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِاللَّیْلِ فِیْ رَمْضَانَ فَقَالَ اِنَّ النَّاسَ یَصُوْمُوْنَ النَّھَارَ لَایُحْسِنُوْنَ اَنْ یَّقْرَأُ وْا فَلَوْقَرَأتَ الْقُرْآنَ عَلَیْھِمْ بِاللَّیْلِ فَقَالَ: یَااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ! ہٰذَا شَیْیٌٔ لَمْ یَکُنْ۔ فَقَالَ؛ قَدْعَلِمْتُ وَلٰکِنَّہٗ اَحْسَنُ۔ فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ علی المطالب العالیہ ج2ص424)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی رات میں نماز(تراویح) پڑھاؤں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ’’لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور (رات) قرأت (قرآن) اچھی نہیں کرتے۔ تو قرآن مجید کی رات کو تلاوت کرے تو اچھا ہے۔‘‘ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے امیر المومنین! یہ تلاوت کا طریقہ پہلے نہیں تھا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں جانتا ہوں لیکن یہ طریقہ تلاوت اچھا ہے۔‘‘تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔

الجواب:  اس گھمنی  "دلیل" کے راوی ابوجعفر الرازی  کی ربیع بن انس سے روایت میں بہت اضطراب ہوتا ہے. (کتاب  الثقات لابن حبان ٤/٢٢٨)
اور یہ بھی اسی سند سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے. نیز دیکھئے الحدیث: ٧٦ ص ٣٩)

دلیل نمبر ٤ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْھَرِیُّ اَنَا اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۔ (مسند ابن الجعد ص413 ،معرفۃ سنن الآثار ؛بیہقی ج2 ص305)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیس رکعات (نماز تروایح ) پابندی سے پڑھتے اور قرآن مجید کی دو سوآیات پڑھتے تھے۔

الجواب:  یہ روایت شاذ ہے. (دلیل کے لئے  دیکھئے الحدیث : ٧٦ ص ٤٠)
اور مو طا   مالک کی محفوظ روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی الله عنہ اور سیدنا تمیم الداری  رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائے.
اس روایت سے  طحاویٰ نے استدلال کیا، عینی نے صحیح کہا، ضیاء المقدسی نے اسے المختار میں ذکر کیا اور نیموی تقلیدی نے کہا : "واسناده صحيح" (آثار السنن ص ٢٥٠ )
یاد رہے کے اصول حدیث میں یہ مسلہ مقرر ہے کہ شاذ روایت ضعیف ہوتی ہے.

دلیل نمبر ٥ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْوِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ وَکَانُوْا یَتَوَکَّئُوْنَ عَلٰی عَصِیِّھِمْ فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔ (سنن الکبری للبیہقی ج2ص496)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں رمضان شریف میں بیس رکعات (نماز تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی دو سو آیات تلاوت کرتے تھے اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ قیام کے (لمبا ہونے کی وجہ سے ) اپنی (لاٹھیوں) پر ٹیک لگاتے تھے۔

الجواب:اس نمبر کے تحت گھمن صاحب نے وہی روایت ذکر کی ہے جو نمبر ٤ پر گزر  چکی ہے اور صرف السنن الکبریٰ  البہیقی کا حوالہ کر دیا ہے، حالانکہ یہ ایک ہی روایت ہے. (دیکھئے الحدیث: ٧٦ ص  ٤٤)

دلیل نمبر ٦ : 

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ نَا ھُشَیْمٌ اَنَا یُوْنُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِیْ قِیَامِ رَمْضَانَ ،فَکَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔ (سنن ابی داؤد ص1429،سیر اعلام النبلاء امام ذہبی ج3ص176)
ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں نماز تروایح پڑھنے کے لیے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر لوگوں کو جمع کیا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کو بیس رکعات (نماز تراویح) پڑھاتے تھے۔

الجواب:اس ضعیف روایت میں عشرین " ركعة" کا لفظ غلط اور عشرین "ليلة" کا  لفظ موجود ہے اور دوسرے یہ کہ اس سند منقطع (ضعیف) ہے کیونکہ (بصری ) نے عمر رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا. (دیکھئے  شرح سنن ابی داود للعینی ٥/٣٤٣، الحدیث : ٧٦ ص ٤٦)
حسن بصری کی ایک منقطع روایت پر جرح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی  کی ازالتہ الریب (ص ٢٣٧)

دلیل نمبر ٧ : 

رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ زَیْدُ بْنُ عَلِیِّ الْہَاشْمِیُّ فِیْ مُسْنَدِہٖ کَمَا حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ اَمَرَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْقِیَامِ فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ اَنْ یُّصَلِیَّ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُرَاوِحَ مَابَیْنَ کُلِّ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ۔ (مسند الامام زیدبن علی ص158)
ترجمہ: حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حکم دیا جو لوگوں کو رمضان شریف کے مہینہ میں نماز (تراویح) پڑھاتے تھے کہ وہ ان کو بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں! ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرے اور ہر چار رکعتوں کے درمیان آرام کے لیے کچھ دیر وقفہ کرے ۔

الجواب:امام زیدی علی رحمہ الله کی طرف منسوب "مسند زید" اہل سنت کی کتاب نہیں، بلکہ شیعوں کی کتاب  ہے اور آل دیوبند اس کتاب سے حجت پکڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ دیوبندیہ اور زیدی شیعہ میں گہرا   یارانہ  ہے.
دوسرے یہ کہ "مسند زید" کا بنیادی راوی ابو خالد عمر و بن خالد الواسطی کذاب (بہت جھوٹا) راوی ہے. اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین نے فرمایا "کذاب."
امام  اسحاق بن راہویہ نے فرمایا :" عمر و بن خالد واسطی حدیث گھڑتا تھا."
امام ابوز ر عہ الرازی نے فرمایا : "اور وہ حدیثیں گھڑتا تھا. "
امام وکیع بن الحرا ح  نے فرمایا : "وہ کذاب (بہت جھوٹا) تھا." (دیکھئے تحقیقی مقالات ج ٣ ص ٥١٠)

دلیل نمبر ٨ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالَحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِی الْحَسْنَائِ اَنَّ عَلِیًّا اَمَرَ رَجُلاً یُّصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )
ترجمہ: حضرت ابو الحسناء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں!

الجواب:اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
١: ابو الحسنا ء مجہول ہے. (دیکھئے تقریب التہذیب : ٨٣٣٧)
٢: سیدنا علی رضی الله عنہ سے  ابو الحسنا ء کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں.

دلیل نمبر ٩ :

عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُصَلِّیْ بِنَا فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ فَیَنْصَرِفُ وَ عَلَیْہِ لَیْلٌ…کَانَ یُصَلِّیْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (قیام اللیل للمروزی ص157)
ترجمہ: حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان شریف میں ہمیں نماز (تراویح) پڑھاتے اور گھرکو لوٹ جاتے تو رات ابھی باقی ہوتی تھی آپ رضی اللہ عنہ بیس رکعات (تراویح ) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : یہ روایت بے سند ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے. (نیز دیکھئے تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص ٨١)

دلیل نمبر ١٠ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ حَسَنٍ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ کَانَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فِیْ رَمْضَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُبِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285؛ الترغیب والترھیب للاصبہانی ج2ص368 )
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں رمضان کے مہینے میں لوگوں کوبیس رکعات نماز (تروایح) اور تین (رکعات ) وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : یہ روایت منقطع ہے. عبدالعزیز رفیع نے ابی بن کعب رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا. (تعداد رکعات قیام رمضان ص ٦٦ بحوالہ آثار السنن)

دلیل نمبر ١١ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍقَالَ ثَنَاوَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکْلٍ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )
ترجمہ: حضرت شُتیربن شکل رحمہ اللہ (حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ساتھی ہیں) رمضان شریف میں لوگوں کو بیس رکعات نماز (تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : اس روایت کی  سند ابو اسحاق سبیعی مدلس اور سفیان ثوری  مدلس کے  عن عن  کی وجہ سے ضعیف ہے.

دلیل نمبر ١٢ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ خَلْفٍ عَنْ رَبِیْعٍ وَاثْنٰی عَلَیْہِ خَیْراً عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ فِیْ رَمَضَانَ وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت ابو البختری رحمہ اللہ رمضان شریف میں (نماز تراویح) پانچ ترویحے (بیس رکعات)اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔

الجواب : یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے دو راویوں خلف اور بیع  دونوں کا  تعین نامعلوم ہے.

دلیل نمبر ١٣ : 

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عُبَیْدٍ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ رَبِیْعَۃَ کَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمْضَانَ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ وَّیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ رمضان شریف میں لوگوں کوپانچ ترویحے (بیس رکعات نماز تراویح) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے.

الجواب : تابعی کے اس اثر سے استدلال کئی وجہ سے غلط ہے:
١ : یہ نہ تو رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدیث ہے اورر نہ کسی صحابی کا اثر ہے.
٢ : تابعی مذکور سے  یہ ثابت نہیں کہ بیس رکعات سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم و زیادہ  جائز نہیں، لہٰذا آل تقلید کا اس سے استدلال جائز نہیں.

دلیل نمبر ١٤ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَااِبْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ عَنْ عَطَآئٍ قَالَ اَدْرَکْتُ النَّاسَ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ ثَلَاثاً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃًبِالْوِتْرِ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: جلیل القدر تابعی حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ جیسے) لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے پایا ہے۔

الجواب : اس اثر میں لوگوں سے کون مراد ہیں؟؟ کوئی وضاحت نہیں اور عین ممکن ہے کہ  تابعین مراد ہو اور بعض  تابعین کا اختلافی عمل اولہ اربعہ میں سے کوئی دلیل نہیں ہے.

دلیل نمبر ١٥ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ اَنَّہٗ کَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فِیْ رَمْضَانَ بِاللَّیْلِ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت حارث رحمہ اللہ لوگوں کو رمضان شریف میں بیس رکعات نماز (تراویح) اورتین وتر باجماعت پڑھاتے تھے اور (دعائے) قنوت (جو کہ وتر میں پڑھی جاتی ہے ) رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔

الجواب : یہ روایت ابو معاویہ الضریر، حجاج بن ا رطاة  اور ابو اسحاق مدلسین کے عن عن عن  کی  وجہ سے حارث الاعور سے ثابت نہیں اور حارث   ا عور بذات خود جمہور کے نزدیک  مجروح، نیز شیعہ اور بقول امام شعبی :  کذاب تھا .
(٢٧ / ستمبر ٢٠١١ سرگودھا)

ماہنامہ ضرب حق سرگودھا  شعبان ١٤٣٣ھ  جولائی ٢٠١٢ء