Sunday, 25 March 2012
Sunan Nasai Shareef - Urdu - Deobandi Scholar - سنن نسائی شریف - اردو - Hadith Book
Allah Ta'ala Ka Wujood - اللہ تعالیٰ کا وجود - Online Books
اللہ تعالیٰ کا وجود
اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود (جس کا ہونا ضروری)ہے۔ وہ یقینا موجود ہے ، اس کے وجود میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ وہ ازلی ہے کیو نکہ اسکی ابتدا نہیں ہے۔ ہمیشہ سے ہے ، اسکی انتہانہیں ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔اسکے وجود پربے شمار دلائل ہیں ، جن سے ا س کا وجود ثابت ہوتا ہے۔
اس دنیا میں 2 قسم کی چیزیں ہیں : 1 انسان کی بنائی ہوئی چیزیں جیسے کاغذ،کتاب، مدرسہ مکان وغیرہ ان کو مصنوعاتِ انسانی کہتے ہیں۔
2اللہ سبحا نہٗ و تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزیں جیسے زمین،آسمان، چاند ، سورج، ستارے،دریا، پہاڑ، رات اور دن وغیرہ۔ ان کو مصنوعاتِ الٰہی کہتے ہیں۔
جب آپ کسی عمارت کو دیکھتے ہیں تو یقینا یہ اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس کابنانے
والاکوئی ضرورہے یا جب کوئی کتاب پڑھتے ہیں توآپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کالکھنے والاکوئی ضرور ہے۔ اسی طرح زمین، آسمان، چاند اور سورج وغیرہ کو دیکھتے وقت بھی انسان کے دل میں یہ خیال آناچاہئے کہ اس کا بھی کوئی بنانے والا ضرورہے۔ بس جس نے زمین و آسمان اور دیگر مخلوق کو بنایا ہے وہی اللہ ہے اور وہ اب بھی سورج، چاند وغیرہ کوپہلے ہی کی طرح چلارہاہے۔ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ اب بھی موجودہے۔
فرمانِ الٰہی ہے :۔ (ترجمہ)1’’کیا(اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ)کے وجودمیںبھی شک ہوسکتاہے؟جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایاہے۔‘‘(ابراہیم 14:آیت10)
2’’اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں، زمین اوران کے درمیان کی تمام چیزوں کو 6 دن میں بنایاہے۔‘‘( السجدہ 32 : آیت 4)دنیا کی تمام چیزیں اللہ کر یم کے وجو د کو ثابت کرتی ہیں ان پر غور کرکے اللہ ربّ ا لعزّت کی ہستی کو پہچانئے۔ یہ زمین جس پر آپ دن رات چلتے ہیں، اس کے متعلق اللہ کریم فرماتے ہیں:۔ (ترجمہ)’’ہم نے ہی زمین کو بچھایاہے، توہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں۔ ‘‘ ( الذّٰ ر یٰت51 : آیت48)
زمین کے فرش میں 2 متضاد اوصاف نرم و سخت کاجمع کرنااللہ عزّوجل ہی کا کام ہے۔ نرم اتنی کہ ایک خلال کے تنکے یا ناخن سے کھودنا شروع کر دیں تو برابر کھدتی چلی جائیگی۔ سخت(مضبوط) اتنی کہ بڑے بڑے قلعوں، محلات اور بلندوبالا پہاڑوں کے بوجھ اٹھانے کے باوجود کہیں سے کمزور نظر نہیں آتی۔ یہ ساری اللہ تعالیٰ کے وجود کی واضح نشانیاں ہیں۔
Aap s.a.w. Ka Silsila e Nasb Aur Haalat e Zindagi Ek Nazar Mein - آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا سلسلہِ نسب اور حالات زندگی ایک نظر میں - Online Books
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا سلسلہِ نسب اور حالات زندگی ایک نظر میں
محمدصلی اللہ علیہ و سلم بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف بن قُصّی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہربن مالک بن النضربن کنانۃ بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان بن اُداد بن مقوم بن ناہور بن طیرہ بن یعروب بن یشجوب بن نعبت بن اسمٰعیل بن ابراہیم(i) بن تعریح (آزر) بن ناہور بن سعروغ بن راعو بن فالِخ بن ایبر بن شعلِک بن ارفخشض بن سام بن نوح( علیہ السلام ) بن لمک بن متوشلخ بن اخنوخ (ادریس علیہ السلام ) بن یارد بن مہلیل بن قینان بن یعنِش بن شیت بن آدم ( علیہ السلام ) (سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم ابن ہشام رحمہ اللہ )
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نہایت خوبصورت، امین، صادق، بااخلاق، شیریں گفتار، درمیانہ قد تھے اور رنگ گورا تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی
شادی سیدہ خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہا سے کی جو بیوہ تھیں۔ شادی کے وقت سیدہ خدیجۃ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر 25 سال تھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی اور اپنی جوانی کے تقریباً 25 سال صرف ایک ہی بیوی کی رفاقت میں گذار دئیے۔ ان سے قاسم،زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے۔فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ سب بچوں کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں ہی ہوگیاتھا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے 6 ماہ بعد ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر جب40 سال کی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی کا نزول شروع ہوا اور اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تبلیغِ دین کا کام شروع کیا جو 23 سال جاری رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے 63 سال کی عمرمیں مدینہ منورہ میں بروز پیر12 ربیع الاول 11 ھمیں وفات پائی۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نہایت خوبصورت، امین، صادق، بااخلاق، شیریں گفتار، درمیانہ قد تھے اور رنگ گورا تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلی
اِ نَّا ِللّٰہِ وَ ِا نَّآ اِ لَـــیْہِ رَا جِعُـوْ نَ
اَ للّٰـھُـمَّ صَـلِّ وَسَـلِّمْ عَلیٰ نَبِیّکَ اِ وَحَبِیْبِکَ مُحَــمَّدٌ وَّ بَا رِکْ وَسَلِّمْ
اَ للّٰـھُـمَّ صَـلِّ وَسَـلِّمْ عَلیٰ نَبِیّکَ اِ وَحَبِیْبِکَ مُحَــمَّدٌ وَّ بَا رِکْ وَسَلِّمْ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام ’’محمد‘‘ قرآن مجید میں 4 جگہ ہے :۔
1 محمدصلی اللہ علیہ و سلم اﷲ کے رسول ہیں ۔(الفتح 48 : آیت29 )
2 محمد صلی اللہ علیہ و سلم تو صرف (اﷲ تعالیٰ کے) رسول ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں( اٰل عمران 3 : آیت 144)
3 محمد صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اﷲ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ (الاحزاب 33 : آیت 40)
4 (جو) ایمان لائے (قرآن) پر جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل کیا گیا ہے اور وہ برحق ہے ان کے رب کی طرف سے ۔(محمد47 :آیت 2)
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
جن پر اللہ کریم اپنی رحمتیں نازل فرماتے ہیں
جن کے لئے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں
جن کی اطاعت اللہ ربّ العزّت کی اطاعت ہے
جن کی نافرمانی، اللہ ربّ العزّت کی نافرمانی ہے
جن کی اطاعت میں جنت اور نافرمانی میں جہنم ہے
جن کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے بہترین نمونہ قرار دیا
جنہیں اللہ تعالیٰ نے معراج جسمانی کے اعزاز سے نوازا
جن کے بعد اب قیامت تک کوئی دو سرا نبی آنے والا نہیں
جن کے کسی بھی فیصلہ یا حکم سے روگردانی سارے نیک اعمال برباد کر دیتی ہے
احتیاط کیجئے!!!
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔ ’’جس نے میرے طریقہ سے منہ موڑا،اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘‘(بخاری،مسلم)
Al-Sunnah 41 - SIlamic Magazines

قبروں کی مجاوری شریعت کی نظر میں
میت کو غسل دینے والے پر غسل
مسواک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک پیاری سنت
حلال جانوروں کا پیشاب
میت کو غسل دینے والے پر غسل
مسواک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک پیاری سنت
حلال جانوروں کا پیشاب
Al-Sunnah
Magazine No.41
Subscribe to:
Posts (Atom)
