Showing posts with label Taqleed. Show all posts
Showing posts with label Taqleed. Show all posts

Friday, 5 April 2013

Maqulat e Hanfiyah - Urdu Books

Maqulat e Hanfiyah



Pages: 25



Size: 0.7  MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Wednesday, 20 March 2013

Itteba e Sunnat Aur Radd e Taqleed - اتباعِ سُنّت اور ردّ تقلید - Cd/Dvd Quality Video

Itteba e Sunnat Aur Radd e Taqleed






اتباعِ سُنّت اور ردّ تقلید
Shaikh Abul Hasan Mubashir Ahmad Rabbani
مختصر بیان: زیرنظرویڈیو میں شیخ ابو الحسن مبشر احمد ربانی - حفظہ اللہ- نےاتباع سنت کا حقیقی مفہوم اوراسکی اہمیت و فضیلت کا تذکرہ کرکے اسکی پیروی کولازم قراردیا ہے اور مذہبی تعصّب اور آباء واجداد کی اندھی تقلید وغیرہ سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ نہایت ہی مؤثر اوروقیع خطاب ہے ضرور مشاہدہ فرمائیں ۔
Download

Friday, 22 February 2013

Ilyas Ghuman Ke Pamphlets "Aameen Aahista Kehne Ke Dalail" Ka Jawab - الیاس گھمن کے پمفلٹ " آمین آہستہ کہنے کے دلائل" کا جواب



الیاس گھمن کے پمفلٹ " آمین آہستہ کہنے کے دلائل" کا جواب


محمد الیاس گھمن دیوبندی کے پمفلٹ "آمین آہستہ کہنے کے دلائل" کا جواب درج ذیل ہے:

دلیل نمبر ١ :

آمین دعا ہے
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:قَدْاُجِیْبَتْ دَعْوَتُکُمَا۔ (سورۃ یونس:89)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ وہارون کے بارے میں فرمایاکہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی
جواب: ہم نے اپنے دلائل میں امام عطا ء بن ابی رباح رحمہ الله کے مکمل قول کی بنیاد پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آمین ایسی دعا ہے جو اونچی آواز (یعنی جہر )سے کہنی چاہئے. (دیکھئے دلیل نمبر ٤)
اگر ہر دعا لازمی طور پر دل میں ہی پڑھنا ضروری ہے تو آل دیوبند رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کے آخری دن (اتوار کو) لاؤڈ سپیکر پر اونچی آواز سے کیوں دعا مانگتے ہیں اور لوگ آمین آمین کیوں کہتے ہیں؟
ایسی بات کیوں کہتے ہو جس پر تمہارا عمل نہیں؟
’’اَخْرَجَ اَبُوالشِّیْخِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمِ اِذَادَعَا اَمَّنَ ھَارُوْنُ عَلَیْہِ السَّلاَمِ عَلٰی دُعَائِہِ۔ یَقُوْلُ آمِیْن‘‘ (تفسیر درمنثور ج3،ص567)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام دعامانگتے اور حضرت ہارون علیہ السلام ان کی دعا پر آمین کہتے ۔‘‘
اس روایت کی سند معلوم نہیں، یعنی یہ بے سند روایت ہے لہٰذا اسے بطور دلیل پیش کرنا غلط ہے.
دوسرے یہ کہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ سیدنا ہارون علیہ السلام دل میں آمین کہتے تھے لہٰذا
آل دیوبند کا استدلال غلط ہے.
’’ قَالَ عَطَائُ آمِیْنُ دُعَائٌ ‘‘ (صحیح بخاری :ج1،ص107)
ترجمہ: معروف جلیل القدر تابعی حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’آمین دعا ہے۔‘‘
یہ آدھا قول نقل کیا گیا ہے، حالانکہ صحیح بخاری میں مکمل قول سے ثابت ہوتا ہے کہ آمین ایسی دعا ہے جو بالجہر کہنی چاہئے. (دیکھئے میرا مضموں : "آمین بالجہر کہنے کے دلائل" دلیل نمبر ٤)
دعا میں اصل یہ ہے کہ آہستہ کی جائے
اُدْعُوْارَبَّکُمْ تَضَرُّعاًوَّخُفْیَۃً (سورۃ الاعراف:55)
ترجمہ: دعامانگو تم اپنے رب سے عاجزی اورآہستہ آواز سے۔
قرآن و حدیث سے جہاں آہستہ دعا کہنا ثابت ہے وہاں آہستہ کہنی چاہئے اور جہاں بالجہر ثابت ہو وہاں بالجہر کہنی چاہئے. یہ کیا ہوا کہ خود تو رائے ونڈ میں لمبی لمبی جہراً  ا مانگیں اور لوگوں کو آمین بالجہر سے منع کریں؟

دلیل نمبر٢ : 

آمین اللہ تعالی کانام ہے
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَھِلَالِ بْنِ یَسَافٍ وَ مُجَاہِدٍ قَالَ؛آمِیْنُ اِسْمٌ مِّنْ اَسْمَائِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔ (مصنف عبدالرزاق ج2ص64 ،مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص316)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ،حضرت ہلال بن یساف رحمہ اللہ اورحضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ آمین‘‘ اللہ کانام ہے۔
جواب: سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی طرف منسوب جو قول مصنف عبدالر زاق میں مذکور ہے، اس کی سند میں بشر بن رافع ضعیف راوی ہے. (دیکھئے تقریب التہذیب: ٧٧٠)
اس راوی پر اکاڑوی کی شدید جرح کے لئے دیکھئے تجلیات صفدر (٣/١٣٣)
دوسرے یہ کہ  اگر الله کا نام بلند آواز سے پڑھنا جائز نہیں تو رائے ونڈ وغیرہ کی دعا ؤں میں "اے الله! رحم فرما" جہراً کیوں پڑھا جاتا ہے؟
ذکر میں اصل یہ ہے کہ آہستہ کیا جائے
وَاذْکُرْرَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاًوَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ۔ (سورۃ اعراف:205)
ترجمہ: ’’ ذکر کیجیے اپنے رب کا دل میں عاجزی اورخوف کے ساتھ ، آہستہ آواز میں۔
جو ذکر  جہراً ثابت ہے مثلاً جہری نمازوں میں آمین بالجہر پڑھنا تو اسے جہراً پڑھنا چاہئے اور جو سر اً  ثابت ہے وہ  سر اً پڑھنا چاہئے.
قَالَ الْاِمَامُ فَخْرُالدِّیْنِ الرِّازِیُّ قَالَ اَبُوْحَنِیْفَۃَ اِخْفَائُ التَّامِیْنِ اَفْضَلٌ وَاحْتَجَّ اَبُوْحَنِیْفَۃَ عَلٰی صِحَّۃِ قَوْلِہِ قَالَ فِیْ قَوْلِہِ (آمِیْنٌ) وَجْھَانِ؛اَحُدُھُمَا: اَنَّہُ دُعَائٌ۔ وَالثَّانِیْ: اَنَّہُ مِنْ اَسْمَائِ اللّٰہِ فَاِنْ کَانَ دُعَائٌ وَجَبَ اِخْفَائُہُ لِقَوْلِہِ تَعَالٰی{ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاًوَّخُفْیَۃً} وَاِنْ کَانَ اِسْماً مِّنْ اَسْمَائِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَجَبَ اِخْفَائُہُ لِقَوْلِہِ تَعَالٰی {وَاذْکُرْرَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاًوَّخِیْفَۃً} (تفسیر کبیرامام رازی ج14 ص131 )
ترجمہ: امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ آہستہ آواز سے’’ آمین ‘‘کہنا افضل ہے اوراپنے قول کی صحت پر دلیل قائم کی اورفرمایا کہ اس قول (آمین) میں دوجہتیں ہیں:
(١) آمین دعاہے۔
 (٢) آمین اللہ کا نام ہے
اگر آمین’’دعا‘‘ہے تو اس کا آہستہ آواز سے کہنا واجب ہے {اُدْعُوْارَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً}کی وجہ سے اور اگر آمین اللہ تعالیٰ کانام ہے تو بھی اس کا آہستہ آواز سے کہنا واجب ہے {وَاذْکُرْرَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَّخِیْفَۃ }کی وجہ سے۔‘‘
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَ بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ لَبِیْبِۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’خَیْرُ الذِّکْرِ اَلْخَفِیُّ‘‘
(مسند احمد ؛ج1ص228)
ترجمہ: حضرت سعدبن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’سب سے بہتر ذکر آہستہ آواز کے ساتھ کرنا ہے ۔‘‘
فخر الدین رازی (م ٦٠٦ ھ) نے کہا کہ  امام ابو حنیفہ نے فرمایا :  . الخ (ص٢ ملخصا)
رازی ٥٤٤ ھ میں پیدا ہوئے تھے اور امام صاحب ١٥٠ ھ میں فوت ھ گئے تھے، لہٰذا یہ سند منقطع مردود ہے.
ترجمہ: حضرت سعدبن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’سب سے بہتر ذکر آہستہ آواز کے ساتھ کرنا ہے ۔‘‘
اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمٰن ابی لبیبہ ہے جس کی سعد بن مالک رضی الله عنہ سے ملاقات ثابت نہیں، لہٰذا یہ سند منقطع ہے.
دوسرے یہ کہ ہر ذکر دل ہی پڑھنا چاہئے تو حافظ نثار احمد الحسینی  الحضر وی وغیرہ کو سمجھا ئیں جو ہؤ ہؤ کی آوازیں نکال کر (اندھیرے میں) ذکر بالجہر کرتے ہیں.

دلیل نمبر ٣ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗد َالطِّیَالْسِیُّ حَدَّثَنَاشُعْبَۃُ قَالَ اَخْبَرَنِیْ سَلْمَۃُ بْنُ کُھَیْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجْراً اَبَاالْعَنْبَسِ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ وَ قَدْ سَمِعْتُ مِنْ وَائِلٍ اَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَرَأَ {غَیْرِالْمَغْضُـوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ} قَالَ آمِیْنٌ خَفِضَ بِھَا صَوْتَہُ۔ (مسند ابی دائودطیالسی ص138 ،مسند احمد ج4ص389 )
ترجمہ: حضرت وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے {غَیْرِ الْمَغْضُـوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ}کی قرأت کی تو ’’آمین ‘‘ آہستہ آواز سے کہی۔‘‘
جواب: آہستہ آواز کے لفظ سے ثابت ہوا کہ جہری نمازوں میں آمین دل میں نہیں کہنی   چاہئے. دوسرے یہ کہ یہ حدیث خیر القرون کے محدثین کے نزدیک خطا (یعنی ضعیف) ہے. (دیکھئے القول المتین ص ٣٦_٣٧) 

 دلیل نمبر ٤ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ السَّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ نَا یَزِیْدُ نَاسَعِیْدٌ نَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسِنِ اَنَّ سَمُرَۃَ بْنَ جُنْدُبٍ وَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ تَذَاکَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ اَنَّہُ حَفِظَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَکْتَتَیْنِ: سَکْتَۃٌ اِذَاکَبَّرَوَسَکْتَۃٌ اِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَۃِ {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ}
(سنن ابی دائود: ج1،ص122 )
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے درمیان نمازمیں سکتوں کے متعلق مذاکرہ ہوا توحضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازمیں دو سکتوں کو یادکیا ایک جب تکبیر تحریمہ کہتے، سکتہ کرتے یعنی خاموش رہتے اور دوسرا جب{غَیْرِ الْمَغْضُـوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِیْنَ}کی قرأت سے فارغ ہوتے تو سکتہ کرتے ،یعنی خاموش رہتے۔
جواب: اس سند کی روایت میں قتادہ رحمہ الله ثقہ مدلس ہیں اور روایت  عن سے ہے.
اصول حدیث کا مشہور مسلہ  ہے کہ غیر صحیحین میں مدلس کی  عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے. (قتادہ کے مدلس ہونے کے لئے دیکھئے الجوہرا  النقی لا بن التر کمانی الحنفی ٧/١٢٦)

دلیل نمبر ٥ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْجِعْفَرِ الطَّحَاوِیُّ الْحَنْفِیُّ حَدَّثَنَا سَلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبِ الْکِیْسَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ ثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ عَیَاشٍ عَنْ اَبِیْ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ کَانَ عُمَرُوَعَلِیُّ لاَ یَجْھَرَانِ بِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَلَابِالتَّعَوُّذِ وَلَابِالتَّامِیْنَ۔ (سنن طحاوی ج1ص150)
ترجمہ: حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم اورآمین کی قرأت کے وقت آواز بلند نہیں کرتے تھے ۔‘‘
جواب: اس روایت کی سند میں ابو سعد البقال جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ، نیز مدلس ہے. اور یہ  روایت عن سے ہے.

دلیل نمبر ٦ :

عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ کَانَ عَلِیُّ وَعَبْدُاللّٰہِ لَا یَجْھَرَانِ بِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَلَابِالتَّعَوُّذِ وَلَابِالتَّامِیْنَ۔ (اعلاء السنن ج2ص249)
ترجمہ: حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ،اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم اورآمین کی قرأت کے وقت آواز بلند نہیں کرتے تھے۔‘‘
جواب : اس کی سند میں بھی وہی ابو سعد البقال ضعیف راوی ہے. دیکھئے دلیل نمبر ٥ 

دلیل نمبر ٧:

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ یُخْفِی الْاِمَامُ ثَلَاثًا:اَلْاِسْتِعِاذَۃُ وَبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَآمِیْنٌ۔ (المحلی بالآثار،امام ا بن حزم رحمہ اللہ ج2ص280)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ امام نماز میں تین چیزوں ’’اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اورآمین کی قرأ ت آہستہ آواز سے کرے۔‘‘
جواب:  اس کا راوی ابو حمزہ میمون الا عور القصاب الکوفی ضعیف متروک ہے. (دیکھئے نصب الرایہ ٢/٣٧٣، القول المتین ص ٨٣)

دلیل نمبر ٨ :

رَوَی الْاِمَامُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ الْاَعْظَمُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتِ التَّابِعِیُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ اَرْبَعٌ یُخَافِتُ بِھِنَّ الْاِمَامُ؛سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَالتَّعَوُّذِ مِنَ الشَّیْطَانِ وَبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَآمِیْن۔
(کتاب الآثار ،امام ابو حنیفۃ بروایۃ امام محمد ج1ص162 ،مصنف عبدالرزاق ج2ص57)
ترجمہ: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’امام نماز میں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ،بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اورآمین کی قرأت آہستہ آواز سے کرے۔‘‘
جواب  : کتاب الآثار کا مصنف ابن فرقد جمہور محدثین کے نزدیک مجروح و ضعیف ہے لہٰذا یہ حوالہ مردود ہے اور مصنف عبد الرزاق والی روایت میں عبدالرزاق مدلس اور روایت  معنعن، حماد ابی سلیمان مدلس اور مختلط ہیں، لہٰذا یہ سند بھی ضعیف ہے.

دلیل نمبر ٩ :

عَنِ النَّخْعِیِّ وَالشَّعْبِیِّ وَاِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ کَانُوْا یَخْفُوْنَ بِاٰمِیْنَ۔
(الجوہر النقی ج2ص58)
ترجمہ: ’’حضرت امام نخعی،حضرت امام شعبی اور حضرت امام ابراہیم تیمی رحمہم اللہ نماز میں ’’آمین ‘‘آہستہ آواز سے کہتے تھے ۔ ‘‘
نوٹ : یادرہے ان میں امام شعبی رحمہ اللہ پانچ سوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں
یہ قول الجواہر النقی کتاب میں بغیر کسی سند کے اور "روي" کے لفظ سے مروی ہیں، یعنی یہ بے سند اور مردود حوالہ ہے. گھمن صاحب نے اس بے سند حوالے کے بعد لکھا ہے: "ان میں امام شعبی رحمہ اللہ پانچ سوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد ہیں"
عرض ہے کہ امام مالک بن مغول رحمہ الله  نے فرمایا : سمعت الشعبي يحسن القراء خلف الإمام"  میں نے شعبی کو سنا، وہ امام کے پیچھے قراءت کرنے کو اچھا قرار دیتے تھے. (مصنف ابن ابی شیبہ ١/٣٧٥ ح ٣٧٩٥ صحیح، نسختہ مکتبہ شاملہ)

دلیل نمبر ١٠:

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ اْلاَعْظَمُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتِ التَّابِعیُّ (اَرْبَعٌ یُخَافِتُ بِھِنَّ الْاِمَامُ؛سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَالتَّعَوُّذِ مِنَ الشَّیْطٰنِ وِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَآمِیْن) قَالَ مُحَمَّدٌ وَبِہِ نَاْخُذُ وَھُوَ قَوْلُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ ۔ (کتاب الآثار امام ابو حنیفۃ بروایۃامام محمد ج1ص162 )
ترجمہ: حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام نماز میں سبحانک اللھم وبحمدک ،اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم اورآمین کی قرأت آہستہ آواز سے کرے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے ۔
اس روایت کا راوی ابن فرقد ضعیف ہے . دیکھئے دلیل نمبر ٨
یاد رہے کہ امام ابو حنیفہ تابعی نہیں تھے، امام دار قطنی رحمہ الله (م ٣٨٥ھ) نے فرمایا: "لم يلحق أبو حنيفة أحداً من السحابة"  ابو حنیفہ نے صحابہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی. (سوالات  حمزة  السہمی : ٣٨٣، تاریخ بغداد ٤/٢٠٨، توضیح الاحکام ٢/٤٠٤)
وما علينا ألا البلاغ
(١٧ دسمبر ٢٠١٢ء جامعہ امام بخاری، مقام حیات سرگودھا)

Monday, 18 February 2013

Taqleed Ki Haqeeqat - Urdu Books

Taqleed Ki Haqeeqat



Pages: 42



Size: 0.8 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Sunday, 18 November 2012

Surah Fatiha Peshab Se Likhna - Urdu Books

Surah Fatiha Peshab Se Likhna



Pages: 14


Size: 1.2 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Thursday, 1 November 2012

Mein Ahle hadith Kyun Hua? - Urdu Books

Mein Ahle hadith Kyun Hua?



Pages: 16


Size: 2.5 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Shama e Muhammadi - Urdu Books

Shama e Muhammadi



Pages: 227


Size: 3.7 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Saif e Muhammadi - Urdu Books

Saif e Muhammadi



Pages: 179


Size: 3.4 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Monday, 13 August 2012

Fateha Khalful Imam - Urdu Books

Fateha Khalful Imam



Pages: 154


Size: 2.9 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Tuesday, 3 July 2012

Sahaba Karam Ke Baare Mein Ulma Hanfiyah Ki Zuban Daraziyan - Urdu Books

Sahaba Karam Ke Baare Mein Ulma Hanfiyah Ki Zuban Daraziyan



Pages: 29


Size: 9.4 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Tuesday, 19 June 2012

Nabi Kareem s.a.w. Ki Itteba - Urdu Books

Nabi Kareem s.a.w. Ki Itteba



Pages: 27


Size: 3 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Muqalideen Aima Ki Adalat Mein - Urdu Books

Muqalideen Aima Ki Adalat Mein



Pages: 291


Size: 7.3 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as"

Monday, 18 June 2012

Namaz Mein Haathon Ko Seene Ke Upar Bandhna - نماز میں ہاتھوں کا سینے کے اوپر باندھنا - Online Books

نماز میں ہاتھوں کا سینے کے اوپر باندھنا


حدیث نمبر 1
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك ، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: «كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعه اليسرى في الصلاة» قال أبو حازم لا أعلمه إلا ينمي ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال إسماعيل: ينمى ذلك ولم يقل ينمي
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک رحمہ اللہ سے ، انہوں نے ابوحازم بن دینار سے ، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں،
صحیح بخاری بخاری: کتاب الأذان : باب وضع الیمنی علی ذراعہ الیسری فی الصلوٰة،حدیث نمبر740۔

حدیث نمبر 2
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ»
ہم سے ابوتوبہ نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے ہیثم یعنی ابن حمید نے بیان کیاانہوں نے ، ثور سے روایت کیاانہوں نے ، سلیمان بن موسی سے روایت کیاانہوں نے طاؤوس کے حوالہ سے نقل کیا ، انہوں نے کہا کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران میں اپنا دایاں ہا تھ بائیں کے اوپر رکھتے اورانہیں اپنے سینے پر باندھا کرتے تھے۔

سنن ابوداؤد: کتاب الصلوٰة : باب وضع الیمنی علی الیسری فی الصلوٰة،حدیث نمبر759۔

حدیث نمبر 3
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے ابوالولید نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے زائدہ نے بیان کیاانہوں نے ، عاصم بن کلیب سے اسی سند اوراسی مفہوم کی حدیث روایت کی اس میں ہے کہ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت ،کلائی اوربازوکے اوپررکھا...،
سنن ابوداؤد: کتاب الصلوٰة : باب رفع الیدین فی الصلوٰة،حدیث نمبر727۔

حدیث نمبر 4
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: " قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ،
ہمیں سویدبن نصر نے خبر دی انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیاانہوں نے ، زائدہ سے روایت کیاانہوں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا: کہ انہیں وائل بن حجر نے بتایااورکہاکہ : پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناداہناہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت ،کلائی اوربازوکے اوپررکھا.
سنن نسائی:ـکتاب الافتتاح:باب موضع الیمین من الشمال فی الصلوٰة،حدیث نمبر889۔

حدیث نمبر 5
مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ؛ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ
امام مالک نے ابوحازم بن دینارسے روایت کیاانہوں نے،سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ)پررکھے۔
مؤطاامام مالک:ـکتاب النداء للصلوٰة:باب وضع الیدین علی الأخری فی الصلوٰة،حدیث نمبر376۔

حدیث نمبر 6
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ، أَنْ يَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاةِ» ،
ہم سے مالک نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیاانہوں نے، سہل بن سعدساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیا جاتا تھا کہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع (کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ) پررکھے۔
مؤطاامام محمد:ـأبواب الصلوٰة:باب وضع الیمین علی الیسارفی الصلوٰة،حدیث نمبر290۔

حدیث نمبر 7
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ، أخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ يُصَلِّي؟ قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ،...،
ہم سے عبد الصمدنے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے زائدہ نے بیان کیاانہو ں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیاانہو ں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا: کہ انہیں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے بتایااورکہاکہ : ''میں نے سوچاذرا دیکھوںکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں ،(وائل بن حجررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اوراللہ أکبر کہااوراپنے دونو ں ہاتھوں کواٹھایایہاں تک کہ کانوں کی لوتک پہنچایا پھرداہنے ہاتھ کو بائیں ہتھیلی ،کلائی اوربازو پررکھا...،
مسند أحمد:ـمسند الأنصار:حدیث ھلب الطائی ،حدیث نمبر22017۔

حدیث نمبر 8
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حِينَ قَامَ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ، وَالسَّاعِدِ،...،
ہم سے الفضل بن الحباب نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے ابوالولید الطیالسی نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے زائدہ بن قدامة نے بیان کیا انہو ں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا انہو ں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا: کہ انہیں وائل بن حجرحضرمی رضی اللہ عنہ نے بتایا اورکہا کہ : ''میں نے سوچاذرا دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں، (وائل بن حجرکہتے ہیں کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تومیں نے دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ أکبر کہا اوراپنے دونو ں ہاتھوں کواٹھایا یہاں تک کہ کانوں کی لوتک پہنچایا پھرداہنے ہاتھ کو بائیں ہتھیلی .کلائی اوربازو پررکھا
صحيح ابن حبان - 5/ 170 رقم1860۔

حدیث نمبر 9
نا أَبُو مُوسَى، نا مُؤَمَّلٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى صَدْرِهِ»
ہم سے أبوموسی نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے مؤمل بن اسماعیل نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیاانہوں نے : عاصم بن کلیب سے روایت کیاانہوں نے ، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، وائل بن حجر سے روایت کیاکہ انہوں نے کہا:''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازپڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھ کرانہیں اپنے سینے پررکھ لیا''۔
صحیح ابن خزیمة (ج 1ص243):ـکتاب الصلوة:باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوةقبل افتتاح الصلوٰة،حدیث نمبر479۔

حدیث نمبر 10
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، نا زَائِدَةُ، نا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: " لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهَرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغَ وَالسَّاعِدَ
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا انہو ں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا انہو ں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا: کہ انہیں وائل بن حجر نے بتایا اورکہا کہ : ''میں نے سوچا دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں ، وائل بن حجرکہتے ہیں کہ میں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اوراللہ أکبر کہااوراپنے دونوں ہاتھوں کواٹھایا یہاں تک کہ کانوں کی لوتک پہنچایا پھرداہنے ہاتھ کو بائیں ہتھیلی ،کلائی اوربازو پررکھا...،
صحیح ابن خزیمة (ج 1ص243): کتاب الصلوة : باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوة قبل افتتاح الصلوٰة، حدیث نمبر480۔

حدیث نمبر 11
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوْ حِينَ نَهَضَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ الْمِحْرَابَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يُسْرَاهُ عَلَى صَدْرِهِ "
ہم سے أبوسعید أحمد بن محمد الصوفی نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے أبوبکر نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے أبوأحمد بن عدی الحافظ نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم سے بن صاعد نے بیان کیا انہوں نے کہا : ہم سے ابراہیم بن سعید بن عبدالجباربن وائل نے بیان کیا انہوں نے ، اپنے والد سے روایت کیا انہوں نے، اپنی والد ہ سے روایت کیا انہوں نے وائل بن حجر سے روایت کیاکہ انہوں نے کہا:''میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہو اجب آپ مسجد کارخ فاچکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسندامامت پر پہنچ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کواپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے سینے پررکھ لیا''۔
سنن البیہقی الکبریٰ(تحقیق محمد عبدالقادر عطا):ـج 2ص30،کتاب الحیض::باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوةقبل افتتاح الصلوٰة،حدیث نمبر2166۔
سنن البیہقی الکبریٰ(أبوعبداللہ عبدالسلام بن محمد):ـج 2ص44،کتاب الحیض::باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوةقبل افتتاح الصلوٰة،حدیث نمبر2383۔

حدیث نمبر 12
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ، ثُمَّ وَضَعَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ
ہم سے أبوبکر بن حارث نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے أبومحمد بن حیان نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے محمد بن عباس نے بیان کیاانہوں نے کہا: ہم سے مؤمل بن اسماعیل نے بیان کیاانہوں نے : ثوری سے روایت کیاانہوں نے : عاصم بن کلیب سے روایت کیاانہوں نے ، اپنے والد سے روایت کیاانہوں نے، وائل بن حجر سے روایت کیاکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نمازمیں)اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھا پھران دونوں کو اپنے سینے پررکھ لیا''۔
سنن البیہقی الکبریٰ(تحقیق محمد عبدالقادر عطا):ـج 2ص30،کتاب الحیض::باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوةقبل افتتاح الصلوٰة،حدیث نمبر2166۔