Showing posts with label fatwa. Show all posts
Showing posts with label fatwa. Show all posts

Monday, 18 July 2011

Kya Nabi s.a.w. Zinda Haalat Mein Kisi Ki Ziyarat Karte Hai? - Hindi Islamic Books

Kya Nabi s.a.w. Zinda Haalat Mein Kisi Ki Ziyarat Karte Hai?


Pages: 28

Size: 0.3 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Sunday, 17 July 2011

Namaz e Janaza - نمازِ جنازہ - Online Books

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نمازِ جنازہ


امام کو چاہیے کہ وہ مرد (میت) کے درمیانی حصے اور عورت کے سینے کی طرف کھڑا ہو۔ مقتدیوں کی تین صفیں بنانا مسنون ہے۔ تکبیر تحریمہ کے بعد
اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ اور بسم اللہ کے بعد سورہ فاتحہ پڑھیں۔ دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھیں۔ تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعائیں مانگیں۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیَّنَاوَمَیِّتِنَا وَ شَاھِدِنَا وَغَاؓئِبِنَا وَ صَغِیْرِنَا وَ کَبِیْرِنا وَ ذَکَرِنَا وَ اُنْثَانَا اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلامِ وَ مَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَ لَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ

اے اللہ! ہمارے زندوں، مردوں، حاضر، غائب، بڑوں، چھوٹوں، مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔ اے اللہ تو ہمارے ٹھکانوں اور مقامات کو جانتا ہے۔ اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ہم سے جو زندہ رہے اس کو اسلام پر زندہ رکھ۔ اور جس کو تو فوت کر دے اس کو ایمان پر موت دینا۔ اے اللہ ہمیں اجر سے محروم نہ کرنا اور اس کے بعد (مزید) نہ بھٹکانا۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ وَاعَافِہٖ وَاعْفُ عَنْہُ وَاَکْرِمْ نُذُلَہٗ وَ وَسِّعْ مُدْخَلَہٗ وَ اغْسِلْہُ بِالْمَائِ وَ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّہٖ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَ اَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ وَ اَھْلًا خَیْرًا مِّنْ اَھْلَہٖ وَ زَوْجًا خَیْرًا مِّنْ زَوْجَہٖ وَ اَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَ اَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ عَذَابِ النَّارِ

اے اللہ! اس (میت) کو بخش دے، اس پر رحم و عافیت فرما۔ اس کی باعزت مہمانی فرما۔ اس کی قبر کو وسیع کر دے۔ اور اس کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔ اور اس کو گناہوں اور غلطیوں سے پاک صاف کر دے۔ جس طرح تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے۔ اے اللہ اس کے (دنیاوی) گھر سے بڑھ کر گھر عطا کر۔ بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما۔ اس کو جنت میں داخل کر اور جہنم سے نکال دے۔ اور عذاب قبر سے محفوظ رکھ۔ قبر کو وسیع کر دے اور روشن فرما۔
اگر میت کوئی چھوٹا بچہ ہو تو اس کے لئے یہ دعا پڑھو:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ فَرَطًا وَّ ذُخْرًا لِوَالِدَیْہِ وَشَفِیْعًا مُّجَابًا اَللّٰھُمَّ اثَقِّلْ بِہٖ مَوَازِیْنَھُمَا وَاَعْظِمْ بِہٖ اُحُوْرَھُمَا وَاَلْحِقْہُ بِصَالِحجِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاجْعَلْہُ فِیْ کَفَالَۃِ اِبْرَاھِیْمَ وَقِہِ بِرَحْمَتِکَ عَذَابَ الْجَحِیْمِ وَاَبْدِ لْہُ دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ وَأَھْلًا خَیْرًا مِّنْ اَھْلِہٖ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلِأَسْلَافِنَا وَأَفْرَاطِنَاوَمَنْ سَبَقَنَابِالْإیْمَانِ

اے اللہ! اس کو والدین کے لئے ذخیرہ آخرت اور میزبان بنا دے۔ اور قیامت کے دن سفارش کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! اس (بچے) کی وجہ سے والدین کے میزان کو بھاری کر دینا اور اپنی رحمت کے ساتھ اس کو عذابِ جہنم سے بچا لینا۔ اے اللہ! اس کے لئے اس کے (دنیاوی) گھرانے سے بہتر گھرانہ اور (دنیاوی) گھر والوں سے بہتر گھر والے عنایت فرما۔اے اللہ! ہم سے گذشتہ، سابقہ اور ہم سے پہلے ایمان میں سبقت لے جانے والوں کی مغفرت فرما۔

پھر چوتھی تکبیر کہنے کے بعد سلام پھیر دیں۔ کوئی شخص نمازِ جنازہ شروع ہونے کے بعد شامل ہوتا ہے تو وہ جتنا حصہ امام کے ساتھ حاصل کر لے اس کو امام کے ساتھ ہی ادا کر دے۔ اور فوت شدہ حصے کو فوراً بعد میں قضا کر لے۔ اس کے بعد سلام پھیرے۔ نمازِ جنازہ میں حاضر نہ ہونے والے کے لئے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا مسنون ہے۔ اگر کوئی بچہ قبل از وقت مردہ پیدا ہو تو اس کی نمازِ جنازہ ہو گی (اگر حمل چار ماہ سے زیادہ کا ہو۔ وگرنہ نہیں)۔
واﷲ اعلم۔

Monday, 11 July 2011

Roza Na Rakhne Wale Ka Hukm - Hindi Islamic Books

Roza Na Rakhne Wale Ka Hukm



Pages: 4

Size: 0.2 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Wednesday, 6 July 2011

Insurance Ke Sabhi Roop Haraam Hai - Hindi Islamic Books

Insurance Ke Sabhi Roop Haraam Hai


Pages: 5

Size: 3 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Tuesday, 28 June 2011

Maiyat Ki Taraf Se Rozon Ka Hukm - Pamphlets

Maiyat Ki Taraf Se Rozon Ka Hukm



Pages: 6

Size: 0.2 MB

DOWNLOAD
  • Right click on Download Links and click- "Save Target  as" OR "Save Link as" 



Friday, 24 June 2011

Eid e Milad Par Taqseem Khaane Ka Hukm - Online Books

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عید میلاد النبی کے موقع پرتقسیم کردہ کھانے کا حکم؟

حكم أكل الطعام الذي يوزع يوم المولد النبوي الشريف

محمد صالح المنجد
مراجعہ : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

ميلاد النبى كے روز تقسم كردہ اشياءکے كھانے كا حكم

کیا محمد صلى اللہ علیہ وسلم کی میلاد کے سلسلہ میں تقسیم کردہ اشیاء اورکھانے وغیرہ کھانا جائز ہیں؟
کچھ لوگ اسکی دلیل یہ دیتے ہیں کہ ابولہب نے جب نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی میلاد میں لونڈی آزاد کی تواللہ تعالى نے اس روزاسکے عذاب میں کمی کردی؟

الحمد للہ:
اولاً:
شريعت اسلاميہ ميں كوئى ايسى عيد نہيں جسے عيد ميلاد النبى كے نام سے موسوم كيا جاتا ہو، صحابہ كرام اور تابعين عظام حتى كہ آئمہ اربعہ اور دوسرے بھى اپنےدين ميں اس دن كو جانتے تك نہ تھے، بلكہ اس عيد كو تو باطنيہ ميں سے بعض جاہل اور بدعتى لوگوں نے ايجاد كيا، اور پھر لوگ اس بدعت پر عمل كرنے لگے اور ہر دور اورہر جگہ علماء كرام اس كو برا جانتے اور اس سے روكتے رہےہیں.

دوم:
اس بنا پر جو اعمال بھى لوگ اس دن کے ساتھ خاص كرتے ہيں وہ حرام اور بدعی اعمال ميں شمار ہوتے ہيں، كيونكہ وہ ہمارى اس شريعت ميں اس بدعتى عيد كو جارى كرنا چاہتے ہيں، مثلا جشن منانا يا كھانے وغيرہ تقسيم كرنے جيسےاعمال.
شيخ فوزان حفظہ اللہ اپنى كتاب " البيان لاخطاء بعض الكتاب " ميں بيان كرتے ہيں: كتاب و سنت ميں اللہ تعالى كى شريعت اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى اور دين اسلام ميں بدعات ايجاد كرنے سے باز رہنے كے بارے میں جو كچھ وارد ہے وہ كسى پر مخفى نہيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ » [ آل عمران: 31]
"كہہ ديجئے اگر تم اللہ تعالى سے محبت كرنا چاہتے ہو تو پھر ميرى ( محمد صلى اللہ عليہ وسلم ) كى پيروى و اتباع كرو، اللہ تعالى تم سے محبت كرنے لگے گا، اور تمہارے گناہ معاف كر دے گا"
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے: اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ» [ الأعراف:3]
"جو تمہارے رب كى طرف سے تمہارى طرف نازل ہوا ہے اس كى اتباع اور پيروى كرو، اور اللہ تعالى كو چھوڑ كر من گھڑت سرپرستوں كى اتباع و پيروى مت كرو، تم لوگ بہت ہى كم نصيحت پكڑتے ہو"
اور ايك مقام پر فرمان بارى تعالى كچھ اس طرح ہے: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ »[ الأنعام:153]
"اور يہ كہ يہ دين ميرا راستہ ہے جو مستقيم ہے، سو اسى كى پيروى كرو، اور اسى پر چلو، اس كے علاوہ دوسرے راستوں كى پيروى مت كرو، وہ تمہيں اللہ كے راستہ سے جدا كرديں گے"

اور حديث شريف ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" بلا شبہ سب سے سچى بات اللہ تعالى كى كتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدايت و راہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى ہے، اور سب سے برے امور اس دين ميں بدعات كى ايجاد ہے"

اور ايك دوسرى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا كام ايجاد كيا جو اس ميں سے نہيں تو وہ كام مردود ہے"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 )

اور مسلم شريف ميں روايت ميں ہے كہ:
" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے"

اور لوگوں نے جو بدعات ايجاد كى ہيں ان ميں ربيع الاول كے مہينہ ميں ميلاد النبى كا جشن منانا بھى شامل ہے اور لوگ اس جشن كو منانے ميں كئى انواع اور اقسام ميں تقسيم ہوتے ہيں:
كچھ لوگ تو صرف اس جشن كو اجتماع بناتے ہيں اور اس ميں اكٹھے ہو كر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ولادت كا قصہ پڑھتے ہيں، يا پھر اس مناسبت سے تقارير اور قصيدے پڑھتے ہيں.
اور كچھ لوگ اس مناسبت سے كھانا وغيرہ اور مٹھائى تيار كر كے حاضرين كو پيش كرتے ہيں.
اور كچھ لوگ مساجد ميں قيام كرتے ہيں، اور كچھ لوگ اپنے گھروں ميں قيام اور عبادت كرتے ہيں.
اور كچھ ايسے بھى ہيں جو مندرجہ بالا امور پر ہى اقتصار اور بس نہيں كرتے بلكہ ان كا يہ اجتماع امور حرام اور برائيوں پر مشتمل ہوتا ہے جس ميں مرد و عورت كا اختلاط اور رقص و سرور كى محفل اور گانا بجانا بھى شامل ہے، يا پھر وہ شركيہ اعمال مثلا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے استغاثہ اور آپ كو دشمن كے خلاف مدد كےليے پكارتےہيں.

اور يہ سب اشكال و انواع اور اس كے كرنے والوں كے مختلف اغراض و مقاصد مختلف ہونے كے باوجود بلاشك و شبہ يہ حرام اور بدعت ہے جو دين ميں قرون مفضلہ كے كئى دور كے بعد ايجاد كى گئى ہے.
اس بدعت كو ايجاد كرنے والا سب سے پہلا شخص ملك المظفر ابو سعيد كوكپورى ہے جو چھٹى صدى كے آخر يا ساتويں صدى كےشروع ميں اربل كا بادشاہ تھا، جيسا كہ مؤرخين مثلا ابن كثير اور ابن خلكان وغيرہ نے ذكر كيا ہے.

اور ابو شامہ كہتے ہيں:
موصل ميں اس كو منانے والا سب سے پہلا شخص عمر بن محمد ملا تھا جو صالحين ميں سے ايك مشہور صالح تھا، اور اربل كے بادشاہ نے اس كى پيروى ميں يہ جشن منايا تھا.
ديكھيں: البيان لاخطاء بعض الكتاب ( 268 - 270 ).

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ ابو سعيد كوكپورى كے ترجمہ ميں كہتے ہيں:
" يہ شخص ربيع الاول ميں ميلاد النبى كا بہت بڑا جشن منايا كرتا تھا...
پھر كہتے ہيں: سبط كا كہنا ہے: مظفر كے جشن ميلاد النبى ميں حاضر ہونے والوں ميں سے ايك كا بيان ہے كہ: اس جشن اور كھانے ميں ملك مظفر پانچ ہزار بكرے اور دس ہزار مرغياں بھون كر اور ايك لاكھ زبديہ اور تيس ہزار حلوے كى پليٹيں پيش كرتا....

يہاں تك كہتے ہيں:
اور صوفيوں كے ليے ظہر سے فجر تك محفل سماع قائم كرتا اور ان كے ساتھ خود بھى رقص كرتا تھا " اھـ
ديكھيں: البداية والنهايةلابن كثير ( 13 / 137 ).

اور " وفيات الاعيان " ميں ابن خلكان كہتے ہيں:
اور جب صفر شروع ہوتا تو وہ ان قبوں كو بيش قيمت اشياء سے مزين كرتے، اور ہر قبہ ميں مختلف قسم كے گروپ بيٹھ جاتے، ايك گروپ گانے والوں كا، اور ايك گروپ كھيل تماشہ كرنے والوں كا، ان قبوں ميں سے كوئى بھى قبہ خالى نہ رہنے ديتے، بلكہ اس ميں وه گروپ ترتيب دئے ہوتےتھے.
اور اس دوران لوگوں كے كام كاج بند ہوتے، اور صرف ان قبوں اور خيموں ميں جا كر گھومنے پھرنے كے علاوہ كوئى اور كام نہ كرتے...


اس كے بعد وہ يہاں تك كہتے ہيں:
اور جب جشن ميلاد ميں ايك يا دو روز باقى رہتے تو اونٹ، گائے، اور بكرياں وغيرہ كى بہت زيادہ تعداد باہر نكالتے جن كا وصف بيان سے باہر ہے، اور جتنے ڈھول، اور گانے بجانے، اور كھيل تماشے كے آلات اس كے پاس تھے وہ سب ان كے ساتھ لا كر انہيں ميدان ميں لے آتے...
اس كے بعد يہ كہتے ہيں:
اور جب ميلاد كى رات ہوتى تو قلعہ ميں نماز مغرب كے بعد محفل سماع منعقد كرتا. ديكھيں: وفيات الاعيان لابن خلكان ( 3 / 274 ).

تو پھر اس دن بدعتى لوگ جو سب سے بڑا كام كرتے ہيں اور اس كا احياء كرتے ہيں وہ مختلف قسم كےكھانے پكا كر تقسيم كرنا اور لوگوں كو كھانے كی دعوت دينا ہے، اس ليے اگر مسلمان اس عمل ميں شريك ہو كر ان كا كھانا كھائے اور ان كے دستر خوان پر بيٹھے تو بلا شك و شبہ وہ اس بدعت كو زندہ كرنے ميں معاون اور شريك ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ[سورة المائدة:2]
"اور تم نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو اور برائى و گناہ اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو"
اسى ليے اہل علم كے فتاوى جات ميں اس روز اور بدعتيوں كے دوسرے تہواروں ميں تقسيم كيا جانے والا كھانا اور اشياء تناول كرنے كو حرام بيان كيا گيا.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:
ميلاد النبى كے موقع پر ذبح كردہ گوشت كھانےكا كيا حكم ہے ؟
تو شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:
" اگر وہ ميلاد والے ( يعنى جس كا ميلاد منايا جا رہا ہے ) كے ليے ذبح كيا گيا ہے تو يہ شرك اكبر ہے، ليكن اگر اس نے كھانے كے ليے ذبح كيا ہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اسے كھانا نہيں چاہيے، اور نہ ہى مسلمان اس مجلس اور ميلاد ميں حاضر ہو، تا كہ وہ برائى كا عملى اور قولى طور پر انكار كر سكے؛ مگرانہیں نصیحت کرنے کیلئے حاضرہواوران کے ساتھ کھانے وغیرہ میں شریک نہ ہو. " انتہى.
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 9 / 74 ).
واللہ اعلم .

Wednesday, 4 May 2011

Masail e Namaz Shaikh Abdul Qadir Jeelani R.a. Ki Zubani (Online Books/Ahkam wa Masail)

مسائل نماز شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی زبانی

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 4

جلد نمبر 39      9 تا 15 محرم الحرام 1429 ھ      19 تا 25 جنوری 2008 ء
حکیم عبدالرحمن خلیق امرتسری  

وضو میں سر کا مسح

سوال:   قرآن کریم نے نماز کے لیے وضو کا حکم دیا ہے اور وضو کے ارکان کا ذکر فرماتے ہوئے سر کا مسح کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ مسح کیا ہے اور کیونکر کیا جاتا ہے؟

جواب:    مسح چھونے یا ہاتھ پھیرنے کو کہتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے: (( ان یغمس یدیہ فی الماءثم یرفعھما فارغتین فیضعھما علی مقدم راسہ .... الی قفاہ ویعیدھا الی الموضع الذی بدءمنہ )) ( غنیة الطالبین باب اول فصل ارکان و واجبات نماز صفحہ 7 ) کہ وضو کرنے والا اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈبو کر خالی باہر نکالے ( یا ویسے ہاتھوں میں پانی لے کر پانی کو گرا دے ) پھر اپنے سر پر سامنی جانب ( ماتھے کے اوپر بالائی کنارے ) سے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا پچھلی
طرف گدی تک لے جائے پھر وہاں سے اسی طرح واپس لوٹاتا ہوا وہیں آ کر چھوڑ دے جہاں سے اس نے مسح شروع کیا تھا۔
سوال: آپ نے ذرا آگے چل کر وضو کے مسنونات کے ذکر میں گردن کا مسح بھی شمار کیا ہے۔ مگر یہاں جب آپ نے مسح کا طریقہ بتایا ہے تو گردن کے مسح کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: ( بات دراصل یہ ہے کہ ) مسح کے لیے قرآن پاک میں صرف یہی وارد ہوا ہے کہ وامسحوا برو ¿سکم اپنے سروں پر مسح کرو۔ پس فرض امر صرف سر کا مسح ہی ہے۔ گردن کا مسح وضو کے فرائض میں داخل نہیں ہے۔


اذان

سوال: ہماری بعض مساجد میں تو اذان سے پہلے اور بعد درود شریف اور سلام کے نام سے یہ کلمات گا کر پڑھے جاتے ہیں: (( صل علی نبینا صل علی محمد اور الصلٰوة والسلام علیک یا رسول اللہ، الصلٰوة والسلام علیک یا حبیب اللہ )) اور بعض مساجد میں اذان اپنی اصلی شکل میں اللہ اکبر اللہ اکبر سے شروع ہو کر لا الہ الا اللہ پر ختم کر دی جاتی ہے۔ مسئلہ کی صحیح صورت کیا ہے؟

جواب: حدیث پاک میں ہے:
(( اما دخول الوقت فبعلمہ یقینا.... ثم یوذن فیقول اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ))
کہ جب اذان کا صحیح وقت دریافت ہو جائے تو موذن یوں اذان شروع کرے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ( آخر تک ) اور آخری کلمہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ کہہ کر اذان ختم کر دے۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 9 )
( یعنی حدیث پاک کے مطابق اذان کے ان مقررہ کلمات کے سوا اور کوئی زائد کلمہ اذان کے ساتھ پہلے یا بعد شامل نہیں ہے۔ یہ سب کچھ بعد کی پیداوار ہے )

صف بندی

سوال: نماز کی جماعت کھڑی ہو تو صف میں کس طرح کھڑا ہونا چاہیے۔ آیا الگ الگ ایک دوسرے سے فاصلے پر یا خوب مل، کر اور کندھے سے کندھا ملا کر؟

جواب: (( ینبغی للامام.... یلتفت یمینا وشمالا فیسوی الصفوف فیقول استووا.... ویامرھم بسد الفرج وتسویة المناکب ودنو بعضھم من بعض حتی یتماس مناکبھم لان اختلاف المناکب واعوجاج الصفوف نقص فی الصلٰوة وحضور الشیاطین وقیامھم مع الناس فی الصفوف )) ( غنیة الطالبین صفحہ764 ) یعنی امام کے لیے لازم ہے کہ ( نماز کی نیت باندھنے سے پہلے ) اپنے دائیں بائیں دیکھ کر صفوں کا جائزہ لے، صفوں کو سیدھا کرے اور نمازیوں کو ہدایت کرے کہ اپنے درمیانی فاصلے دور کر کے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ قریب ہو جائیں کہ آپس میں کندھے سے کندھا خوب مل جائے۔ کیونکہ یہ درمیانی فاصلے اور صفوں کا ٹیڑھا ہونا نماز کا نقص ہے اور ان فاصلوں میں شیاطین گھس جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ صفوں میں کھڑے ہو جاتے ( تا کہ قریب ہو کر وسوسے ڈالیں اور دل کو نماز سے اچاٹ کر دیں )

نماز کی نیت

سوال: نماز کی نیت باندھتے وقت بہت سے لوگ نیت الفاظ پکارتے ہیں۔ مثلا فجر کی نماز ہے تو یوں کہیں گے: دو رکعت نماز فرض، فرض اللہ تعالیٰ کے، پیچھے اس امام کے، منہ طرف کعبہ شریف، اللہ اکبر۔ نیت کے لیے ایسے الفاظ کہنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: دخل فی الصلوٰة بقول اللہ اکبر لا یجزئہ غیرہ من الفاظ التعظیم ( غنیة الطالبین صفحہ 10 ) یعنی نماز میں داخل ہونے کے لیے صرف اللہ اکبر ہی کہنا چاہیے۔ اس کلمہ کے سوا نیت کے لیے کوئی بھی دوسرا کلمہ زبان سے کہنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ النیة فمحلھا القلب ( ص 9 ) یعنی نیت دل کا فعل ہے، زبان کا فعل نہیں ہے ( اس لیے دل کا ارادہ ہی نیت ہے زبان سے کچھ کہنا درست نہیں ہے )

اقامت

سوال: بعض لوگ اقامت بھی اذان کی طرح دوہرے کلموں کے ساتھ ہی پکارتے ہیں اور بعض اکہری کہتے ہیں۔ صحیح مسئلہ کیا ہے؟

جواب: جب اذان کے بعد جماعت کھڑی ہو تو موذن اس طرح اقامت پکارے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان محمد الرسول اللہ حی علی الصلوٰة حی علی الفلاح قدقامت الصلوة قد قامت الصلوة اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 9 )
( یعنی اذان کے دو دو کلمے اور اقامت کا ایک ایک کلمہ ہی سنت ہے۔ حدیث پاک میں ایسا ہی وارد ہوا ہے )

ہاتھ کہاں باندھے جائیں

سوال: نماز کی نیت کرتا ہوا نمازی اپنے ہاتھ کہاں باندھے۔ ناف پر یا زیر ناف یا کہیں اور؟

جواب: وضع الیمین علی الشمال فوق السرة ( غنیة الطالبین، صفحہ 11 ) کہ نماز میں ہاتھ نہ ناف پر باندھے جائیں نہ زیر ناف بلکہ ناف سے اوپر لے جا کر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر باندھا جائے۔

فاتحہ خلف الامام

سوال: نماز باجماعت میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟

جواب: سورہ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھی جائے گی۔ کیونکہ فان قرائتھا فریضة وھی رکن تبطل الصلوة بترکھا۔ ( غنیة الطالبین ص853 ) یعنی نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ کیونکہ یہ نماز کا رکن ہے اور اس کو ترک کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔

سوال: ایک جگہ آپ نے فرمایا ہے کہ واذ قرءفانصتوا۔ ( غنیة الطالبین ص871 ) کہ جب امام قراة کرے تم خاموش رہو۔ ایسی صورت میں تو نماز کا یہ رکن مقتدی سے رہ جائے گا اور اس کی نماز باطل ہو گی، اس مشکل کا کیا حل ہے؟

جواب: واضح رہے کہ نماز کے پندرہ ارکان ہیں۔
( 1 )
قیام ( 2 ) تکبیر تحریمہ ( 3 ) سورہ فاتحہ ( 4 ) رکوع ( 5 ) رکوع میں اطمینان ( 6 ) قومہ ( 7 ) قومہ میں اطمینان سے کھڑا ہونا ( 8, 9 ) دو سجدے (10 ) سجدوں میں اطمینان ( 11 ) جلسہ ( دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا ) ( 12 ) جلسہ میں اطمینان ( 13 ) آخری تشہد ( 14 ) درود اور (15 ) آخر میں سلام۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 10 )
رکن کے بارے میں یہ بات یاد رہے کہ ان ترک عامدا او ساھیا بطلت ( غنیة الطالبین صفحہ 12 ) کہ کوئی رکن خواہ دانستہ ترک کر دیا جائے یا وہ بھول کر چھوٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں نماز باطل ہو جاتی ہے۔
حضرت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رکوع اور سجدہ وغیرہ نماز کے رکن ہونے کی وجہ سے ہر شخص کے لیے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی اپنے اپنے الگ ہی درکار ہیں اور اگر کوئی شخص رکوع یا سجدہ نہیں کرے گا تو اس کی نماز باطل ہو گی، ٹھیک ایسے ہی ایک رکن نماز کی حیثیت سے سورہ فاتحہ بھی ہر شخص کے لیے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی اپنی اپنی الگ ہی درکار ہے اور اگر سورہ فاتحہ ترک ہو جائے گی تو نمازی خواہ امام ہو یا مقتدی، اس کی نماز ٹھیک ایسے ہی باطل ہو گی جس طرح سجدہ یا رکوع وغیرہ نہ کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔

ایک وضاحت

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے جو امام کے پیچھے خاموش رہنے کی بات کی ہے تو اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس سے مقصود مقتدی کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے سے روکنا ہے۔
ایسا نہیں ہے بلکہ شیخ کا مقصد وہی ہے جو حدیث پاک میں وارد ہو چکا ہے کہ خاموشی سے مطلوب بلند آواز سے نہ پڑھنا ہے جس سے امام کے لیے غلطی کا احتمال ہوتا ہے، ورنہ فاتحہ کا ترک مقصود نہیں ہے۔ چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک بار ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے کہ اٹکنے بھولنے لگے۔ نماز ختم ہوئی تو اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ کیا تم اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمایا میں بھی کہتا تھا کہ مجھ سے نماز چھینی کیوں جا رہی ہے۔ پھر ہدایت کی کہ آئندہ کے لیے یاد رکھو جب میں قراة کر رہا ہوں تو میرے پیچھے سوائے ( پست آواز میں ) سورہ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کرو۔ کیونکہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ( ابوداود، ترمذی، نسائی )
حضرت ابوہریرہؓ نے ایک روز اپنی مجلس میں مسئلہ بیان کیا کہ نماز میں سورہ فاتحہ کی قراة سے کبھی کوتاہی نہ کرنا۔ کیونکہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ حاضرین میں سے ایک بزرگ نے بات اٹھائی کہ ابوہریرہؓ! ہم کبھی امام کے پیچھے ہوتے ہیں، وہ قراة کر رہا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا کیونکر ممکن ہے؟ اس پر حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: اقرابھا فی نفسک کہ ( سورہ فاتحہ کا پڑھنا لازم امر ہے ) ایسی صورت میں تم اس کو اپنے جی میں پڑھ لیا کرو۔ ( ابن ماجہ )
حضرت عبادہؓ حضرت مکحولؓ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے۔ امام کی اقتداءکی حالت میں سورہ فاتحہ کو امام کے سکتوں میں پڑھ لیا کرو یعنی امام جب ایک آیت ختم کر کے اگلی شروع کرنے لگے تو اس وقفہ میں تم وہ آیت پڑھ لو۔ ( ابوداود )
ایسے ہی ہمارے احناف اہل علم بزرگوں میں کچھ بزرگ اسی مسلک کو صحیح سمجھتے ہیں چنانچہ مولانا عبدالحئی لکھنوی تحریر فرماتے ہیں کہ امام کے سکتوں میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا کے خلاف نہیں پڑتا اور ہم میں سے جو لوگ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں، ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ ( امام الکلام حضرت لکھنوی )

ٹھیک یہی مسلک حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا بھی ہے اور وہ وقفوں اور سکتوں یا پست آواز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کے خلاف نہیں ہیں ورنہ وہ اس کو نماز کا رکن کیوں قرار دیتے۔ جو ہر حالت میں ہر شخص کے لیے ہی بلا امتیاز مقتدی اور منفرد لازم ہے۔

سوال:
کہا گیا ہے کہ سورہ فاتحہ کے نہ پڑھنے سے نماز کا باطل ہونا منفرد یعنی اکیلے نمازی کے لیے ہے مقتدی کے لیے نہیں۔

جواب: یہ بات غلط ہے بلکہ لکل مصل ان یقدم النیة لصلاتہ ( غنیة الطالبین صفحہ 852 )
یعنی یہ حکم ہر اس شخص کے لیے ہے جو نماز کی نیت سے کھڑا ہو اور خوب یاد رکھو۔ ھذا الذی ذکرنا یشترک فیہ الامام والماموم والمنفرد۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 858 )
کہ ہم نے یہ جو کچھ بیان کیا ہے اس میں امام مقتدی اور اکیلا نمازی سارے شامل ہیں۔

آمین پکارنا

سوال: نماز کے اندر سورہ فاتحہ کے خاتمہ پر آمین آہستہ کہنی چاہیے یا بلند آواز سے پکار کر؟

جواب: والجھر بالقراة وامین والا سراربھما۔ ( غنیة الطالبین ص11 )
یعنی جب امام سورہ فاتحہ بلند آواز سے پڑھ رہا ہو تو آمین بھی بلند آواز سے ہی پکاری جائے گی اور جب وہ آہستہ پڑھ رہا ہو ( جیسے ظہر اور عصر کی نمازوں میں ہوتا ہے ) تو آمین بھی ( ولا الضالین پر پہنچ کر ہر شخص اپنی اپنی جگہ ) آہستہ ہی کہے گا۔

رفع الیدین

سوال: رفع الیدین کیا ہے؟ کیونکر کی جاتی ہے اور کہاں کہاں کی جاتی ہے۔ اس کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: رفع الیدین عند الافتتاح والرکوع والرفع منہ وھو ان یکون کفاہ مع منکبیہ ( غنیة الطالبین صفحہ11 )
رفع الیدین دونوں ہاتھوں کے بلند کرنے کو کہتے ہیں۔ نماز میں اس سے مراد دونوں ہاتھوں کا کندھوں کے برابر تک بلند کرنا ہے۔
پس اس غرض سے پہلی بات نماز کے لیے کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی کندھوں تک دونوں ہاتھ بلند کےے جائیں۔ پھر رکوع کے لیے جھکنے سے پہلے اور پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے یہی عمل دہرایا جائے۔

جلسہ بین السجدتین ( دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا )

سوال: دونوں سجدوں کے درمیان کتنی دیر تک بیٹھنا ضروری ہے؟

جواب: والجلوس بین السجدتین والطمانیة ( غنیة الطالبین ص10 )
یعنی سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھنا شرط ہے کہ آدمی کو اپنے ٹھیک ٹھیک بیٹھنے کا اطمینان ہو جائے۔

( یاد رہے کہ یہ سجدوں کے درمیان بیٹھنا بھی نماز کا رکن ہے اور اگر کوئی شخص پوری تسلی اور اطمینان کے ساتھ نہیں بیٹھے گا تو اس کی نماز باطل ہو گی۔ کیونکہ یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ رکن اگر دانستہ ترک کر دیا جائے یا بھول کر چھوڑ دیا جائے تو دونوں صورتوں میں نماز باطل ہے )


سوال:
دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر کچھ پڑھنا چاہیے یا ویسے ہی بیٹھ کر دوسرا سجدہ کر لیا جائے؟

جواب: یہاں پڑھنے کے لیے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ رب اغفرلی ( اے رب مجھے بخش دے ) ( غنیة الطالبین صفحہ10 )

سوال: یہ الفاظ ایک ہی بار کہے جائیں یا زیادہ بار؟

جواب: یقول رب اغفرلی ثلاثا۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 855 )
یعنی یہ الفاظ تین بار دہرائے جائیں۔ یاد رہے کہ ان الفاظ کا پڑھنا واجب ہے اور واجب کے بارے میں اصول یہ ہے کہ: ان ترک واجبا ساھیا جبرہ بسجود السھو وان ترکہ عامدا بطلت الصلوة ( غنیة الطالبین صفحہ 12 ) واجب اگر بھول کر چھوٹ جائے گا تو سجدہ سہو سے اس کی تلافی ہو جائے گی۔ لیکن اگر اسے دانستہ چھوڑا جائے گا تو نماز باطل ہو گی۔

رفع سبابہ

سوال: تشہد میں رفع سبابہ ( یعنی التحیات کے آخر میں انگلی سے اشارہ کرنے ) کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: فاذا جلس لتشھد.... یشیر باصبعہ التی یلی الابھام وھی السبابة ( غنیة الطالبین صفحہ 855 )
یعنی نمازی جب التحیات میں بیٹھے تو کلمہ شہادت پر پہنچ کر انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سبابہ سے ( جسے شہادت کی انگلی بھی کہتے ہیں ) اشارہ کرے۔

سوال: اس اشارہ کرنے کی کیا حکمت ہے؟

جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فانھا مذبة للشیطان ( غنیة الطالبین صفحہ 856 ) کہ انگلی کا یہ اشارہ شیطان کو بھگا دیتا ہے۔

جلسہ استراحت

سوال: جلسہ استراحت کیا ہے اور کب کیا جاتا ہے؟

جواب: جلسة الاستراحة بعد قضاءالسجدتین ( غنیة الطالبین ص 11 )
جلسہ استراحت نماز کے ان امور میں داخل ہے جو سنت ہیں اور اس کی صورت یہ ہے کہ پہلی رکعت اور ( اگر چار رکعت کی نیت کر رکھی ہو تو ) تیسری رکعت کے دونوں سجدے کر چکنے کے بعد دوسری رکعت اور چوتھی رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے چند لمحے تشہد کی طرح بیٹھ کر آرام کرنے کے بعد اٹھا جاتا ہے۔

تورک

سوال: نماز کے اندر جو تورک کا ذکر آتا ہے تو اس سے کیا مراد ہے۔

جواب: والتورک فی الثانی ( غنیة الطالبین صفحہ12 )
یعنی تورک تشہد میں سرین پر بیٹھنے کو کہتے ہیں اور تورک نماز کی ایک ہیئت ہے۔ ( حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ آخری تشہد میں بائیں سرین پر بیٹھ کر بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہر گزار لیتے تھے )

دعاءقنوت

سوال: نماز وتر میں دعاءقنوت کب پڑھی جائے۔ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟

جواب: اذا رفع را ¿سہ من الرکوع فی الرکعة الاخرة من الوتر ( غنیة الطالبین صفحہ 776 )
یعنی دعاءقنوت نماز وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا لینے کے بعد ( کھڑے ہو کر ) پڑھی جاتی ہے۔

سوال: قنوت کی دعائیں مختلف بیان کی گئی ہیں۔ کونسی دعا زیادہ مفید اور زیادہ بہتر ہے؟

جواب: یہ دعا پڑھ لی جائے۔
(( اللھم اھدنی فیمن ھدیت وعافنی فیمن عافیت وتولنی فیمن تولیت وبارک لی فی ما اعطیت وقنی شرما قضیت انک تقضی ولا یقضی علیک وانہ لا یزل من والیت ولا یعز من عادیت تبارکت ربنا وتعالیت ))
( غنیة الطالبین صفحہ 773-776 ) ” الٰہی! مجھے ان ہدایت یافتہ لوگوں میں داخل فرما جن کو تو نے ہدایت بخشی ہے۔ میری حفاظت فرما ان لوگوں کے ساتھ جن کی تو نے حفاظت کی ہے۔ میری کار سازی فرما ان لوگوں کے ساتھ جن کا تو کارساز بنا، مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا فرما رکھا ہے۔ مجھے ہر چیز کی برائی سے بچا لے جو تو نے اس میں رکھی ہے بیشک حکم تیرا ہی چلتا ہے اور تجھ پر کوئی حاکم نہیں ہے، جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جسے تو دشمن قرار دے، وہ عزت نہیں پا سکتا۔ تیری ذات بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے۔ “
حضرت شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فان کان اماما فی شھر رمضان قال فی جمیعھا بالنون والالف اھدنا وعافنا الی آخر الدعاء
( غنیة الطالبین صفحہ773 )
کہ اگر امام کو رمضان کے مہینے میں یہ دعا جماعت کے اندر پڑھنے کا مرحلہ ہو تو پھر وہ واحد متکلم کے صیغوں کے بجائے جمع متکلم کے صیغے استعمال کرے یعنی یوں کہے اھدنا وعافنا آخر تک اسی طرح دعا کرے۔

سوال: دعا قنوت ہاتھ چھوڑ کر پڑھی جائے یا دوسری دعاؤں کی طرح ہاتھ اٹھا کر پڑھی جائے؟

جواب: والادب فی الدعاءان یمدیدیہ ( غنیة الطالبین ص 105 ) کہ ( دعاءہاتھ اٹھا کر ہی کی جائے گا کیونکہ ) ہاتھ اٹھانا دعا کے آداب میں شامل ہے۔
مزید یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ واذا فرغ مسح یدیہ علی وجھہ ( صفحہ 106 ) کہ جب دعا سے فارغ ہو چکو تو ( ہاتھ چھوڑنے سے پہلے ) اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر پھیرو ( اور ظاہر ہے کہ منہ پر وہی ہاتھ پھیرے جائیں گے جو اٹھے ہوں گے۔

جمعہ کی سنتیں

سوال: اگر کوئی شخص ایسے وقت میں جمعہ کے لیے مسجد میں پہنچے جب جمعہ کا خطبہ جاری ہو چکا ہو تو کیا وہ سنتیں ادا کرے یا خطبہ سننے لگے اور سنتیں بعد میں پڑھے؟

جواب: واذا دخل الجامع فلا یجلس حتی یصلی رکعتین قبل ان یجلس ( غنیة الطالبین صفحہ889 )
یعنی جب کوئی شخص جمعہ ادا کرنے کی غرض سے جامع مسجد میں پہنچے تو بیٹھنے سے پہلے سنتیں پڑھے اور پھر بیٹھے ( اگرچہ خطبہ جاری ہو چکا ہو )

نمازوںکا بہترین وقت

سوال: نمازوں کے اوقات میں مختلف المسلک لوگوں نے بہت اختلاف کیا ہے مگر کیا نمازوں کے بہترین وقت کے لیے کوئی اصول بھی موجود ہے یا نہیں؟

جواب: یقینا اس غرض کے اصول موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
(( اذا صلی العبد فی اول الوقت صعدت الی السماءولھا نور حتی تنتھی الی العرش تستغفر لصاحبھا الی یوم القیمة وتقول حفظک اللہ کما حفظتنی واذا صلی العبد فی غیر وقتھا صعدت الی السماءلانور لھا فتنتھی الی السماءفتلف کما یلف الثوب او الخرقة فیضرب بھا وجھہ ثم تقول ضیعک اللہ کما ضیعتنی ))
( غنیة الطالبین صفحہ841 ) یعنی جب کوئی شخص اول وقت میں نماز ادا کرتا ہے تو وہ آسمان پر پہنچ کر نورانی بن جاتی ہے اور پھر عرش تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ ایسی نماز اپنے پڑھنے والے کے حق میں روز قیامت تک بخشش طلب کرتی رہتی ہے۔ اے نمازی! خدا تیری حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی۔
لیکن جب کوئی شخص نماز کا اول وقت گزار کر نماز ادا کرتا ہے تو ایسی نماز آسمان پر بھی بے نور رہتی ہے اور پھر یہ عرش کی طرف بھی نہیں جاتی بلکہ آسمان سے پھٹے پرانے اور گندے کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔ پھر یہ نماز اپنے نمازی سے کہتی ہے خدا تجھے برباد کرے جس طرح تو نے مجھے برباد کیا ہے۔

نماز فجر کا صحیح وقت

سوال: نماز فجر کے افضل وقت کی صحیح تعیین کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

جواب: حین حرم الطعام والشراب علی الصائم
یعنی نماز فجر کا بہترین اور افضل وقت وہ ہے جب روزہ دار کے لیے کھانا اور پینا حرام ہو جاتا ہے ( یعنی ٹھیک صبح صادق، جس وقت فجر طلوع ہو نماز فجر کا سب سے افضل وقت ہے ) ( غنیة الطالبین صفحہ811 )

سوال: حضرت والا! آپ نے تو خود نماز فجر کا ذکر فرماتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ اس نماز کا وقت وہ ہے جب روشنی خوب پھیل جائے۔ آپ کی دونوں باتوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ ( غنیة الطالبین صفحہ 812 )

جواب: اخر وقتھا الاسفار النیر ( غنیة الطالبین صفحہ814 ) ہماری اس تحریر کا مطلب یہ ہے کہ نماز فجر کا آخر وقت روشنی کے خوب پھیل جانے تک ہے اور یہ امر فجر کی نماز کے لیے زیادہ گنجائش ظاہر کرنے کے لیے ہے اور یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ نالائق اور سست لوگ بھی جماعت کا ثواب حاصل کر لیں۔ ورنہ والافضل التغلیس بھا ( غنیة الطالبین صفحہ 814 )
یعنی نماز فجر کا افضل وقت اس کو اندھیرے میں ادا کرنا ہی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کن النساءیخرجن علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلین الفجر معہ ثم یرجعن ملتفقات بمروطھن لا یعرفھن احدھن من الغلس ( غنیة الطالبین صفحہ814 ) کہ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر ادا کر کے مسجد سے باہر نکلتیں تو اندھیرے کے سبب ایک دوسری کو پہچان نہیں سکتی تھیں۔

نماز عصر کا صحیح وقت

سوال: نماز عصر کے وقت کی تعیین میں بھی ہمارے ہاں بہت اختلاف پایا جاتا ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز عصر کا ٹھیک وقت وہ ہے جب شی کا سایہ اس کے برابر یعنی ایک مثل ہو جائے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس نماز کا ٹھیک وقت وہ ہے جب شی کا سایہ اس سے دو مثل کے برابر ہو جائے۔ ٹھیک بات کیا ہے؟

جواب: حین صار ظل کل شیئٍ مثلہ ( غنیة الطالبین صفحہ 811 )
یعنی ٹھیک بات یہی ہے کہ نماز عصر کا صحیح وقت وہی ہے جب شی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو جائے اور دو مثل والی بات زیادہ سے زیادہ تاخیر سے نماز پڑھنے کے وقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ( غنیة الطالبین صفحہ 827 )
اب جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے تو اس صورت میں تو وقت الی قبل ان تغیب الشمس یعنی سورج ڈوبنے تک بھی ہے مگر خوب یاد رہے کہ والافضل تعجیلھا ( غنیة الطالبین صفحہ827 ) یعنی نماز عصر کا افضل وقت اس کا جلدی ( یعنی مثل اول میں ) ادا کرنا ہی ہے۔

Tuesday, 3 May 2011

Namaz Me Sar Khujalna, Ungliyon Ke Patakhe (Online Books/Ahkam wa Masail)

نماز میں سر کھجانا، انگلیوں کے پٹاخے ۔ ۔ ۔ ؟

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 32

جلد نمبر 39      28 رجب تا 4 شعبان 1429 ھ      02 تا 08 اگست 2008 ء
مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد  ( میاں چنوں

بعض نمازی ، نماز کے دوران اپنا سر کھجلاتے اور انگلیاں چٹخاتے رہتے ہیں ، نماز میں ایسی حرکات کی کیا حیثیت ہے ۔ کتاب و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں ۔ ( محمد اکرم بھٹی ۔ شورکوٹ )

دوران نماز انگلیوں کے پٹاخے نکالنا اور اپنا سر کھجلانے
سے نماز باطل تو نہیں ہوتی ، البتہ ایسے فضول کام نمازی کے شایان شان نہیں ہیں ، ایسی حرکات سے دوسروں کو بھی تشویش ہوتی ہے ،

دوران نماز حرکات کئی ایک اقسام پر ہیں ۔

اگر کسی حرکت پر نمازی کا کوئی فعل واجب موقوف ہو تو ایسی حرکت ضروری ہے مثلاً دوران نماز اگر پتہ چل جائے کہ اس کے رومال پر نجاست لگی ہے تو نمازی کے لئے اس طرح کے نجاست آلود رومال کو اتارنا ضروری ہے ، اس کے لئے حرکت کرنا ضروری ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز نجاست آلود جوتا اتار دیا تھا جبکہ آپ نماز جاری رکھے ہوئے تھے ۔
اگر کسی حرکت پر نماز کا کمال اور موقوف ہو تو ایسی حرکت مسنون ہے مثلاً اگر دوران نماز صف میں خلل آ جائے تو اس خلا کو پر کرنا اور صف کے قریب ہونا ، ایسی حرکت مسنون ہے ، بعض اوقات ساتھ والے نمازی کا وضو ٹوٹ جاتا ہے ایسی صورت میں حرکت کر کے خلا کو پر کر دیا جائے ۔
جس حرکت کی نماز میں ضرورت نہ ہو اور نہ ہی اس پر نماز کا کمال موقوف ہو ایسی حرکت مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ، مثلاً دوران نماز بلاضرورت اپنے سر کو کھجلانا یا انگلیوں کو چٹخارنا ، اسی طرح اپنی ناک میں انگلی ڈالنا ، یہ سب ناپسندیدہ اور مکروہ حرکات ہیں ۔
اگر کوئی نمازی دوران نماز بے فائدہ اور فضول حرکت کو جاری رکھے اور اسے مسلسل کرتا رہے تو ایسی حرکت حرام اور ناجائز ہے ۔ مثلاً قیام کی حالت میں کوئی فضول حرکت شروع کی اور پھر رکوع اور سجدہ کی حالت میں بھی اسے جاری رکھے حتیٰ کہ نماز کی صورت ہی ختم ہو جائے ، ایسی حرکت حرام ہے اور اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے ، ایسی حرکات سے نمازی کو احتراز کرنا چاہئیے ۔
اگر کوئی ضرورت پیش آجائے اور ضرورت کے مطابق حرکت کرے تو ایسی حرکت مباح ہے مثلاً سر میں کھجلی ہو تو بقدر ضرورت کھجلی کرنے کیلئے حرکت کرے یا آنکھوںپر رومال گر جائے تو اسے دور کرنے کیلئے حرکت کرے تو ایسا کرنا مباح اور جائز ہے ۔
بہرحال دوران نماز بلاضرورت حرکات کرنا جائز نہیں ہے اور ایسا کرنا نمازی کے خشوع کے بھی منافی ہے ۔ لہٰذا ایسے افعال اور ایسی حرکات سے احتراز کرنا چاہئیے ۔ ( واللہ اعلم )

Monday, 2 May 2011

Namaz Me Kandhe Aur Takhne Milana (Online Books/Ahkam wa Masail)

نماز میں کندھے اور ٹخنے ملانا ۔ ۔ ۔ ؟

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 32

جلد نمبر 39      28 رجب تا 4 شعبان 1429 ھ      02 تا 08 اگست 2008 ء
مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد 

کیا دوران نماز کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنا ملانا ضروری ہے ؟ اس کے متعلق کتاب و سنت میں کوئی وضاحت وارد ہے ۔ ( منیر احمد ۔ گجرات )


احادیث میں صف بندی کا معیار یہ ہے کہ صف میں کھڑے ہوئے نمازیوں کے ٹخنے ایک دوسرے کے برابر ہوں صرف انگلیوں کے کناروں کا ملنا کافی نہیں ہے ، ٹخنے ملانے سے صفوں میں برابری بھی آتی ہے اور درمیان میں آنے والا خلا بھی پر ہو جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ صفوں کو سیدھا کرو ، کندھوں کو برابر کرو ، خلا کو پر کرو ، اپنے بھائیوں کے لئے نرم ہو جاؤ ، شیطان کیلئے صف میں خالی جگہیں نہ چھوڑو ، جس نے صف کو ملایا اللہ اس سے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اس سے تعلق کاٹ لے گا ۔ ( ابوداؤد ، الصلوٰۃ : 666 )
ایک روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک دوسرے سے مضبوطی کے ساتھ مل جاؤ اور برابر ہو جاؤ ۔ ( مسند امام احمد ص 268 ج3 )
نمازیوں کے پاؤں مختلف ہوتے ہیں ، کسی کا پاؤں لمبا ہوتا ہے اور کسی کا چھوٹا ہوتا ہے لہٰذ صفوں کی درستی اور برابری ٹخنوں ہی سے ہو سکتی ہے صحابہ کرام کا عمل حدیث میں آیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ٹخنوں کے ساتھ ٹخنے ملا کر کھڑے ہوتے تھے ۔ چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہم میں سے ایک آدمی دوسرے کے ٹخنے کے ساتھ اپنا ٹخنا ملا کر کھڑا ہوتا تھا ۔ ( صحیح بخاری ، تعلیقاً )
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا کندھا دوسرے کے کندھے کے ساتھ اور اپنا قدم دوسرے کے قدم کے ساتھ ملا کر کھڑا ہوتا تھا ۔ ( صحیح بخاری ، الاذان : 725 )
واضح رہے کہ تخنے سے ٹخنا ملانا صرف کھڑے ہونے کی حالت میں ہے ہر نمازی کو چاہئیے کہ وہ قیام اور رکوع کی حالت میں اپنے تخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ لگا دے تا کہ صفیں سیدھی اور برابر ہو جائیں اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ساری نماز میں ایک دوسرے کے ٹخنے آپس میں چمٹے رہیں ، ہمارے ہاں اس سلسلہ میں کچھ غلو بھی کیا جاتا ہے کہ ٹخنے سے ٹخنا ملانے کیلئے حد سے زیادہ پاؤں کھول دئیے جاتے ہیں ۔ اس وجہ سے پاؤں پھیل جاتے ہیں کہ ساتھی کے کندھوں کے درمیان بہت فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے ، ایسا کرنا خلاف سنت ہے ۔ صف بندی میں مقصود یہ ہے کہ نمازیوں کے کندھے اور ٹخنے برابر ہوں اس طرح یہ بھی تفریط کی ایک صورت ہے کہ ہم دوران نماز صرف پاؤں کی انگلیاں ملاتے ہیں اور ٹخنوں کو ملانے کی زحمت نہیں کرتے ، صف بندی کا تقاضا یہ ہے کہ صفیں سیدھی اور برابر ہوں اور صفیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہوں ، کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنا ملا ہوا ہو ، اس کیلئے اپنے وجود کے مطابق پاؤں کھولنا چاہئیے ۔ ( واللہ اعلم )

Thursday, 28 April 2011

Oont Zabah Karne Ka Sahee Tariqa Kya Hai? (Online Books/Ahkam wa Masail)

اونٹ ذبح کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 2

جلد نمبر 39      25 ذوالحجہ تا یکم محرم الحرام 1428 ھ      5 تا 11 جنوری 2008 ء
مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد  

قرآن و حدیث کی روشنی میں اونٹ ذبح کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ تفصیل سے بیان کریں ، ہمارے ہاں اس کے متعلق کچھ اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( قاری حبیب اللہ بسمل ۔ فیصل آباد )

اونٹ کو ذبح نہیں کیا جاتا بلکہ اسے نحر کیا جاتا ہے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا اگلا بایاں پاؤں باندھ کر اسے تین ٹانگوں پر کھڑا کر دیا جائے پھر کوئی تیز دھار آلہ مثلا چھری ، چاقو ، نیزہ یا برچھی اس کی گردن میں ماری جائے ، جب خون بہنے کے بعد وہ ایک طرف گر جائے تو اس کی کھال اتار کر گوشت بنا لیا جائے ، چھری مارتے وقت ذبح کرنے کی دعا پڑھ لی جائے ۔ نحر کرنے کے بعد اس کی گردن پر دوبارہ چھری چلانے کی ضرورت نہیں ہے ،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اونٹ کو ذبح کرنے کی غرض سے بٹھا رکھا تھا ، ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اس کا گھٹنا باندھ کر اسے کھڑا کرو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے ۔ “ ( صحیح بخاری ، الحج : 1713 )
اس طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اونٹ کی بائیں ٹانگ باندھ کر اسے نحر کرتے تھے اور وہ اپنی باقی ٹانگوں پر کھڑا ہوتا تھا ۔ ( ابوداؤد ، المناسک : 1767 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں وضاحت ہے کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر تریسٹھ اونٹ نحر کئے ۔ آپ ان کی گردنوں میں اپنے ہاتھ سے چھوٹا نیزہ مارتے تھے ۔
( صحیح مسلم ، الحج : 1218 )
اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :

” ہم نے تمہارے لئے اونٹوں کو اللہ کی نشانیاں بنا دیا ہے‘ ان میں تمہارے لئے خیر و برکت ہے‘ انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو پھر جب ان کے پہلو زمین پر لگ جائیں تو اسے کھاؤ ۔
( الحج : 36 ) اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ کو کھڑے کھڑے نحر کرنا چاہیے ۔ ( واللہ اعلم )

Tuesday, 26 April 2011

Baghair Ijazat Khavind Ke Paise Nikalna..? (Online Books/Fatwa)

بغیر اجازت خاوند کے پیسے نکالنا ۔ ۔ ۔ ؟

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 1

جلد نمبر 39      24 ذوالحجہ 1428 ھ      4 جنوری 2008 ء
مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد  
احکام و مسائل

ہمارے گھر میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا سب کچھ ہے ، اس کے باوجود میرے خاوند گھریلو اخرات کے متعلق بہت تنگ کرتے ہیں، ایسے حالات میں مجھے شرعا اجازت ہے کہ میں گھریلو اخراجات کیلئے اپنے خاوند کی جیب سے اس کی اجازت کے بغیر پسیے نکا ل لو ں ؟ ( ایک خاتون .... ملتان)

نکاح کے بعد بیوی کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری خاوند پر عائد ہوتی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: خوشحال کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات پورے کرے اور تنگدست اللہ کی دی ہوئی حیثیت کے مطابق خرچہ دے (الطلاق : 7)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بات کی تلقین فرمائی ہے حدیث میں ہے: ”بیوی کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے اخراجات کو پورا کرے اگر وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے یا بخل سے کام لے کر پورے ادا نہیں کرتا تو بیوی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقہ سے خاوند کی آمدن سے انہیں پورا کرسکتی ہے جیسا کہ
حضرت ھند بنت عتبہ رضی اللہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاوند کے متعلق شکایت کی کہ میرا خاوندابو سفیان رضی اللہ عنہ گھریلو اخراجات پورے طور پر ادا نہیں کرتا تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اس کی آمدن سے اتنی رقم اس کی اجازت کے بغیر لے لوں جس سے گھر کا نظام چل سکے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ہاں ! اس کے مال سے اس کی اجازت ے بغیر اتنا لے سکتی ہو جس سے معروف طریقہ کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کی گزر اوقات ہو سکے یعنی گھر کا نظام چل سکے (صحیح بخاری التفات:5364)
امام بخاری نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے :
اگر خاوند اخراجات پورے نہ کرے تو بیوی کیلئے جائز ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے اس قدر لے لے جس سے معروف طریقہ کے مطابق اہل خانہ کا گزرا ہو سکے“
مندرجہ بالا احادیث کے پیش نظر اگر خاوند گھریلو اخراجات کی ادائیگی میں کنجوسی کرتا ہے تو بیوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اتنی رقم لے سکتی ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے لیکن یہ اجازت صرف ضروریات کیلئے ہے فضولیات کے نہیں نیز اگر ایسا کرنے سے بیوی خاوند کے درمیان اختلاف اور تعلقات کے کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہے تو اس طریقہ سے اخراجات پورے نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ
بیوی خاوند کے تعلقات کی استواری مقدم ہے ،اس بات کا فیصلہ بیوی خود کر سکتی ہے کہ ایسا کرنے سے تعلقات تو خراب نہیں ہوں گے ، بہرحال ایسے حالات میں ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بیوی کو اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر رقم لینے کی شرعاً اجازت ہے جس سے معروف طریقہ کے مطابق گزر اوقات ہو سکے۔ (واللہ اعلم)

Monday, 25 April 2011

Namaz Me Tashadud Ke Mutaliq Chand Sawalat (Online Books/Ahkam wa Masail)

نماز میں تشھد کے مطلق چند سوالات

ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 1

جلد نمبر 39      24 ذوالحجہ 1428 ھ      4 جنوری 2008 ء
مولانا ابو محمد عبدالستارالحماد 

اگر امام درمیانی تشھد بیٹھے بغیر کھڑا ہو جائے تو کیا مقتدیوں کو بھی کھڑا ہو جانا چاہیئے یا وہ اپنا تشھد مکمل کر لیں اور اگر امام سیدھا کھڑا ہو کر پھر بیٹھ جائے تو اس صورت میں سجدہ سھو کرنا پڑے گا یا نہیں ،نیز اگر امام آخری تشھد میں جلدی سلام پھیر دے تو کیا مقتدی حضرات بھی اس کے ساتھ سلام پھیر دیں یا وہ اپنا تشھد مکمل کر کے سلام پھیریں ؟

اگر امام دو رکعت پڑھنے کے بعد تشھد پڑھے بغیر کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں ۔
1.
بالکل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے اسے خود یاد آجاے یا مقتدیوں کے یاد دلانے پر وہ بیٹھ جاتا تو اس صورت میں کوئی سجدہ سھو نہیں ہے۔
2. اگر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے تو اسے یاد آنے یا مقتدیوں کے یاد دلانے پر نہیں بیٹھنا چاہیئے بلکہ اسی حالت میں نماز مکمل کر کے آخر میں دو سجدے سھو کے طور پر کرے،اس صورت میں مقتدی حضرات بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور آخر میں سجدہ سھو میں شریک ہوں گے ۔
حدیث میں ہے کہ اگر امام دو رکعت میں بیٹھے کی بجائے کھڑا ہو جائے تو اگر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور اپنی نماز مکمل کر لے اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو یاد آنے پر مت بیٹھے بلکہ آخر میں دو سجدے سھو کے طور پر کر دے ۔(ابوداؤد،الصلوۃ:1036)
اس روایت کو بیان کرنے کے بعد امام ابوداؤد نے لکھا ہے کہ میری اس کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے تاہم علامہ البانی مرحوم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔اگر امام سیدھا کھڑا ہونے کے بعد پھر بیٹھ گیا تو اس صورت میں بھی سجدہ سھو کرنا ہوں گے اور مقتدی بھی اس میں سجدہ سھو میں شریک ہوں گے ۔
اگر امام نے اس قدر جلدی سلا پھیر دیا ہے کہ مقتدی حضرات تشھد اور درود نہیں پڑھ سکے تو انہیں تشھد اور درود پڑھ کر سلام پھیرنا چاہیئے اور اگر انہوںنے تشھد اور درود پڑھ لیا ہے لیکن دیگر ادعیہ وغیرہ نہیں پڑھ سکے تو اس صورت میں مقتدی حضرات کو امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیئے کیونکہ حدیث میں ہے : امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ (صحیح بخاری، الصلاۃ: 689 )
پہلی صورت میں امام کے ساتھ ہی مقتدیوں کو سلام پھیرنا چاہیئے بلکہ ان کا تشھد مکمل نہیں ہوا تھا اور اس کا مکمل کرنا ضروری تھا جبکہ دوسری صورت میں مقتدی حضرات تشھد اور درود پڑھ چکے ہیں لہٰذا انہیں امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیئے۔ (واللہ اعلم)

Thursday, 24 February 2011

Namaz Me Susti Aur Kahili - Fatwa (Online Book)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نمــاز میـں سُـستی و کاہلــی
سوال :موجودہ دورمیں بہت سے لوگ نماز کی ادائیگی میں سستی برتتے ہیں ,اوربعض توایسے ہیں جوبالکل پڑھتے ہی نہیں ,ایسے لوگوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ نیزان لوگوں کے تعلق سے ایک مسلمان اورخصوصاً اسکے والدین ,اہل وعیال اوردیگرعزیزواقارب پرکیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
جواب : نماز میں سستی برتنا بہت بڑا گناہ نیزمنافقوں کی خصلت ہے,اللہ تعالى کا ارشاد ہے :   ] إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلاَةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآؤُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللّهَ إِلاَّ قَلِيلاً [    [سورة النساء:142]          "بے شک منافق اللہ کےساتھ دھوکہ بازی کرتے ہیں ,حالانکہ اللہ نے ہی انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ,اورجب یہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توالکساتے ہوئے , لوگوں کو دکھاتے ہیں , اوریہ اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں "نیزمنافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :
 
]وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلاَةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلاَ يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَارِهُونَ [ ] سورة التوبة :54]  "اوران کیطرف سے ان کی خیرات کے قبول نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اللہ اوراسکے رسول کے ساتھ کفرکیا , اوریہ نماز کے لئے نہیں آتے مگرسُستی سے,اوراللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں توبرے دل سے "
نیز نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : "منافقوں پرسب  سے گراں عشاء اورفجرکی نماز ہے ,اوراگرانہیں ان کے اجروثواب کا علم ہوجائے تو کبھی پیچھے نہ رہیں گے , چاہے سُرین کے بل گھسٹ کرہی کیوں نہ آنا پڑے" (متفق علیہ)

لہذا ہرمسلمان مردوعورت پرسکون واطمینان ,خشوع وخضوع اورحضورقلب کے ساتھ وقت پرپنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی واجب ہے , اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :   ] قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ["فلا ح یاب ہوگئے وہ مومن جواپنی نمازمیں خشوع برتتے ہیں "اورصحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جب ایک نابینا صحابی نے اپنی نماز غلط طریقے سے اداکی اوراس میں اطمینان وسکون ملحوظ نہیں رکھا توآپ نے انہیں نماز دہرانے کا حکم دیا-
مردوں کے لئے خاص طورپرمسجد میں مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نمازاداکرنا ضروری ہے ,جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادہے :   "جوشخص اذان سن کربلاعذر مسجد نہ آئے اس کی نماز درست نہیں"  [ابن ماجہ ,دارقطنی ,ابن حبان اورحاکم بسند صحیح]۔ اورجب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ عذرکیا ہے؟ توفرمایا ":خوف یا بیماری"
اسی طرح صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضرہوئے اورعرض کیا کہ" اے اللہ کے رسول ! مجھے مسجد لے جانے والا کوئی نہیں ,توکیا میرے لئے اجازت ہے کہ اپنے گھرہی میں نمازپڑھ لیاکروں؟"  آپ نے انہیں اجازت دیدی, مگرجب وہ واپس چلے تو پھرانہیں بلایا اورپوچھا : "کیا تم اذان سنتے ہو ؟جواب دیا :ہاں, آپ نے فرمایا :"پھرتومسجد میں آکرہی نمازپڑھو"-
نیزابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک دوسری روایت ہے کہ نبی صلی اللہ  علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :   "میں نے ارادہ کیاکہ حکم دوں اورنماز قائم کی جائے اورکسی شخص کو مقررکردوں جولوگوں کو نمازپڑھائے ,پھرمیں کچھ لوگوں کو لےکرجن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھّے ہوں ان لوگوں کے پاس جاؤں جوجماعت میں حاضرنہیں ہوتے ,اورانکے ساتھ ان کے گھروں کوآگ لگادوں"(متفق علیہ)مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت مردوں کے حق میں واجب ہے, اورجماعت سے پیچھے رہنے والا عبرتناک سزاکامستحق ہے , دعا ہے کہ اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کے حالات درست فرمائے اوراپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے (آمین)
رہا سرے سے نمازہی چھوڑدینا ,چاہے کبھی کبھارہی کیوں نہ ہو ,توعلماء کے صحیح ترین قول کے مطابق یہ کفر اکبرہے بھلے ہی وہ نماز کے وجوب کا منکرنہ ہو, اوراس حکم میں مردوعورت دونوں یکساں ہیں, نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :   "آدمی اورکفروشرک کے درمیان نمازچھوڑنے کا فرق ہے "(صحیح مسلم)
ایک دوسری حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا : " ہمارے اوران(کافروں) کے درمیان نماز کا فرق ہے ,توجس نے نماز چھوڑی اُس نے کفرکیا " (اس حدیث کو امام احمد اورائمہ سنن نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے)
نیز اس مفہوم کی اوربھی بہت سی حدیثیں وارد ہیں۔
مگرجوشخص نماز کے وجوب کا منکرہو بھلے ہی وہ نمازپڑھتا ہو, تو اہل علم کے اجماع کے مطابق وہ کافرہے – اللہ تعالی ہمیں اورتمام مسلمانوں کو اس بُری خصلت سے محفوظ رکھے (آمین)تمام مسلمانوں کیلئے باہم حق بات کی نصیحت کرنا نیزنیکی اورتقوىٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا ضروری ہے ,چنانچہ جوشخص نمازسے پیچھے رہتا ہے,یا نمازمیں سستی کرتا ہے, بعض اوقات بالکل نمازپڑھتا ہی نہ ہو اسے اللہ کے غضب وعقاب سے ڈرناچاہئے ,خصوصاً اس کے ماں ,باپ, بھائی ,بہن, اورگھروالوں کو اسے برابرنصیحت کرتےرہنا چاہئے , یہاں تک کہ وہ راہ راست پرآجائے , ایسے ہی اگرعورتیں نماز میں سستی کریں یاچھوڑدیں ,تو انہیں بھی نصیحت کرتے ہوئے اللہ کی ناراضگی اوراسکے عقاب سے ڈرانا چاہئے ,بلکہ نصیحت نہ قبول کرنے کی صورت میں ان کا بائیکاٹ کرنا اوران کے ساتھ مناسب تادیبی کارروائی کرنا بھی ضروری ہے ,کیونکہ یہی باہمی تعاون اورامربالمعروف ونہی عن المنکرکا تقاضا ہے جسے اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پرواجب قراردیا ہے , اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : )   وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ  [   [سورة التوبة  :71]"مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں ایک دوسرے کے مددگارہیں ,یہ بھلی بات کا حکم دیتے اوربری بات سے روکتے ہیں اورنمازقائم کرتے ہیں اورزکو'ۃ دیتے ہیں ,اوراللہ اوراسکے رسول کا کہا مانتے ہیں ,یہی وہ لوگ ہیں جن پراللہ رحم کرے گا , بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے "
اورنبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : " جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں توانہیں نمازپڑھنے کا حکم دو, اوردس سال کی عمرمیں نماز نہ پڑھیں توانہیں مارو اورانکے بسترعلیحدہ کردو"
مذکورہ حدیث میں جب سات سال کے بچوں اوربچیوں کونمازکاحکم ,اوردس برس کی عمرمیں نمازچھوڑنے پرمارنے کا حکم دیا جارہا ہے توبالغ شخص کونماز کا حکم دینا ,نیزسستی وکوتاہی پرنصیحت کرتے ہوئے اسکے ساتھ مناسب تادیبی کارروائی کرنا بدرجۂاولی واجب ہوگا-آپس میں حق بات کی تلقین اورحق کی راہ میں پیش آمدہ مصائب پرصبروتحمل ضروری ہے ,کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ) وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ  إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ [  [  سورة العصر: 1-3]  "قسم ہے عصرکے وقت کی ,بیشک سارے انسان گھاٹے میں ہیں ,مگروہ لوگ جو ایمان لائے , اچھے کام کئے اورایک دوسرے کوحق پرچلنے کی اورمصیبت میں صبرکرنے کی تلقین کرتے رہے" 
اورجوشخص بالغ ہوجانے کے بعد نمازنہ پڑھے اورنہ ہی نصیحت قبول کرے ,تو اسکا معاملہ شرعی عدالت میں پیش کیا جائیگا , تاکہ اس سے توبہ کرائی جائے ,اگرتوبہ کرکے راہ راست پرآجاتا ہے تو ٹھیک ,ورنہ اسے قتل کردیا جائیگا ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانوں کے حالات درست فرمائے ,انہیں دین کی سمجھ دے , نیکی وتقوى' کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے ,بھلی بات کا حکم دینے ,بری بات سے روکنے ,حق بات کی تلقین اورراہ حق میں پیش آمدہ مصائب پرصبرکرنے کی توفیق عطافرمائے ۔(آمین)

بحوالہ: نماز کے متعلق اہم فتاویٰ:(از علامہ ابن باز رحمہ اللہ)