Showing posts with label Zubair Ali Zai. Show all posts
Showing posts with label Zubair Ali Zai. Show all posts

Monday, 5 November 2012

Ilyas Ghuman Ke Bees (20) Rakat Taraveeh Ke 15 Dalail Aur Unke Jawabat - الیاس گھمن کے "بیس رکعات تراویح کے (١٥) دلائل" اور ان کے جوابات

 الیاس گھمن کے "بیس رکعات تراویح  کے (١٥) دلائل" اور ان کے جوابات

حافظ زبیر علی ز ئی

دلیل نمبر ١ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ ۔ (تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے ۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز(تراویح)اور تین رکعات وتر پڑھائے۔

الجواب:اس روایت کا ایک راوی  محمد بن حمید الرازی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے اور (امام) اسحاق کوسج نے فرمایا: "میں گواہی دیتا ہوں وہ کذاب تھا."
(امین اکاڑوی کی کتاب: تجلیات صفدر ج٣ ص٢٢٤، نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو : ٧٦ ص٣٤-٣٥)





اس کا دوسرا راوی عمر بن ہارون بھی جمہور کے نزدیک مجروح ہے. (دیکھئے نصب  الرایہ / ٣٥١،٣٥٥،٤/٢٧٣)

دلیل نمبر ٢ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مَقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص286؛معجم کبیرطبرانی ج5 ص433 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بیس رکعات نماز(تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب:اس روایت کے نیادی راوی ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کے بارے میں قدوری حنفی نے لکھا ہے: "قا ضى واسط كذاب" واسط کا قاضی کذاب ہے.  (التجرید / ٢٠٣ فقرہ: ٦٣٢، الحدیث: ٧٦ ص٣٨)
کذاب کئی منفرد روایت موضوع ہوتی ہے، لہٰذا یہ روایت موضوع ہے.

دلیل نمبر ٣ :

عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَمَرَ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِاللَّیْلِ فِیْ رَمْضَانَ فَقَالَ اِنَّ النَّاسَ یَصُوْمُوْنَ النَّھَارَ لَایُحْسِنُوْنَ اَنْ یَّقْرَأُ وْا فَلَوْقَرَأتَ الْقُرْآنَ عَلَیْھِمْ بِاللَّیْلِ فَقَالَ: یَااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ! ہٰذَا شَیْیٌٔ لَمْ یَکُنْ۔ فَقَالَ؛ قَدْعَلِمْتُ وَلٰکِنَّہٗ اَحْسَنُ۔ فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ علی المطالب العالیہ ج2ص424)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی رات میں نماز(تراویح) پڑھاؤں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ’’لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور (رات) قرأت (قرآن) اچھی نہیں کرتے۔ تو قرآن مجید کی رات کو تلاوت کرے تو اچھا ہے۔‘‘ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے امیر المومنین! یہ تلاوت کا طریقہ پہلے نہیں تھا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں جانتا ہوں لیکن یہ طریقہ تلاوت اچھا ہے۔‘‘تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔

الجواب:  اس گھمنی  "دلیل" کے راوی ابوجعفر الرازی  کی ربیع بن انس سے روایت میں بہت اضطراب ہوتا ہے. (کتاب  الثقات لابن حبان ٤/٢٢٨)
اور یہ بھی اسی سند سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے. نیز دیکھئے الحدیث: ٧٦ ص ٣٩)

دلیل نمبر ٤ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْھَرِیُّ اَنَا اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۔ (مسند ابن الجعد ص413 ،معرفۃ سنن الآثار ؛بیہقی ج2 ص305)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیس رکعات (نماز تروایح ) پابندی سے پڑھتے اور قرآن مجید کی دو سوآیات پڑھتے تھے۔

الجواب:  یہ روایت شاذ ہے. (دلیل کے لئے  دیکھئے الحدیث : ٧٦ ص ٤٠)
اور مو طا   مالک کی محفوظ روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی الله عنہ اور سیدنا تمیم الداری  رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائے.
اس روایت سے  طحاویٰ نے استدلال کیا، عینی نے صحیح کہا، ضیاء المقدسی نے اسے المختار میں ذکر کیا اور نیموی تقلیدی نے کہا : "واسناده صحيح" (آثار السنن ص ٢٥٠ )
یاد رہے کے اصول حدیث میں یہ مسلہ مقرر ہے کہ شاذ روایت ضعیف ہوتی ہے.

دلیل نمبر ٥ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْوِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ وَکَانُوْا یَتَوَکَّئُوْنَ عَلٰی عَصِیِّھِمْ فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔ (سنن الکبری للبیہقی ج2ص496)
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں رمضان شریف میں بیس رکعات (نماز تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی دو سو آیات تلاوت کرتے تھے اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ قیام کے (لمبا ہونے کی وجہ سے ) اپنی (لاٹھیوں) پر ٹیک لگاتے تھے۔

الجواب:اس نمبر کے تحت گھمن صاحب نے وہی روایت ذکر کی ہے جو نمبر ٤ پر گزر  چکی ہے اور صرف السنن الکبریٰ  البہیقی کا حوالہ کر دیا ہے، حالانکہ یہ ایک ہی روایت ہے. (دیکھئے الحدیث: ٧٦ ص  ٤٤)

دلیل نمبر ٦ : 

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ نَا ھُشَیْمٌ اَنَا یُوْنُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِیْ قِیَامِ رَمْضَانَ ،فَکَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً۔ (سنن ابی داؤد ص1429،سیر اعلام النبلاء امام ذہبی ج3ص176)
ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں نماز تروایح پڑھنے کے لیے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر لوگوں کو جمع کیا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کو بیس رکعات (نماز تراویح) پڑھاتے تھے۔

الجواب:اس ضعیف روایت میں عشرین " ركعة" کا لفظ غلط اور عشرین "ليلة" کا  لفظ موجود ہے اور دوسرے یہ کہ اس سند منقطع (ضعیف) ہے کیونکہ (بصری ) نے عمر رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا. (دیکھئے  شرح سنن ابی داود للعینی ٥/٣٤٣، الحدیث : ٧٦ ص ٤٦)
حسن بصری کی ایک منقطع روایت پر جرح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی  کی ازالتہ الریب (ص ٢٣٧)

دلیل نمبر ٧ : 

رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ زَیْدُ بْنُ عَلِیِّ الْہَاشْمِیُّ فِیْ مُسْنَدِہٖ کَمَا حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ اَمَرَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْقِیَامِ فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ اَنْ یُّصَلِیَّ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُرَاوِحَ مَابَیْنَ کُلِّ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ۔ (مسند الامام زیدبن علی ص158)
ترجمہ: حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حکم دیا جو لوگوں کو رمضان شریف کے مہینہ میں نماز (تراویح) پڑھاتے تھے کہ وہ ان کو بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں! ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرے اور ہر چار رکعتوں کے درمیان آرام کے لیے کچھ دیر وقفہ کرے ۔

الجواب:امام زیدی علی رحمہ الله کی طرف منسوب "مسند زید" اہل سنت کی کتاب نہیں، بلکہ شیعوں کی کتاب  ہے اور آل دیوبند اس کتاب سے حجت پکڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ دیوبندیہ اور زیدی شیعہ میں گہرا   یارانہ  ہے.
دوسرے یہ کہ "مسند زید" کا بنیادی راوی ابو خالد عمر و بن خالد الواسطی کذاب (بہت جھوٹا) راوی ہے. اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین نے فرمایا "کذاب."
امام  اسحاق بن راہویہ نے فرمایا :" عمر و بن خالد واسطی حدیث گھڑتا تھا."
امام ابوز ر عہ الرازی نے فرمایا : "اور وہ حدیثیں گھڑتا تھا. "
امام وکیع بن الحرا ح  نے فرمایا : "وہ کذاب (بہت جھوٹا) تھا." (دیکھئے تحقیقی مقالات ج ٣ ص ٥١٠)

دلیل نمبر ٨ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالَحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِی الْحَسْنَائِ اَنَّ عَلِیًّا اَمَرَ رَجُلاً یُّصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )
ترجمہ: حضرت ابو الحسناء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں!

الجواب:اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
١: ابو الحسنا ء مجہول ہے. (دیکھئے تقریب التہذیب : ٨٣٣٧)
٢: سیدنا علی رضی الله عنہ سے  ابو الحسنا ء کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں.

دلیل نمبر ٩ :

عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُصَلِّیْ بِنَا فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ فَیَنْصَرِفُ وَ عَلَیْہِ لَیْلٌ…کَانَ یُصَلِّیْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (قیام اللیل للمروزی ص157)
ترجمہ: حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان شریف میں ہمیں نماز (تراویح) پڑھاتے اور گھرکو لوٹ جاتے تو رات ابھی باقی ہوتی تھی آپ رضی اللہ عنہ بیس رکعات (تراویح ) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : یہ روایت بے سند ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے. (نیز دیکھئے تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص ٨١)

دلیل نمبر ١٠ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ حَسَنٍ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ کَانَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فِیْ رَمْضَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُبِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285؛ الترغیب والترھیب للاصبہانی ج2ص368 )
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں رمضان کے مہینے میں لوگوں کوبیس رکعات نماز (تروایح) اور تین (رکعات ) وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : یہ روایت منقطع ہے. عبدالعزیز رفیع نے ابی بن کعب رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا. (تعداد رکعات قیام رمضان ص ٦٦ بحوالہ آثار السنن)

دلیل نمبر ١١ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍقَالَ ثَنَاوَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکْلٍ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )
ترجمہ: حضرت شُتیربن شکل رحمہ اللہ (حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ساتھی ہیں) رمضان شریف میں لوگوں کو بیس رکعات نماز (تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

الجواب : اس روایت کی  سند ابو اسحاق سبیعی مدلس اور سفیان ثوری  مدلس کے  عن عن  کی وجہ سے ضعیف ہے.

دلیل نمبر ١٢ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ خَلْفٍ عَنْ رَبِیْعٍ وَاثْنٰی عَلَیْہِ خَیْراً عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ فِیْ رَمَضَانَ وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت ابو البختری رحمہ اللہ رمضان شریف میں (نماز تراویح) پانچ ترویحے (بیس رکعات)اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔

الجواب : یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے دو راویوں خلف اور بیع  دونوں کا  تعین نامعلوم ہے.

دلیل نمبر ١٣ : 

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عُبَیْدٍ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ رَبِیْعَۃَ کَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمْضَانَ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ وَّیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ رمضان شریف میں لوگوں کوپانچ ترویحے (بیس رکعات نماز تراویح) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے.

الجواب : تابعی کے اس اثر سے استدلال کئی وجہ سے غلط ہے:
١ : یہ نہ تو رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدیث ہے اورر نہ کسی صحابی کا اثر ہے.
٢ : تابعی مذکور سے  یہ ثابت نہیں کہ بیس رکعات سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم و زیادہ  جائز نہیں، لہٰذا آل تقلید کا اس سے استدلال جائز نہیں.

دلیل نمبر ١٤ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَااِبْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ عَنْ عَطَآئٍ قَالَ اَدْرَکْتُ النَّاسَ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ ثَلَاثاً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃًبِالْوِتْرِ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: جلیل القدر تابعی حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ جیسے) لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے پایا ہے۔

الجواب : اس اثر میں لوگوں سے کون مراد ہیں؟؟ کوئی وضاحت نہیں اور عین ممکن ہے کہ  تابعین مراد ہو اور بعض  تابعین کا اختلافی عمل اولہ اربعہ میں سے کوئی دلیل نہیں ہے.

دلیل نمبر ١٥ :

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ اَنَّہٗ کَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فِیْ رَمْضَانَ بِاللَّیْلِ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)
ترجمہ: حضرت حارث رحمہ اللہ لوگوں کو رمضان شریف میں بیس رکعات نماز (تراویح) اورتین وتر باجماعت پڑھاتے تھے اور (دعائے) قنوت (جو کہ وتر میں پڑھی جاتی ہے ) رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔

الجواب : یہ روایت ابو معاویہ الضریر، حجاج بن ا رطاة  اور ابو اسحاق مدلسین کے عن عن عن  کی  وجہ سے حارث الاعور سے ثابت نہیں اور حارث   ا عور بذات خود جمہور کے نزدیک  مجروح، نیز شیعہ اور بقول امام شعبی :  کذاب تھا .
(٢٧ / ستمبر ٢٠١١ سرگودھا)

ماہنامہ ضرب حق سرگودھا  شعبان ١٤٣٣ھ  جولائی ٢٠١٢ء

Friday, 25 November 2011

Hisnul Muslim - Hafiz Zubair Ali Zai - Urdu Books

Hisnul Muslim




Pages: 186

Size: 5 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 




Friday, 17 June 2011

AL-HADEES 84 - Islamic Magazines

ابو بکر غازی پوری دیوبندی کی خیانتیں
امام ابو بکر بن ابی داودالسجستانی رحمہ اللہ
حجامہ سینگی لگوانا ایک شرعی علاج
ماسٹر امین اوکاڑوی کی دورخیاں
قرآن مجید کی تعلیم اور جنت کا تاج

AL-HADEES
Magazine No.84
DOWNLOAD
Right click on Download Links and click-
"Save Target  as" OR "Save Link as" 
 

Thursday, 16 June 2011

AL-HADEES 85 - Islamic Magazines

نماز با جماعت کے لیے کس وقت کھڑے ہونا چاہیے
ابوبکر غازی پوری کی خیانتیں
حکیم نواز احمد یزدانی اور اصلی صلوۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
ماسٹر امین اوکاڑوی کی دو رخیاں
احمد بن عبدالجبار العطاردی رحمہ اللہ

AL-HADEES
Magazine No.85
DOWNLOAD
Right click on Download Links and click-
"Save Target  as" OR "Save Link as" 
 

AL-HADEES 83 - Islamic Magazines

آل دیوبند انتظار کرنا چھوڑ دیں إ
تلک الغرانیق کا قصہ اور اس کا رد
اہل حدیث کی صداقت اور۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
عبدالرحمن بن ابی الزنادالمدنی رحمہ اللہ
حافظ ابن حجر اور حنفیہ کی تلوار

AL-HADEES
Magazine No.83
DOWNLOAD
Right click on Download Links and click-
"Save Target  as" OR "Save Link as" 
 

Friday, 13 May 2011

Moatta Imam Malik (Tehqeeq,Takhreej,wa Sharah) - Hadith

مؤطا امام مالک(تحقیق، تخریج و شرح)
Moatta Imam Malik
Pages: 663
Size: 12.9 MB
DOWNLOAD Server1
or
DOWNLOAD Server 2
If u download with server 2 then use this trick (Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" )



دینا جہاں میں صرف اسلام ہی وہ دین ہےکہ جس کی تمام تر تعلیمات قرآن وحدیث کی صورت میں صحیح وسالم اور محفوظ ہیں یہ شرف بھی اسلام کے حصےمیں آیاہے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود رب العالمین نے دے رکھی ہے شریعت اسلامیہ چونکہ آخرت تک کےتمام ادوار ومراحل کو محیط ہے لہذا اسے اس جامع انداز سے ترتیب دیا گیا

Tuesday, 3 May 2011

Tafseer Ibne Kaseer (New Edition with Takhreej) - Quran

تفسیر ابن کثیر
Tafseer Ibne Kaseer (New Edition with Takhreej)
Pages: 3780
Size: 78 MB
DOWNLOAD Jild-1
DOWNLOAD Jild-2
DOWNLOAD Jild-3
DOWNLOAD Jild-4
DOWNLOAD Jild-5


 دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

Friday, 18 February 2011

Sunday, 23 January 2011

Sunan Ibne Maaja Urdu with Tafseer 5 Jild (Hadith)





سنن ابن ماجہ
Sunan Ibne Maaja Urdu (Full with Tafseer) 5 Jild
Pages: 3268
Size: 66 MB
DOWNLOAD

اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

Friday, 17 December 2010

Haqiqat e Taqleed - Shaikh Zubair Ali Zai

حقیقت تقلید
Haqiqat e Taqleed
(High Quality Video)
Shaikh Zubair Ali Zai
Direct Download Part-1
Direct Download Part-2

 
-----------------------------------------------------------------

Download Real Player For play This Video

Muhabat e Rasool (S.A.W) - Shaikh Zubair Ali Zai

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
Muhabat e Rasool (S.A.W)
(High Quality Video)
Shaikh Zubair Ali Zai
Direct Download Part-1
Direct Download Part-2



 
-----------------------------------------------------------------

Download Real Player For play This Video

Namaz e Nabavi (S.A.W) - Shaikh Zubair Ali Zai

نماز نبوی تکبیر تحریمہ  تا سلام
Namaz e Nabavi (S.A.W)
(High Quality Video)
Shaikh Zubair Ali Zai
Direct Download Part-1
Direct Download Part-2
Direct Download Part-3
 
-----------------------------------------------------------------

Download Real Player For play This Video

Fazial e Ahle Hadeeth - Shaikh Zubair Ali Zai

فضائل اھل حدیث
Fazial e Ahle Hadeeth
(High Quality Video)
Shaikh Zubair Ali Zai
Direct Download
 

-----------------------------------------------------------------

Download Real Player For play This Video

Akazib e Mirza - Shaikh Zubair Ali Zai

اکاذیب مرزا
Akazib e Mirza
(High Quality Video)
Shaikh Zubair Ali Zai
Direct Download
 

-----------------------------------------------------------------

Download Real Player For play This Video